پاکستان اور عالمی برادری

49

دربار لگا ھوا تھا ۔بادشاہ امراہ اور عام لوگ جمع تھے۔اچانک بادشاہ کھڑا ھوا اور اعلان کیا کہ میں اپنے عوام کے بہترین مفاد میں میں اپنے اصطبل کے گھوڑوں کے اخراجات کم کر رھا ھوں اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے اصطبل سے گھوڑوں کا خرچہ کم کرکے عوام کی فلاح وبہبود پر لگاؤں گا، لہذا فوری طورپر اپنے اصطبل سے ایک ھزار گھوڑے نکال دیئے ۔بادشاہ کا اعلان سن کر “والٹیئر * کھڑا ھوا اور کہا بادشاہ حضور لیکن یہ جو آپ کے دربار میں ایک ھزار “گدھے” موجود ہیں انہیں دربار سے کب فارغ کریں گے۔

اب جبکہ پی ٹی آئ کی حکومت بننے جا رہی ھے تو عمران خان کو ھر صورت میں ایسے گدھوں سے دور رھنا ھوگا جو ان کے ارد گرد موجود رہ کر انھیں وھی راہ دیکھا سکتے ہیں جو اس سے پہلے ھم بھٹو سے لیکر نوازشریف تک دیکھ چکے ھیں کہ جب ایسے لوگوں نے اپنے سنہرے مشوروں سے ان لوگوں کو عبرت کا نشان بنا دیا ۔ایسے لوگ ھر جگہ موجود ہیں ۔حکومت میں، بیوروکریسی میں، ھر اھم ادارے میں۔نئ حکومت کے لئے ھمالیہ پہاڑ سے بھی بڑے مسائل ہیں اور شاید پہلے 90 دنوں میں یہ بھی طہ نہ ھو سکے کہ آخر شروع کہاں سے کیا جائے۔عمران خان کا اصل امتحان اب شروع ھوگا۔

یہ بات ذہن نشین رھے کہ عالمی برادری بالخصوص امریکہ برطانیہ اور ھندوستان جیسے ملکوں میں عمران خان کو ایک انتہائی متنازعہ شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رھا ھے ۔یہاں میں بالکل واضع طور پر صرف ایک نقطہ پر بات کرنا چاھوں گا اور وہ ھے تیسری دنیا کے کسی بھی جمہوری رہنما کا انتہائی ایماندار اور نڈر ھونا اور یہی وہ “قصور” ھے جو امریکہ اور دوسری سامراجی طاقتوں کی نظروں میں عمران جسے رہنماؤں کا ناقابلِ معافی جرم بنتا آرھا ھے۔میری اپنی ذاتی رائے میں عمران خان کو بجائے ان بیانات پر سخت ردِعمل کے بجائے فوری طور پر ان ملکوں پر واضع کر دینا چاھئے کہ میری حکومت کی اولین ترجیح اپنے ملک کے پسے ہوئے غریب عوام کی فلاح وبہبود کے لئے اپنی ساری توانائیاں صرف کرنا ھے اور میری حکومت عالمی برادری کے ساتھ کسی قسم کے جھگڑوں میں پڑے بغیر ھر اس معاملے پر آپ کے ساتھ کھڑی ھوگی جو وہ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کر رھی ھے ۔امریکہ اور یورپ کا سب سے بڑا چیلنج مذہبی انتہاپسندی ھے اور نئی حکومت کو انتہائی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے پر فوری طور پر ان حکومتوں کے ساتھ مُسلسل مزاکرات کا دور شروع کرنا ھوگا۔عمران کو یاد رکھنا ھوگا کہ مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت باھمی اعتماد اور ایک دوسرے کے موقف کو افہام وتفہیم سے سننے کا نام ھے نہ کہ اناکی جنگ ۔موجودہ امریکی صدر جیسا شخص اپنے بدترین دشمن ملک نارتھ کوریا کے ساتھ معاملات ٹھیک کر سکتا ھے تو ھم کیوں نہیں ۔

دوسرا اپنی خارجہ پالیسی میں سے فوری طورپر ” قومی غیرت اور ھماری انا ” نامی چیزوں کو تھوڑے عرصے کے لئے کسی گہرے کنویں میں ڈال کر اوپر سے مضبوطی سے لوھے کے ڈھکن سے بند کردیں اور پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرکے جب دنیا سے تھوڑا تھوڑا آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے قابل ھو جائیں تو دل کرے تو اس کنویں کو کھلوا لیں ۔

اس بات کو ھمیشہ ذہن کے گوشے میں تازہ رکھیں کہ جب مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیاتو آج کے امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں کی طرح سلطنت رومہ اور ایران جیسی بڑی سپر پاورز کا راج تھا اور ھمارے نبی اکرم صلی الله نے ان ممالک کے ساتھ جذبہ خیرسگالی کے تحت اپنے وفود ان ممالک میں بھیجے اور اچھے تعلقات قائم رکھنے کا ارادہ ظاھر کیا۔نہ کہ یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ تیار رھو ھم تمھاری خبر لینے آرھے ھیں ۔یہ درحقیقت اس وقت کے حالات کے مطابق فیصلہ تھا اور بعد میں جب مسلمان طاقتور ھوئے تو پھر ان دونوں سلطنت میں اسلام کا جھنڈا لہرایا ۔

پاکستان کے موجودہ نازک حالات فوری طور پر اس تلخ حقیقت کا تقاضا کرتے ہیں کہ ھم کسی بھی ملک کے ساتھ کسی بھی قسم کا جھگڑا مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور نہ ھی ھمیں دوسروں کی لڑائیوں میں اہنے آپ کو گھسیٹنے کی ضرورت ہے ۔

امریکہ میں فوری طور پر کسی انتہائی محب وطن ذھین اور اچھی ساکھ کے مالک شخص کو سفیر کے عہدے پر تعنیات کیا جائے جسکو گفتگو کا فن آتا ھو اور وہ حکومت اور اپوزيشن میں بیھٹے لوگوں کے طرز حکومت اور ان کےمزاج سے مکمل آشنا ھو۔نہ کہ کوئ ایسا شخص جو ملک سے زیادہ اپنی ذات اور اور اپنے بچوں کی امریکہ میں مکمل سکونت اور ڈگریوں کے معاملات ھی ٹھیک کرتا رھے۔امریکی ذھین اور آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات کرنے والے کی قدر کرتے ھیں جیسا کہ ھم نے ماضی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے معاملے میں دیکھا ھے۔
امریکی عوام ایک سوال امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں اور ھم پاکستانیوں سے اکثر کرتے ھیں 
‘Why do you hate us’
تم ھم سے نفرت کیوں کرتے ھو۔اس تاثر کو ھنگامی بنیادوں پر زائل کرنے کے لئے حکومتی اور عوامی سطح پر مُسلسل ڈائلاگ کا سلسلہ شروع کرنا ھوگا ۔صرف ایک مثال یہاں دینا چاہتا ھوں اور وہ ھے امریکہ کا مسئلہ کشمیر پرکوئی ایکشن نہ لینا اور اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ میں آباد ھندوستانی لابی اور شہریوں کا اپنے ملک کا کیس موثر طریقے سے اجاگر کرنا ۔

عمران خان امریکیوں کی نظروں میں اس دن سے ایک “خطرناک” شخص کے روپ میں موجود ہیں جب انھوں نے ڈرون حملوں کے خلاف شمالی وزیرستان جانے کے لئے ایک جلوس کی قیادت کی تھی اور جس میں کچھ امریکی سول سوسائٹی اور کچھ ایسی تنظیموں کے لوگ شامل تھے جو امریکی اسٹبلشمنٹ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔

مگر مت بھولیں کہ اسی امریکہ نے موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو امریکہ میں داخل ھونے پر پابندی لگا دی تھی مگر جب بطور وزیراعظم یہی مودی جب امریکہ کے دورے پر تشریف لائے تو انکا تاریخی استقبال ھوا ۔کیا عمران پاکستان کے بہترین مفاد میں مودی جیسے تاریخی استقبال کو دھرا سکتے ھیں ۔
ماضی میں پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کے لئے جتنی بھی کو شیش کی گئ وہ کسی نہ کسی مرحلے میں * ھماری قومی غیرت اور ھماری ریاست ٹیکساس سے بڑی انا * کی نظر ھو جاتی رہیں۔اور کبھی امریکی پالیسی میکرز کو ھندوستانی اور اسرائیلی لابسٹ کے روٹھی دلہنوں کی طرح چہرے صیح فیصلے نہ کرنے دیتے ۔
ایک اور انتہائی اھم ایشو جس پر ھم نے امریکیوں کو کسی حد تک اپنے آپ کو ان سے ھمیشہ کے لئے دور کرلیا وہ سی پیک پر چین کے ساتھ جذباتی انداز میں تعلقات کو اس جگہ پر لے جانا ھے جیسے ایک چھوٹا بچہ کلاس میں اپنے پرانے دوست کو چڑانے کے لئے نئے دوست کے ساتھ اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال نکال کے اسے دکھا کر کھائے ۔

یاد رھے چین اور امریکہ تعلقات میں اگر امریکہ نے پاکستان کی قربانی مانگی تو چین ایک لمحہ ضائع کئے بغیر جھنڈی دکھا دے گا ۔سی پیک کی رقم اتنی بھی بڑی نہیں کہ چین اس کی قیمت پر امریکہ کو ناراض کردے۔
جہاں تک روس کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات کا تعلق ھے تو اب جب کے دنیا کے دو بڑے دشمن ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے معاملات ٹھیک کر رھے ھیں تو ھمیں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر روس کے ساتھ فورء طور پر حکومتی اور عوامی سطح پر وفود کا تبادلہ شروع کر دینا چاہئے ۔اور کم از کم لیاقت علی خان مرحوم کے دور میں ایک غلط فیصلے کا ازالہ زوروشور سے بہتر تعلقات قائم کر کے کیا جا سکتا ھے۔شائد ماضی میں امریکی ناراضگی سے بچنے کے لئے ھم نے پہلے ھی دیر کردی ھے ۔مشرق وسطیٰ میں جاری آگ و خون کی جنگ اپنوں ھی کے آپس کے تاریخی اور مسلکی جھگڑوں کا نتیجہ ھے ۔اور پھر عالمی طاقتوں کو ھم ھی موقع فراہم کرتے ہیں ۔پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان آپس میں جاری کشمکش کو ختم کروانے کے لئے ھنگامی بنیادوں پر اپنا کردار ابھی سے پہلے سے زیادہ بھرپور طریقے سے ادا کرنا شروع کردے۔ناکہ یہ ممالک اپکی معاشی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر آپ کو اپنی جنگ میں نہ گھسیٹ لیں۔

جہاں تک بات ھے ھندوستان کی تو اس حکومت کو ایک بات کا اِدراک ابھی سے کرنا ھے کہ نفرت کا جواب کبھی بھی نفرت سے دیکر آپ نہ بطور ایک شخص، ایک قوم اور ایک ملک کے مطلوبہ نتائج اور سکون حاصل کر سکتے ہیں ۔ااب تک ھم نے یہی دیکھا ھے کہ دونوں جانب ھندوستان میں کچھ زیادہ ،پاکستان میں کچھ کم جذبات کو بھرپور اور ڈرامئ انداز میں ایسے اچھالا جاتا ھے جیسے کہ دونوں ممالک کے درمیان اب جنگ چھڑی کے چھڑی ۔ھندوستان کا میڈیا خاص طور پر اس معاملے میں بہت آگے ھے ۔لیکن دیکھنا یہ ھے کیا اس طرح کرنے سے کیا دونوں ممالک کا ایک فیصد بھی بھلا ھوا ھے تو جواب نفی میں ھے ۔تو پھر پہلے پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ھے ۔ تو اس کا جواب بھی آخری پیغمبر اسلام دے رھے ھیں کہ انھوں نے اپنے حسن سلوک سے پہلے ایک فرد کو، پھر اپنی پوری قوم کو اور آخر میں پوری دنیا کو تسخیر کر لیا ۔ھماری بہت سی ایسی باتیں جنہیں ھم معمولی سمجھتے ھیں ایک عام ھندوستانی کے لئے بہت تضحیک کا باعث بنتی ھیں مثال کے طور پر کوئی بھی میچ جیتنے پر ھمارے نیوز چینلز اور اخبارات کی شہ سرخی ،پاکستانی شاھینوں نے ھندوستانی سورماؤں کو خاک چٹا دی۔ ابھی بھی شاید مکار دشمن اور ھندو بنئے جسے الفاظ درسی کتابوں میں ھوں ۔اس طرح کے رویے تکلیف اور دل میں آپ کے لئے نفرت کے شعلوں کو بھڑکا دیتے ھیں ۔کیا اس پر ھماری نئی حکومت غور کرے گی خاص طور پر جب عمران ریاست مدینہ کی مثال دیتے ھیں ۔دوسری طرف ھندوستان کو اس بات کو تسلیم کرنا ھوگا کہ پاکستان الحمدلله ایک حقیقت ھے اور اسکو صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں فلموں اور افسانوں کی حد تک تو ٹھیک ھو سکتی ہیں مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ھے ۔ھندوستان کو یہ بھی سمجھنا ھوگا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ھندوستان کے بہترین مفاد میں اور کسی اور نے نہیں جناح نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو امریکہ اور کینیڈا جیسے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی بات کی تھی۔

صدر ابامہ کے دور میں ایران، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ دور حکومت میں روس اور خاص، طور پر نارتھ کوریا کے ساتھ پہلے ھلکے پھلکے انداز میں ایک دوسرے کو پاگل موٹو اور بونا آدمی کہتے کہتے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت شروع کردی ۔عمران بطور کرکٹر ھندوستان میں مقبول ہیں اور اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مکمل اعتماد میں لیکر ایک اچھا آغاز کریں اور ذھن میں صرف ایک نقطہ مدنظر رکھیں کہ میرے نبی کا حسن سلوک دوسری قوموں اور ریاستوں کے ساتھ کیسا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ھم اچھے نتائج نہ نکال سکیں 
آخر میں یہ کہ کر کالم کا اختمام کروں گا اور اس کہاوت کو تھوڑا سا اپنے الفاظ میں کہ اگر تم کمزور ھو تو اپنے دشمن کے ساتھ بلاوجہ مت الجھو اور اس کی کچھ کڑوی باتیں برداشت کرلو ۔اگرطاقت اور معاشی طور پر برابری پر ھو تو پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ھمت ضرور کرو اور اگر طاقت میں اس سے بڑھ کے ھو تو پھر ” اپنے کنویں کے اوپر سے لوھے کا ڈھکن اٹھا کر جو دل چاہئے کرو۔اور ھاں سقراط نے شاہد ھمارے لئے کہا تھا کہ اسمبلی احمقوں، معذوروں، کسانوں، بیوپاریوں، ترکھانوں، دوکانداروں اور منافع خوروں پر مشتمل ھے جو ھر وقت سوچتے رھتے ھیں کہ سستی چیزیں مہنگے داموں کیسے بیچنی ھیں اور انھوں نے عوام کے بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔خدا کرے نئی حکومت ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اس ملک کو علمی برادری میں وہ مقام دلوادے جس کی خواہش قائداعظمؒ نے کی تھی اور جو علامہ اقبال کا خواب تھا ۔