دورہ پاکستان مشاھدات اور تاثرات – دوسری قسط

31

ھر اس شخص کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے جس نے قوم کے نونہالوں کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کیا ھے ۔
ایک اور چیز جو اسلام آباد کے نئے ائرپورٹ پر نوٹ کی وہ ائرپورٹ سٹاف اور ان کے “شکاریوں” کی بےبسی تھی کہ جب ان کی ” گناہگار” آنکھوں کے سامنے سامان سے لدے ھوئے مسافر گزرتے اور سیدھے باھر نکل جاتے اور یہ لوگ انھیں اس خونی بھیڑھے کی طرح حسرت سے دیکھتے رہ جاتے جسے کچھ عرصے کے لئے زنجیروں سے جکڑ کر باندھ دیا دیا جائےاور وہ لذیذ اور تازہ گوشت سے محروم کردیا گیا ھو۔یا پھرایک ایسا خونی درندہ جس کے جسم کو تو آزاد چھوڑ دیا گیا ھو مگر اس کے خونی جبڑے پر لوھے کا تالہ لگا دیا گیا ھو ۔میں نے نوٹ کیا کہ ان لوگوں کی آنکھوں میں ابھی بھی وہ بھوک موجود ھے کہ وہ پہلے کی طرح ھر مسافر کے ساتھ “کتے* والے کریں مگر ابھی وہ بےبس ہیں ۔

اس کا ایک کریڈٹ اس ” جہنمی اور کافر” کو بھی جاتا ھے جس نے “خفیہ کیمرہ”ایجاد کیا اور مجھے یقین ھے کہ ایرپورٹ کا سٹاف اب جس شخص کو دن رات ماں باپ کی گالیاں دیتا ھو گا وہ خفیہ کیمرے کا موجد ھوگا۔
مختلف لنک روڈ سے گزدتے ھوئے ھم بالآخر راولپنڈی کی کسی چھوٹی سی سڑک پر آگئے ۔

اس وقت سورج اپنا چہرہ مبارک دکھانے کی تیاریاں کررھا تھا ۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ روز کا معمول تھا یا نہیں مگر ھر تھوڑی دیر کے بعد ایک عدد کتا شرمیلی معصوم اور کچھ ڈری ڈری سی سی وآؤ ؤاؤ کی آواز نکالتا نظر آجاتا ( اللہ جانےظالم معاشرے نے اس کی بھونکنے کی قدرتی صلاحیت بھی چھین لی ھو ) اور ایک موقع پر جب میری گاڑی تھوڑی دیر کے لئے رکی اور میں نے اپنی کھڑکی کے بائیں جانب دیکھا تو ایک کم عمر جوان سے کتے کو اپنی طرف غور سے دیکھتے ھوئے پایا۔شاھد اس کتے کی پیدائشی ذھانت تھی یا اس کو انٹرنیشنل مسافروں کی پہچان تھی کہ وہ بڑے باادب طریقے سے کھڑا مجھے دیکھتا جا رھا تھا اور شاھد آنکھوں ھی آنکھوں میں یہ التجا کررھا تھا کہ ” آوئے امریکیا اللہ دا واسطہ ھی سانوں وی اپنے نال لے چل کہ ساڈی نال اتھے صبح شام “کتے” تو وی پہیڑا سلوک ھوندا پہیا۔دنیا ھے امریکی اپنے کتوں کے ساتھ انسانوں سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں ۔میرا دل کیا کہ اس، سے پوچھوں کہ “امریکی کتوں کے لئے کوئی پیغام دینا ھے تو بتاؤ مگر یہ سوچ کر کہ وہ کہیں اور زیادہ افسردہ نہ ھو جائے میں آگے بڑھ گیا۔

جوں جوں گاڑی آگے روانہ ھوتی گئی جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آئے ۔چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ابلتا ھو گٹر کا پانی اور گندے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھتا ھوا دھواں( کوڑا ختم کرنے کے لئے اکثر مقامات پر اسے آگ لگا دی جاتی ھے)اس دھوئیں کے بادلوں میں ” عام آدمی جب سانس لیتا ھے تو اس وقت وہ پہلے شریفوں کے مجھے کیوں نکالا زرداریوں کے ” جمہوریت بہترین انتقام ھے “آج بھی بھٹو زندہ ھے “کے فلسفے کو باوضو ھوکر سلام پیش کرتا ھے اور اس کے بعد ” بنی گالہ* کے مکین سے سوال کرتا ھے کہ تیرے ڈیم کے پانی سے اگر میری بےکسی اور ذلت آمیز موت کے بعد میرے مردہ جسم کو غسل کے لئے پانی مل جائے تو میں بھی ڈیم میں پیسے دینے کے لئے تیار ھوں ۔

کوڑا ڈالنے کے لئے کسی مقام پر مجھے “ٹریش کین” یا کوڑادان نظر نہیں آیا۔کیوں کہ اس طرح کے ” گندے کاموں ” میں ھمارے بابو لوگ ملوث نہیں ھوتے اور نہ ھی انھیں اس سے کوئی زیادہ مالی فائدہ ھوتا ھے لہذا ان عوام سے التماس کی جاتی ھے کہ ان کہ ” اپنی حکومت نے اربوں لگا کر ان کے لئے میٹرو بسیں اور ٹرین کا بندوبست کردیا ھے اور جب بھی آپکو اپنے اردگرد کوڑے کی بدبو بہت زیادہ تنگ کرنے لگے بالکل فکر نہ کرے اور ایک ڈاکٹری سرٹیفیکٹ بنوا کر اس دن میٹرو میں رعایتی ٹکٹ پر سفر کر آئیں۔ 
اگلا دن میری بےبسی اور تکلیف کا بدترین دن تھا اور وہ تکلیف ھر گزرتے پل کے ساتھ بڑھتی جارہی ھے۔
میں جب اگلے روز حال ہی میں متعارف کرائی گئی ” کریم کار سروس کے ذریعے بحریہ ٹاؤن کے لے روانہ ھوا تو جو مناظر میری آنکھوں نے دیکھے انھوں نے میری راتوں کی نیند چھین لی۔میں تقریباً سوا گھنٹے مختلف سڑکوِں اور گلیوں سے گزرا۔

مجھے ایسا محسوس ھوا ” میں زندہ لاشوں کے درمیان آکھڑا ھوا ھوں ۔میرے چاروں طرف کوئی ایسی” انسان نما ” مخلوق ادھر ادھر کانوں کو پھاڑ دینے والے شور کے ساتھ چل پھر رھی ھے اور اس مخلوق کا سر دھڑ سب کچھ انسانوں والا ھے مگر جیسے قدرت نے ان سے ان کی عقل ان کا شعور ان کی سوچ اور ان کی قوت بینائی یکدم سلب کرلی ھو یا پھر انھیں انسان اور جانور کے طریقہ پیدائیش کے پہلے تین چار ماہ کے دوران ایک جیسی جبلت تو دی مگر اگلے مرحلے کے لئے وہ”عقل” کے جب انسان کو دی تو فرشتوں کے سامنے ناز فرمایا ۔عقل کے اس پروسس کو کسی حکمت عملی کے تحت ان لوگوں کے لئے بطور سزا ادھورا چھوڑ دیا ھو اور اب ” دونوں کی جبلت ساتھ ساتھ کام کرھی ھے ۔

ایک نہ رکھنے والا ھجوم ۔تمام اندرونی سڑکیں گلیاں ٹوٹی ھوئ 
چوبیس گھنٹے اڑتا ھوا گردوغبار اور ٹریفک کا بدترین نظام اور اور ” انسان نما” مخلوق کا طرز زندگی اورطرز عمل ۔

یہاں میں تھوڑی دیر کے لئے کچھ خوغرض بن جاتا ھوں کہ میری بھلا سےکہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ھورھا ھے ۔مجھے بالکل پرواہ نہیں کہ یہ کیسے جیتے ہیں اور کیسے مرتے ھیں۔ میں چلیں اب پتھر دل انسان بن جاتا ھوں۔
مگر میں اپنے وطن کے ان معصوم بچوں سے جو آپ کے آنے والے کل کے معمار ہیں جو ھمارے مستقبل کے سنہرے خواب ہیں ان کو دئے گئے اس بدبورار اور غلیظ نظام اور ماحول کے خلاف اعلان جنگ کرتا ھوں کہ ان کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں ان کے کان جو کچھ سن رھے ھیں ان کی عزت نفس کو جسطرح مجرو کیا جارھا ھے ان کی معصومیت کو جس طرح کچلا چارھا ھے اور اس سب کے باوجود جو شخص بھی خاموشی اختیار کرتا ھے وہ قومی مجرم ھے ۔غضب خدا کا سکول میں چھٹی کا وقت سکول گیٹ سے باھر سخت گرمی دھوپ اور ھر طرف اڑتا ھوا گردہ مٹی جس سے ان معصوموں کے چہرے گردے سے لت پت، ان کی سکول یونی فارم منٹوِں میں سیاہ سے سفید، اس گردوغبار سے ان کے جسم کے اندر جراثیموِں کی یلغار، مرغیوں کی طرح ان کو سکوم وین میں ڈالنا ،چھت کے اوپر لٹکے ھوئے پانچ سے بارہ سال کے بچے ،دھکم پیل، بدنظمی، بے ترتیبی، ارد گرد گزرتے “گدھ” جو انتہائی کم عمر طالبات کے جسموں کا ایکسرے کرتے۔۔۔ ھر روز گاڑی جب بڑے بڑے گڑے والی سڑک سے گزرے اور اپنا انگ انگ گھر پہنچ کر درد کرنے لگے شدید گرمی میں بجلی کی بندش اور غریب والدین کی خواہش بیٹا اور بیٹی ڈاکٹر انجئیر بنے اور وہ بیٹا اور بیٹی ابھی ابھی ” پل طراط ” سے آئے ھوں اور پھر کوئ کیئے کہ ” مجھے کیوں نکالا” کوئی کئے ” یااللہ یارسول بےنظیر بےقصور” ” ایک زددرای سب پہ بھاری*

ظالموں یہ بچے تم سے اپنا حق مان رھے یا پھر اپنے بچوں اور نواسے نواسیوں کو بھی ان کے ساتھ سکولوں میں بھیجو ۔

“ایک شخص “ھے ایسا جسکا نام بعد میں بتاؤں گا اور اس سے التجا کروں گا کہ وہ ان معصوموں کو ان کے چھینے گئے خوابوں کی تعبیر دے دے ۔
دنیا کا بدترین ٹریفک نظام اور گاڑی چلانے والوں کے روپے کہ ھر شخص سڑک پر گاڑی چلاتے ھوئے اپنے آپ کو پنجابی فلموں کا وہ ھیرو / ولن سمجھ رھا ھوتا ھے جس نے چوبیس گھنٹے ایک ھی اکڑ میں رھنا ھے ۔وہ ھر وقت دوسرے کو ادھیڑنے کے لئے بالکل تیار بیٹھا ھو۔ مجال ھے کوئی اس سے راستہ مانگے اور وہ مسکراتا ھوا اسے جانے دے ۔نہ بلکہ اس وقت وہ منہ کے اندر یہ بڑبڑاتے ہوئے کہتا ھے ” جے اپنی ماں دا دد پیتا ھی تے میرے اگوں لنگ کے وکھا یا تو اگر میرے تو پہلے اگے لنگیا تے میں اپنے پیوؤ دا پتر نی”
میرے خدا یہ انسانی رویے۔

اب ایک مقام ایسا آیا کہ جب ڈرائیور نے کہا کہ اب ھم بحریہ ٹاؤن میں داخل ھونے ھی لگے ہیں تو میرا سپاٹ چہرے اور خاموشی سے وہ آگے کچھ نہیں بولا کہ میرا ذھن اس وقت ان معصوموں کی ذلت انگیز زندگی کے سارے مناظر بار بار آنکھوں میں لے آتا اور بےبسی اور تکلیف سے میری آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ذھن میں پہلا خیال یہی آیا کہ بحریہ ٹاؤن والے بھی اسی ملک اسی شہر کے رھنے والے اور اسی معاشرے کا حصہ ھیں کیا مختلف ھوگا کہ اس پر سوچوں۔

مگر جیسے ھی ھماری گاڑی پہلے گیٹ ہر پہنچی جہاں پر کھڑے مستعد اور چست گارڈز اور سیکورٹی کا اعلی معیار دیکھ کر پہل دفعہ اس دورے کے دوران چہرے پر مسکراہٹ اور طمانیت کا احساس ھوا۔
اس کے بعد جوں جوں گاڑی آگے بڑھتی گئی میری آنکھوں میں بالکل وہی مسرت اور حیرت پیدا ھونی شروع ھوئی جو میرے بچوں کے ” ڈزنی ورلڈ ” کے پہلے دورے کے دوران ھوئ تھی۔
ایک ترتیب ایک نظم و ضبط ایک معیار،خوبصورت سڑکیں اور ان کے کناروں کے درمیان لگے خوبصورت درخت، کچی کجھوروں (ڈوکے) سے سجے درختوں کی قطاریں ۔
ٹریفک کا بہترین نظام ،صاف ستھری آب و ھوا، نہ مٹی نہ گردہ نہ گاڑیوں کا دھواں ۔۔۔۔

میری منزل تھی میرے In-laws کیطرف جن کے ساتھ اب میرا فیملی بزنس کا بھی ناطہ ھے ان کے بزنس ھیڈ کواٹر 
RAJA’S UNITED REAL ESATE.

کل پڑھئے—— بحریہ ٹاؤن وہ حیرت کدہ کہ جس کا بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں نے زندگی میں تصور بھی نہیں کیا ھوگا——–
اگر واشنگٹن سے پاکستان تک میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر بحریہ ٹاؤن چھوڑ دیا جاتا تو میں شاھد زندگی بھر اس جگہ کے بارے میں نہ جان پاتا۔