اونچے قد بونے لوگ  – مہنگے کپڑے سستے لوگ

75

1920 میں جب قائداعظم محمد علی جناح کی شادی ھوئ تو انھوں نے اپنے غسل خانہ کی تعمیر میں اس وقت کے پچاس ھزار روپے خرچ کئے ۔مگر جیسے ھی قدرت کی طرف سے انھیں اپنی قوم پر بطور گورنر جنرل کی نازک ذماداری سونپی گئی تو یہ عظیم انسان صرف ڈیڑھ روپے کا موزہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ھیں کہ “ایک غریب مسلمان ملک کے گورنر کو اتنی مہنگی چیز نہیں پہننی چاہئے ۔

ایک اور واقعہ پڑھیں ۔ایک دفعہ سرکاری استعمال کے لئے 37 روپے کا فرنیچر لایا گیا ۔قائداعظم نے لسٹ دیکھی تو دیکھا کہ سات روپے کی ایک کرسی کا اضافہ ھے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اضافی کرسی آپ کی بہن فاطمہ کے لئے ہے تو آپ نے ایک لمحہ ضائع کئے بنا اسکو لسٹ سے نکال دیا اور فرمایا کہ اس کے پیسے فاطمہ جناح سے لو۔

اسی طرح ایک دفعہ گاڑی میں کہیں جا رہے تھے تو ایک جگہ ریلوے ٹریک بند ہو گیا۔ آپ کا ڈرائیور اتر کے وہاں پر موجود شخص سے کہنے لگا کہ گورنر جنرل آئے ہیں ٹریک کھولو۔ مگر ہمارے عظیم لیڈراور بانی پاکستان نے فرمایا کہ نہیں اسے بند رہنے دو۔ میں ایسی مثال قائم نہیں کرنا چاہتا جو پروٹوکول پر مبنی ہو۔
کیوں ھماری زمین اب اتنی بانجھ ھو گئی ھے کہ جناح جیسا ایک ھیرا بھی ھماری مٹی میں دوبارہ پیدا نہ ھو سکا ۔
کہاں وہ ایک اکیلا شخص جو دیکھنے میں انتہائی کمزور ناتواں مگر عزم ارادے اور کردار میں میں ہمالیہ پہاڑ سے بھی مضبوط اور بلند تر کہ اسکا بڑے سے بڑے حریف اس کے سامنے عزت واحترام سے نظریں جھکا لے ۔اور کہاں آج کے ھمارے اونچے قدوں والے بونے اور مہنگے مہنگے کپڑوں میں ملبوس سستے لوگ ایک دفعہ پھر سے اس ملک کے بدقسمت عوام کی آنکھوں میں جلنے والے امید کے دیئے اور خوبصورت خوابوں کو ریزہ ریزہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے گلے مل رھے ھیں ۔ھم لوگ آج تک ان لوگوں کو سر آنکھوں پہ بیھٹا کر رکھتے آرھے ھیں حالانکہ ان کی اوقات اور ظالمانہ سوچ اس قابل تھی کہ انھیں ھمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بنایا جاتا کی اپنی دھرتی ماں کو ھی یہ درندے مسلسل نوچ رھے ھیں اور ابھی بھی انکا انتقام پورا نہیں ھوا ھے ۔مشاھد حسین، شیری رحمان اور احسن اقبال اور ان جیسے تمام لوگ جو کیمروں کے سامنے آکر انتہائی ڈھیٹ اور بے شرمی سے ھمیں بتا رھے ھیں کہ ابھی اس مللک کی سیاہ راتٰوں کو ھم نے پرنور سویرے میں نہیں بدلنے دینا ۔یہی تو جناح کی جیب کے وہ کھوٹے سکے اور انگریزوں سے وفاداریاں دکھا کر جاگیریں ھتیانے والوں کی مکروہ چہرہ اولادیں ھیں جو ھر صورت میں اس قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑ کر رکھنا چاہتے ھیں ۔

ٹی وی سکرین پر ان کی شکلیں ملاحظہ فرمائیں، کیا یہ میرے جناح کے پاکستان کے نمائندے ھو سکتے ھیں ؟
درحقیقت یہ اللہ کا وہ عذاب ھے جو بطور قوم ھمارے اجتماعی گناھوں کی سزا کی صورت میں ھم پر مسلط ھے ۔
ذرہ اس قوم کی بدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ ابتدائے جوانی میں اعتزازاحسن جیسا دانشور ھمارہ آئیڈیل ھوتا تھا قدرت کی ستم ظریفی کہ وھی اعتزازاحسن بھیگی بلی بنا بلاول اور آصفہ کے پیچھے کھڑا تابعداری دکھا رھا ھے ۔اعتزاز صاحب عزت اور بڑاپن اور اعلئ کردار جیسی نعمتیں عطیہ خدا وندی ھے اور یہ بڑے نصیب کی با ت ھے بلکہ بڑے ھی نصیب کی بات ھے ۔

آپ کے سارے علم کی ایسی کی تیسی جو اپنی آنکھوں کے سامنے دھرتی ماں کو لٹتے ھوئے دیکھتا ھے مگر اپنی پارٹی کے خلاف ایک لفظ زبان سے ادا نہیں کر سکتا، ارے تم سے زیادہ عزت دار اور آعلئ کردار تو اویس لغاری کے حلقے کا غریب لاچار غلام ھے جو یہ جرآت تو رکھتا ھےکہ اپنے بزدل وڈیرے کے سامنے سوال کر سکتا ھے ۔اعتزازاحسن آپ بھی اونچے قد کے بونے آدمی نکلے ۔

مشاہد حسین جیسا ایک ذھین اور اعلئ تعلیم یافتہ شخص جسے قدرت کی طرف جو عزت عطا کی گئی آخری وقت پر اس کو اپنے ھاتھوں سے برباد کرنے کی راہ پر چل نکلا اور ایک سینیٹ کی سیٹ کے لئے خاندانی عزت داؤ پر لگادی اور عین اس وقت شریفوں کے کیمپ میں گھسا جب اس ملک کی عدالتوں نے ان لٹیروں کی لوٹ مار کی تصدیق کی جسکا صاف مطلب یہ تھا کہ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ھو جائے کہ موصوف کا مفاد اشرافیہ اور سٹیٹس کو کے پجاریوں کے ساتھ تھا اور مرتے دم تک رھے گا ۔مشاہد بھی مہنگے لباس پہننے والا سستا آدمی ھے ۔اپنے زمانے کا افلاطون احسن اقبال جو جب لیکچر جھاڑتا ھے تو لگتا ھے اس دنیا کیا اگلی دنیا کے بھی حالات بدل دے گا مگر کردار کا بونا اور سٹیٹس کو کا ایک اور پجاری جو اپنے سامنے تمام ادارے برباد ھوتے دیکھتا رھا شریفوں کے ھر جرم پر پردہ ڈالتا رھا مگر زبان نہ کھولی صرف ایک وزارت اور قوم اسمبلی کی ایک سیٹ کے لئے ۔یہ شخص قد میں لمبا مگر کردار کا بونا ھے. 

رھی بات شہری رحمان کی، تو محترمہ کی شخصیت اور طور اطوار اس ملکہ جیسے ھیں جس کواس کے درباریوں نے جب یہ بتایا تھا کہ “ملکہ عالیہ عوام کو اب تو روٹی کا ایک نوالہ نہیں مل رھا” تو ملکہ نے بڑے تعجب سے کہا تھا کہ ارے یہ لوگ پھر ڈبل روٹی کیوں نہیں کھاتے ۔تو ذرا دل پہ ھاتھ رکھ کر بتائیے کہ شیری جیسی فیشن کا سمبل رہنما ھمارے میلے کچیلے غریب عوام کے سامنے منہ پر رومال رکھ کر خطاب کرکے آپ کے مقدر بدل۔سکتی ھے؟ زرداری کے ھر اول دستے کا کردار ادا کرنے والی یہ خاتون ایک انتہائ بے حس عورت ھے۔

عظیم اطالوی شاعرھوریس نے تو شاعر کے بارے میں کہا تھا کہ برا شاعر جونک کی طرح ھوتا ھے جسے چمٹ جائے خون چوس کر ھی بدن سے الگ ھوتا ھے ۔ھمارے جعلی سیاستدان تو اب بھی قوم کا مزید خون چوسنےکے لئے لمبی پلاننگ بنا رھے ھیں ۔

ان لوگوں کے اندر اقتدار کی سرمستی، اختیار کا نشہ، طاقت کا غرور اور ھر ناجائز طریقے سے دولت کے انبار اکھٹے کرنے کا جنون اس قدر گہری جڑیں مضبوط کر چکا ھے کہ اس سے الگ ھونے کا تصور ھی ان کے لئے جان لیوا بن گیا ھے ۔

دوسری طرف ساری عمر قانون انصاف اور مساوات کا درس دینے والے ھمارے دانشور اور صحافت کے بڑے بڑے نام ساری عمر ھمارے ساتھ دھوکہ کرتے رھےجبکہ اندر سے یہ لوگ بھی دل سے چاہتے ہیں کہ یہ نظام ایسے ھی چلتے رہنا چاہئے کہ انھیں بھی عام آدمی کہ منہ میں زبان آنے اور اپنے آقاؤں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرآت پر دورے پرنا شروع ہوگئے ھیں ۔آج جبکہ پوری قوم کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑنے اور کرچی کرچی ھوئے ارمانوں کو دوبارہ جھڑتے دیکھنے کی ھلکی سی امید دکھائی دینے لگی ھے تو یہ لوگ صبح شام اپنے قلم اور زبانوں سے ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن کے کھڑے ھو گئے ھیں مگر ان لوگوں کو اب بھی سامنے دیوار پر لکھا صاف صاف نظر نہیں آرھا کہ آج کی دنیا میں اب غلاموں کی منڈی نہیں لگتی ۔خد کے واسطے اپنے قلم کی حرمت کو مزید داغ دار مت کرو اور سچ کو مزید نہ چپھاؤ کہ ان لوگوں کو کون سمجھائے کہ کردار کی تعمیر کے بغیر علم کا حصول ایک بےکار مشغلہ ھے اور کردار کی پختگی کے بنا علم بوجھ ھے جو ھمارے یہ رہنما اور دانشور اٹھا اٹھا کے پھر رھے ھیں ۔

ذرہ اس عظیم ھستی کا یہ واقعہ تو پڑھیں اور دیکھیں کے ھمارے بونے اس کی خاک کو بھی چھو سکتے ھیں 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ اور اطراف مدینہ میں جب قحط پڑا تو ہوا چلتی تھی تو راکھ کی طرح مٹی اڑتی تھی، اس وجہ سے یہ سال عام الرمادہ (راکھ کا سال) کہا جاتا ہے۔ حضرت عمر عوام کے دکھ درد کو سمجھتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے منصب امارت پر موجود ہونے کے باوجود یہ اعلان کیا:
میں (حضرت عمر) گھی، دودھ اور گوشت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں چکھوں گا جب تک کہ عام مسلمان پہلی بارش سے فیض یاب نہ ہوں‘‘۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط کا سارا سال اپنی اس بات پر قائم رہے یہاں تک کہ لوگ پہلی بارش سے فیضاب ہوئے۔ بازار میں غلہ آنا شروع ہوا تو آپ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپ کے لیے چالیس (درہم) میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر نے فرمایا
’تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو۔ کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہوگا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

کیا قدرت کو واقعی ھماری قوم پر رحم آ گیا ھے کہ آج بڑے بڑے وقت کے فرعون جیلوں کی سلاخوں کے پپھچے اور مزید بہت جلد پہنچے والے ھیں اور کیا ھمارے اداروں میں واقعی خدا کی طرف سے کچھ لوگوں کو مسیحا بنا کے بھیجا گیا ھے اور کیا عمران خان کی صورت میں وہ نجات دہندہ آپہنچا ھے جو عمر بن خطاب جیسا انداز حکمرانی اور جناح جیسے کردار کو پھر سے زندہ جاوید کردے اور ان اونچے قد والے بونوں اور مہنگے کپڑے پہننے والے سستے لوگوں سے قوم کی جان ہمیشہ کے لئے چھڑا دے ۔کاش الله اس دفعہ ھماری ڈوبی ہوئی کشتی کو پار لگا ھی دے آمین ثمہ آمین!