دورہ پاکستان مشاھدات اور تاثرات – تیسری قسط

34

ملک ریاض جیسے لوگ ھی تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔
مجھے نہیں معلوم بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے بارے میں کچھ عجیب وغریب منفی کہانیاں گردش کرنے کے پیچھے کن لوگوں کا ھاتھ ھے اور اس میں کتنی حقیقت ھے ۔مگر میں پہلے اس عظیم شخص کو سلام پیش کرنا چاہوں گا کہ جس کے زرخیز دماغ نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ھے کہ جس کا تصور بھی پاکستان جیسے ملک میں نہیں کیا جاسکتا۔تھا اور اب امریکہ اور یورپ والے پاکستان اور پاکستانیوں کو “Uncivilized * کہہ کر تو دکھائیں ذرا—-
بیرون ممالک مقیم پاکستانی ان مناظر کے بارے میں تھوڑی دیر کے لئے اپنی آنکھیں بند کرکے ذرا تصور تو کرٰیں۔لیکن پلیز پہلے بلاگ پڑھ کے پھر آنکھیں بند کرنی ہیں 

رات کے کسی پہر آپ کو میڈیکل ایمرجنسی ھوگئ تو گھبرانا نہیں ۔بحریہ ٹاؤن کے اپنے دو جدید ترین سہولیات سے لیس ہسپتال ۔فون سے ان کا نمبر گھمانا ھے اور پانچ سے سات منٹ میں ایمبولینس آپ کے دروازے پر ۔
* جب ایک صبح میری طبیعت کچھ تھوڑی سی نا ساز ہوئی تو مجھے میرے بھانجے عمر اسلام نے فوراً بحریہ ٹاؤن میموریل ہسپتال جو کہ گھر کے بالکل سامنے تھا لے آیا اور ہسپتال میں داخل ھوتے ھی مجھے ورجینیا کا فئیر فکس ھاسپیٹل یاد آگیا ۔انتہائی مستعد عملہ ،پروفیشنل لوگ، چاروں طرف صفائی کا آعلی معیار جن ڈاکٹر صاحب نے میرا چیک اپ کیا انتہائی خوش اخلاق اتنے کے ان کی دی گئی دوائیں بھی اب زم زم سمجھ کر پی جاتا ھوں کہ پیار محبت اور اتنی اچھی کئیرنگ کے بعد میری آدھی بیماری تو وھیں دور ھوگئ ۔
ایک اور اچھی بات جان پاٰیا کہ جن سیریس مریضوں کے ساتھ ان کے عزیزو اقارب ساتھ آتے ہیں تو ھسپتال کی طرف سے انھیں خوبصورت صاف ستھری رھائش بھی بنا کسی چارجز کے تمام سہولتوں سمیت مہیا کی جاتی ھے ۔
*امریکہ میں تو کوڑا اٹھانے والے ٹرک ھفتے میں دو دفعہ آتے ہیں مگر بحریہ ٹاؤن کے مکینوں کے لئے یہ سروس ھفتے کے ساتوں دن موجود ھے۔آپ اپنا دن بھر کر کوڑا رات کو کوڑے دان میں ڈال دیں اور اگلی صبح ٹرک والے آکر اسے لے جاتے ہیں ۔

* ذرا تصور کریں پاکستان میں رات کے 1 بجے خواتین سائڈ واک پر بلاخوف و ڈر آہس میں گپیں ہانکتے ھوئے چلے جارہی ھوں اور کسی کی جرآت نہ ھو ان کی طرف آوازیں کسنے کی ۔ھاں دیکھنے کی حد تک شرعی طریقے سے ایک نظر ڈالنے میں کوئی قباحت نہیں مگر دوسری نظر اور ایکسرےکرنے کی ممانعت ھے کہ آخر کو اپنے اعمال کے آپ پھر ذمہ دار ھوں گے ۔لہذا اپنی شامت کو آواز نہیں دینی کہ چوبیس گھنٹے بڑی بڑی مونچھوں والے پولیس والے موٹر سائیکلوں پر گشت کر رھے ھوتے ھیں ۔

* اور پھر ھفتہ اتوار چھٹی والے دن پانچ سالہ عزیر اپنی بہنوں عانیہ، عنایہ اور فرح کے ساتھ آدھی رات کو اپنی سائیکلوں پر سوار ہوکر دور تک بلا کسی خوف کے چکر لگاتے جائیں تو کیا آپ کا دل باغ باغ نہیں ھوگا؟ 
* امریک میں جیسے ھوم آوونرژ ایسوسی ایشنز 70 ڈالز سے 350 ڈالرز ھر ماہ آپ سے وصول کرکے کچھ سروسز مہیا کرتے ھیں بحریہ ٹاؤن کے مکین وہ سہولتیں صرف 15 ڈالز کے لگ بھگ حاصل کرتے ہیں ۔
* مجھے بتایا گیا کہ بحریہ ٹاؤن میں ” لوڈشیدنگ “جیسی نحوست سرے سے ھی ناپید ھے اور اب تک ایک ھفتے کے قیام کے دوران مجھے یہ خوفناک بلا کہیں دکھائ نہیں دی۔

* آپ میں سے ابتک بہت سارے سوچ رھے ھوں گے کہ یہ سب کچھ تو دولتمندوں اور اشرافیہ کے چونچلیں ہیں اور اپر اور لوئر مڈل کلاس کدھر جائے اور کیا یہ ساری سہولتیں ان کو بھی میسر آسکتی ہیں تو ایک دفعہ پھر ملک ریاض کو سلام کہ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ھوئے پورے بحریہ ٹاؤن میں چھوٹے گھروں سے لیکر بڑے بڑے Villas تعمیر کئے گئے ہیں اگر آپ کی قوت خرید 50 لاکھ ھے تو گھر موجود ،کروڑوں میں ھے اربوں میں ھے تو بےشمار گھر موجود ۔کمرشل بلڈنگ موجود۔یعنی آپ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا میٹھا ۔

مگر سب سے حیرت انگیز بات کہ 50 لاکھ والے چھوٹے گھروِں اور کروڑوں روپے مالیت کے گھروں کے مکینوں کو ایک طرح کی سہولتیں میسر ھیں اور اسکا مشاعدہ۔میں نے خود کیا ھے۔

* ذرا تصور کریں آپ کو دنیا کے ٹاپ برانڈز کے کپڑوں جوتوں سے لیکر تمام فوڈ چینز بحریہ ٹاؤن کی چاردیواری میں ھی میسر ھوں تو کیسا لگے گا ۔انتہائی صاف ستھری دوکانیں اور پارکنگ کے شاندار بندبست اور چیزوں کے خالص ھونے کی شرط کے ساتھ کیا ھم نے پاکستان میں اسطرح کے ماحول کا کبھی سوچا تھا ۔

* بحریہ ٹاؤن کی ایک اور بڑی خوبی اس کی انتہائی خوبصورت مساجد ہیں ۔آپ جب نماز پڑھنے جاتے ہیں تو اندر کا ماحول اسقدر خوبصورت اور جاذب نظر ھوتا ھے کہ دل کرتا ھے بندہ ساری عمر اس جگہ اعتکاف بیٹھ جائے ۔مجھے بتایا گیا کہ خطبہ اور تقریر کرنے والے مولوی صاحبان پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی ھے کہ کوئی نفرت انگیز بات یا کسی دوسرے کے مسلک کو برا بھلا کہنے کی اجازت نہیں ۔میری ایک تجویز یہ بھی شامل کرلیں کہ مولوی صاحبان اپنے نمازیوں کو زیادہ سےژیادہ “دین” کی باتیں بتائیں

خدا کے غفور و رحیم اور رحمان ھونے کی خوبیوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں ۔خدا کی لامحدود کائنات کا ذکر کریٰں اور اس کا ذکر ایسے کریں کہ لوگوں کے دلوں میں اپنے رب کے لئے وھی محبت پیدا ھو جو ماں کی اپنے شیرخوار بچے کے لئے ھوتی ھے۔

 

ایسا نہ ھو کوئی ایسا شخص جس کا علم موت کا منظر مرنے کے بعد کیا ھوگا کا حافظ ھونے تک ھو اور ایک دن خبر آئے کہ بحریہ ٹاؤن کے مکین مولانا کی اس دنیا کو ” ایک غلیظ جگہ قرار دینے کا سن کر اپنے گھراور بیوی بچوں کو چھوڑ کر نزدیکی جنگل میں سکونت اختیار کر گئے ہیں کہ میں کہ امریکہ میں ایسا ھوتا دیکھ چکا ھوں کہ اچھے بھلے آعلی تعلیم یافتہ لوگ اپنی اچھی اچھی نوکریاں چھوڑ کر صرف اس وجہ سے ٹیکسی اور لیموں ڈرائیو کرنے لگے کہ اس سے ان کی نمازوں اور عبادات میں خلل نہیں پڑتا ۔

* میں صبح 6 بجے اٹھ کر جب باھر واک کے لئے نکلا تو طلوع ھوتے سورج کی طرف رخ کر کے لمبی لمبی سانس اندر باھر کی تو یہ پاکستان میں پہلا موقع تھا کہ میرے منہ اور ناک میں تازہ ھوا کی ساتھ کسی قسم کا دھواں اور مٹی گردہ نہیں گیا ۔تقریباً ایک گھنٹا واک کے دوران ایک بات محسوس کی کہ موٹر سائیکلوں پر بڑی تعداد مٰیں جوانوں کو اپنی اپنی موٹر سائیکلوں پر کرکٹ کے سامان کے ساتھ ھنستے کھیلتے اور چہروں پر اطمینان اور خوشی دیکھ کر احساس ھوا کہ اگر ھمارےتما م لوگوں کو زندگی کی بنیاد ی سہولتیں اور ایک صاف ستھرا پرامن ماحول فراھم کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ھماری قوم ساری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا جھنڈا نہ گاڑ دے۔یاد رکھنا چاہئے کہ انسان سے جرم ،گناہ اور قتل جیسے عمل اس وقت سرزد ھوتے ھیں جب وہ شدید ذھنی دباؤ کا شکار ھو اور اسے اپنے اردگرد انصاف ھوتا نظر نہ آئے اور ایسے لوگ قوم کا اثاثہ تبی بنتے ہیں جب ان کی قدرتی صلاحیتوں کو پنپنے کا پورا پورا موقع فراھم کیا جائے ۔

بحریہ ٹاؤن کی باہر کی دنیا میں لاکھوں کروڑوں افراد صرف اس وجہ سے اہنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ نہیں ڈال پا رہے کہ ھمارے حکمرانوں نے اپنی شاہ دولے کے چوھوں والے ذھن سے ان لوگوں سے زندگی کی ساری خوبصورتیاں چھین لی ھہیں۔کروڑوں افراد اس ذلت آمیز زندگی پر اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر اب اس پر احتجاج بھی نہیں کرتے کہ مذہبی علماء نے بھی ان کے ذھنوں میں یہ بات اچھے طریقے سے ڈال دی ھے کہ مسلمان/مومن کی اصل زندگی تو مرنے کے بعد شروع ھوگی یہاں کی زندگی جیسی بھی ملی ھے(چاھئے بےشک جانوروں سے بھی بدتر ھو ) گزار لو اللہ نے اگلے جہان میں تمھارے لئے بہت بڑے بڑے انعامات رکھے ھوئے ہیں ۔
(جاری ھے)
کل پڑھئے ——- ملک ریاض جیسے لوگ پاکستانیوں کا احساس محرومی دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔—کیسے اس پر کل کے کالم میں