دورہ پاکستان مشاھدات اور تاثرات – پہلی قسط

32

خان صاحب معاملہ کرپشن، ڈیمز، درختوں اور ھیلی کاپٹر وغیرہ کا تو ھے ھی نہیں آپ کس دنیا میں رہ رھے ھیں. ھمیں اس ملک میں سب سے پہلے !انسان سازی ” چاھئے۔

جہاز نے جیسے ھی نئےاسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا تو خوشی اور اداسی کی ملی جلی کیفیت طاری ھوئی۔ خوشی اسلام آباد کے نئے ایرپورٹ کو دیکھ کر اور اداسی، “پاکستانی مسافروں ” کے حسن سلوک طرزعمل اور جہاز کے رکتے ھی ھر شخص کی اس خواھش کا باقاعدہ مشاہدہ کرکے کہ وہ کسی طرع یہ اعزاز اپنے نام حاصل کرلے کہ جہاز سے نکلنا والا سب سے پہلا شخص تھا اور گھر پہنچ کراپنے اھل خاندان اور اھل محلہ سے اس عظیم کارنامے پر داد و تحسین حاصل کرلے۔

سارے مسافر جہاز سے باھر نکل کر امیگریشن کاونٹر کے طرف جانے والے راستے کو صرف ایک جگہ ھی دیے گیے سائن کی مدد سے قطار بنا کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ۔میں شدید تھکاوٹ کے باوجود ھر ممکن طریقے سے اپنے چہرے پر ایک محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس امید پر اپنی بھاری کا انتظار کررھا تھا کہ میں واشنگٹن اور ترکی کے آئرپورٹس کی طرح اپنے “آبائی ملک” میں بھی کاؤنٹرز پر جاکر گرمجوشی سے ھیلو ھائے کروں گا ۔اگرچہ ذھن کےکسی گوشے سے یہ آواز مسلسل آرھی تھی کہ حضور زیادہ امیدیں نہ رکھی جائیں بہت مایوسی ھوگی مگر میں نے بھی اس دفعہ تو پکا ارادہ کرلیا تھا کہ جو بھی ھوجائے مایوسی کو اپنے نزدیک بھی نہیں آنے دینا ۔خیر بہت جلد میرا نمبر آگیا اور میں اپنے چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ لئے کاؤنٹر پر پہنچا اور انتہائ اپنائیت اور محبت بھرے لہجے میں کاؤنٹر ہر بیھٹے ھوئے شخص سے کہا ” اسلام علیکم جناب کیسے ھیں آپ بھائی”****** ارے یہ کیا اس نے میرے اس خوبصورت جذبہ اظہار کو تو گھاس بھی نہیں ڈالی اور میرے سفری کاغذات کو تقریباً چھینتے ھوئے انتہائی کرخت لہجے میں کہا کہ کیمرے کے آگے کھڑے ہوجاؤ تو میں نے خود ھی یکطرفہ شکریہ ادا کرکے ایسا ھی کیا مگر ساتھ ھی یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ طویل سفر، تھکاوٹ اور مسلسل جاگنے سے شاید میری شکل اس وقت ” پوڈریوں” سے بھی بری لگ رھی ھوگی اس لئے میں نے اس شخص کا موڈ آف کردیا ھے تو مطمئن ھوکر اپنے دائیں کاؤنٹرکی جانب جاتی ھوئ دو انتہائ قبول صورت خواتین کو دیکھا مگر جیسے ھی وہ دونوں خواتین کاؤنٹر ہر پہنچی تو میں نے اپنے ساتھ روہ رکھے گئے سلوک کا ان دونوں کے ساتھ بھی وھی مشاھدہ کیا بلکہ ساتھ ساتھ موجود تقریبا سارے کاؤنٹرز پر ایسا ھی منظر دیکھا ۔لیکن میں پھر بھی مایوس نہیں ھوا کہ اپنے آپ سے وعدہ جو کرچکا تھا اگرچہ میرے اندر سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی ھلکی سی آواز تو ائی تھی مگر میں نے سنی ان سنی کردی اور جاتے ھوئے کاؤنٹر پر موجود شخص سے پھر پیار سے کہا ” اللہ حافظ جناب اپنا خیال رکھئے گا “
مگر اس شخص نےجواب دیئے بغیر دوسرے مسافر کو اپنی دربار میں حاضری کے لئے بھلا لیا ۔

اب میں ایک دفعہ پھر ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنا سامان وصول کرنے لیول نمبر ایک کی طرف چل پڑاجبکہ اسی دوران نئے ائرپورٹ کی عمارت کا بھی تفصیلی جائزہ لینا شروع کیا ۔دنیا کے ھر ملک اور شہر میں بھی جہاں اب تک مجھے جانے کا اتفاق ھوا ھے وھاں میرا سارا مشاعدہ عمارتوں کی بناوٹ اور خوبصورتی سے زیادہ وھاں کے نظام ،طرز زندگی قانون کی پاسداری اوروھاں بسنے والے لوگوں کے رویوں اور پروفشنیلزم کی طرف زیادہ ھوتا ھے لہذا نئے ائرپورٹ کے بارے میں بات کرنے سے زیادہ یہاں ھم فرض شناسی اور رویوِں کی بات کرتے ھیں ۔

کسی قسم کا کوئی اعلان نہیں ھوا کہ فلاں شہر سے آنے والی فلائٹ کے کس نمبر والے carouselجسکا ترجمہ چکر کھانے والے جھولا کرلیتے ھیں پر ارھا ھے۔پھراپنا سامان اٹھانے کے بعد میں نے باتھ روم کا چکر لگایا ۔سب ٹھیک لگا مگر وھاں پر موجود شخص ھاتھ ہر صفائی والے ڈنڈے کے ساتھ مسلسل کھڑا رھتا ھے اور جیسے ھی آپ ھاتھ منہ دوکر فارغ ہوتے ہیں وہ شخص ایک روبورٹ کی طرح فوراً صفائی شروع کردیتا ھے میں کچھ دیر تو کھڑا یہ سارا منظر دیکھتا رھا اور جب رھا نہ گیا تو اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ آپ کیا سارہ وقت ایسے ھی کرتے رھتے ھو تو اس نے کہا کہ جی ھاں مجھے اسی طریقے سے بتایا گیا کام کرنے کو تو مجھے اس کی وجہ بھی فوراً سمجھ آگئ کہ اس ایرپورٹ پر “مقدس سرزمینوِں سے ھمارے وہ لوگ جن کا نعرہ ھی ” صفائی نصف ایمان ھے” بہت بڑی تعداد ًمیں اتے جاتے ھیں اور خاص طور پرجب ایمان کی دولت سے مالامال واپس اپنے ملک آتے ھیں تو ان کو ایرپورٹ پر نماژ کے لئے صفائی اور وضو کی بھی تو ضرورت ھوتی ھے نہ اور باتھ رومز کے استعمال کے بعد بہت سارے ” گنہگاروں ” کو بھی تو رفع حاجت کی ضرورت ھوتی ھے اس لئے وہ شخص ایک جن کی طرح مسلسل اپنا کام کر رہا ھوتا ھے۔

ایرپورٹ سے نکلنے کے بعد ایک خوبصورت روڈ سے سفر کا آغاز ھوا اور سڑک کی حالت دیکھ کر نہ چاھتے ھوے بھی “شریفوں ” پر پیار آیا ھی چاھتا تھا کہ ھماری گاڑی نے جب اپنے اس بنیادی حق کو استعمال کیا جس میں ساری دنیا میں سبز ٹریفک لائٹ پر آپ گاڑی چلاتے جاتے ھو تو اچانک دائیں جانب سے ایک گاڑی والا دیکھا جو سرخ لاہٹ پر لعنت بھیجتا ھوا سیدھا ھماری گاڑی کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ وہ ھمیں کچلتا ھوا گزر جاتا میرے ساتھ گاڑی چلاتے کزن نے کمال مہارت سے گاڑی کو دوسری جانب گھمایا اور چہرے پر دنیا بھر کا اطمینان لئے گاڑی کو چلاتا رھا جبکہ اس ظالم نے میری اوپر نیچے ھونے والی بے ترتیب سانسوں کے بارے میں جھوٹے منہ پوچھنا بھی گوارہ نہیں کیا لیکن کم ازکم میرے یہ دریافت کرنے پر کہ وہ بندہ سرخ اشارے پر کیوِں نہیں رکا تو اس نے اس شخص کو جاہل اور ڈنگر کہہ کر مجھے کچھ تسلی دینے کی بھرپور کوشش کی ۔

اس کے بعد اگلے ایک گھنٹےتک اس طرح کے پانچ اور واقعات پیش آئے مگر ھر دفعہ میرے کزن کی کمال مہارت کام آئی اور اللہ کے کرم سے کوئی بڑا حادثہ نہیں ھوا اور ھا ں یہ بتانا تو بھول ھی گیا کہ دو دفعہ میرے کزن نے بھی بڑے اطمینان کے ساتھ سرخ بتی کو کراس کرتے ھوئے اسی مہارت کے ساتھ دوسری طرف سبز بتی والی طرف سے آنے والی گاڑیوِِں کو بھی بچایا مگر کم از کم مجھے اس دفعہ یہ خوشی ہوئی کہ اسنے میرا خیال کرتے ھوئے انھیں جاھل اور گنوار نہیں کہا ۔

امریکہ ميں خاص طور پر ھائےویز پر سڑک کی مرمت کے دوران ایک دو میل کے فاصلے سے ھی آپ کو مختلف آلات اور سگنلز کے ذریعے آگاہ کردیا جاتا ھے کہ آگے ایک مقررہ فاصلے پر ایک دو یا تین لائنیں مرمت کے لئے بند ھیں اور اس کے ساتھ پولیس کی گاڑیاں تیز روشنیوں کے ساتھ اپ کی حفاظت اور رہنمائی کے لئے موجود ھوتی ھیں۔ھمارے سفر کے دوران تین ایسے مقام آئے جہاں رات کے اندھیرے میں اچانک جب میرے کزن نے یک دم اپنی گاڑی کو آگے آنے والی رکاوٹوں سے بڑی مشکل سے بچایا اور سڑک فورا تین لائنوں سے ایک میں بدل گئی جبکہ ایک مقام ایسا آیا جب مجھے دور سے گاڑی کے آگے ایک دیوار بنتی ھوئی نظر آنا شروع ھوئ اور پھر اچانک گاڑی کو ھنگامی بریک لگانے کے بعد جب دائیں جانب موڑا گیا تو معلوم پڑا کہ سڑک مرمت کےلئے بند ھے ۔(جاری ھے)