دعاؤں میں یاد رکھنا

    11

    ڈیڈھ گھنٹہ میسجز کے ذریعے “بالغانہ”احساسات و جزبات و حرکات و سکنات کا “تبادلہ” کرنےکے بعد مسز ارشد نے یاسر کو کہا  “اچھا ہنی! اب میں لاگ آف ہوتی ہوں۔ میرے شوہر آنے والے ہونگے، دعاؤں میں یاد رکھنا”

    عمران نے اپنی ہنڈا CD 70, شعیب کی بلڈنگ کے باہر کھڑی کی اور بےتابی سے موبائل پر بولا، “جلدی آ ناں یار”، شعیب نے لپک کر DVD عمران کو پکڑا دی اور آنکھ دبا کر بولا، “بھر دیا ہے اسے بارش والے مُجروں سے”۔ عمران نے کہا، اچھا چیتے!اور صبر نہیں ہوتا، میں چلتا ہوں-“دعاؤں میں یاد رکھنا”

    “اب تو امریکہ سے آکر کنجوسی نہ کر”، یاروں نے امجد کو گھیر لیا، “چل نمکو اور جیک ڈینئیل منگوا”۔ سب “ٹُن ہو کر” امجد کا منہ چومتے واپس گھروں کو جا رہے تھے اور ساتھ ساتھ شُکریہ ادا کر رہے تھے اور امجد صاحب فرما رہے ہیں’، “یاروں کے لئے تو جان بھی حاضر ہے” بس “دعاؤں میں یاد رکھنا”

    حاجی برکت علی صبح سویرے کھیتوں میں “تشریف آوری” کرکے جس جوہڑ پر استنجا فرما رہے تھے، صادق گوالا اُسی کا پانی دودھ میں ملا رہا تھا۔ حاجی صاحب جوہڑ کے پانی کی “خصوصیات” گنوا رہے تھے کہ اس پانی کے اندر موجود “سوغاتوں” کی وجہ دنیا کا کوئی گیلکٹومیٹر بھی دودھ اور پانی میں فرق نہیں بتاسکتا۔دونوں اپنی اپنی راہ چل پڑے اور جاتے جاتے صادق گوالے نےدرخواست کی۔ حاجی صاحب!”دعاؤں میں یاد رکھنا”

    اچھا اب راقم بھی اجازت چاہتا ہے۔ کچھ دوست لِونگ روم میں انتظار کر رہے ہیں۔ ابھی چغلی اور غیبت سے بھرپور محفل شروع ہونے والی ہے۔ لیکن جانے سے پہلے ایک عاجزانہ گُزارش ہے۔ (جی آپ بالکل ٹھیک سمجھے)، “دعاؤں میں یاد رکھنا”

    نوٹ! راقم دعاؤں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور خود بھی درخواست کرتا ہے لیکن موقع محل کے مطابق درخواست کرنیکا قائل ہے۔ دعا کو عادتاً ہر جگہ تماشا نہیں بنانے سے گریز کرنا چاہئیے۔