آنکھوں دیکھا: ڈنگر ڈاکٹر

21

میں انیس سو پچانوے کی گرمیوں کی چھٹیوں میں بینکاک تھائی لینڈ گیا تو دیکھا کہ سڑکوں پر ننگی اور آدھ ننگی عورتیں احتجاج کر رہی ہیں وجہ یہ معلوم ہوئی کہ  ایک کالم نگار نے تھائی عورتوں کو پراسٹیچیوٹ  لکھ دیا تھا  اتنی سی بات پر  سڑکیں کسبی عورتوں سے بھر گئیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ ہم کو گالی دی گئی ہے ہم ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کماتی ہیں ہم سیکس ورکر ہیں لحازہ  ہمیں  سیکس و رکر کے نام سے لکھا اور پکارا جاے ۔ تیئس سال کی مسلسل تعلیمی جدوجہد  اور میرٹ پر سلیکشن کے کے بعد ایک ایسا ڈاکٹر بنتا ہے جس کو انگریزی میں  ویٹرینری ڈاکٹر اردو میں جانوروں کا ڈاکٹر اور پنجابی میں ڈنگر ڈاکرکہتے ہیں ۔پنجابی دنیا کی پانچ بڑی زبانوں میں سے ایک  زبان ہے اس میں لفظ ڈنگر ڈاکٹر کا کوئی نعمل بدل نہیں ہے اور زمانہ قدیم سے یہی  مستعمل ہے۔ الحمدللہ میں انسانوں اور جانوروں دونوں کا ڈاکٹر ہوں اورمیں ان دونوں کا موزنہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں انسانی ڈاکٹر کو صرف ایک انسانی باڈی پڑھنی پڑتی ہے جبکہ ڈنگرڈاکٹر  کو آٹھ ڈومیسٹک انیملز کو پڑھنا پڑتا ہے تو اس کا مطلب  یہ ہوا کہ ڈنگر ڈاکٹری آسان کام نہیں ہے

اس کے علاوہ انسانی ڈاکٹر بڑی آسانی سے مریض سے پوچھ لیتا ہے کہ کیا مسئلہ ہے لیکن  جانور بےچارہ بلکل بھی نہیں بتا سکتا کہ پرابلم کہاں ہے اور کب سے ہے یہ سب ڈنگر ڈاکٹر کی مہارت پر منحصر ہے کہ کیسے مینج کرتا ہے ان دونوں انسانی اور ڈنگر ڈاکٹر کا انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں بہت زیادہ ہاتھ ہے ۔سیانے کہتے ہیں علاج سے پرہیز بہتر ہے تو

ڈنگر ڈاکٹر علاج سے پہلے اور درمیان کے ٹائم میں انسانی جسم کی  حفاظت میں اہم رول بھی  ادا کرتا ہے جانور جو ہم روز مرہ میں کھاتے ہیں اور ڈیری مصنوعات جو ہم استعمال کرتے ہیں  ان کی دیکھ بھال نشوو نما اور علاج  کا زمہ  ڈنگر ڈاکٹر کے سر پر ہے

اور وہ اپنی پوری ایمانداری سے اپنی زمہ داریاں پوری کرتا ہے سوچیں اگر ڈنگر ڈاکٹر نہ ہو تو ہم لوگ کہاں سے اپنی میٹ  اور ڈیری پراڈکٹس کی  ضروریات پوری کریں گے پوری دنیا میں ڈنگر ڈاکٹر کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ ایک ملٹی بلین ڈالرزانڈسٹری ہے اس پیشے سے کروڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اس شعبے میں ماسٹر ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں لی جاتی ہیں جتنی بھی دوائیں بنتی ہیں  انسانوں کے استعمال سے پہلے جانوروں پر تجربات  بھی ان ہی ڈنگرڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہوتے ہیں پاکستان میں ڈنگر ڈاکٹر ایک ستارویں گریڈ کا معززآفیسرہے ہر روز مذبح خانوں میں زبح ہونے والے تمام جانوروں پرڈنگر ڈاکٹر کی مہر ثبت ہوتی ہے

لیکن مولوی خادم حسین رضوی جو ایک نوویں گریڈ کی امام مسجد کی  پوسٹ سے نکالا ہوا مولوی ہےنے اس لفظ کو گالی بنا دیا اور اپنی ایک تقریر جو انہوں نے شیخ الاسلام جناب ڈاکٹر حضرت محمد طاہر القادری  صاحب کی شان میں گستاخی کرتے ہوے کی میں  لفظ ڈنگر ڈاکٹر کو گالی کے طور پر استعمال کیا ۔ جس مذہب  اسلام میں غیر مذہب کے سکالرز کے ساتھ ساتھ انکےمذہب کو بھی برا کہنے کی ممانعت ہو اس میں ہمارے علما  حضرات ایک دوسرے کو نازیبا الفاظ سے پکارتے  ہوے ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں ٹھیک ہے کتا کتے کا ویری ہوتا ہے کے مصداق ایک پروفیشنل جیلسی  ہر پیشے میں ہوتی ہے  لیکن  ہم مولوی صاحب کو  ہمارے اس معزز پیشے کو توہین  آمیزانداز میں گالی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہرگزنہیں دیں گے ۔

میں نارتھ امیریکن ویٹنیرین اسوسی ایشن کے خزانچی کی حیثیت سے بھی مولوی خادم حسین رضوی صاحب کے اس فعل کی پرزور مزمت کرتا ہوں اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

  ہم شاید تھائی لینڈ کی ان سیکس ورکرز کی طرح سڑکوں پر تو نہ آئیں لیکن مولوی حضرات اور ان کے گماشتوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کے باز آجاؤ اور اپنی لڑائی میں جتنے کوسنے ایک دوسرے کو دینے ہیں دو لیکن ہمارےمعزز پیشے کو بدنام نہ کرو خود تو بدنام ہو کرنام کما لوگے لیکن ہمارا نام بدنام کر کے ہمارے بچوں کی روٹی روزی پر لات  مار دوگے ۔ للہ کسی کو تو نیک نام رہنے دو۔

عامر بیگ