ھمارا فرسودہ نظام تعلیم اور غذائی قلت کا شکار مستقبل

10

امتیاز احمد کے 4 بچے ہیں اور سب ہی سکول جاتے ہیں ۔اتوار کا ایک پورا دن میں نے امتیاز احمد کے گھرانے کے ساتھ گزارہ ،صرف یہ جاننے کے لئے ایک شخص جس کی ماہانہ تنخواہ صرف بارہ ھزار روپے ھے وہ کسطرح اپنے خاندان کی کفالت کررھا ھے۔ اور ان بچوں کی غذائی ضروریات کس حد تک پوری ھورہی ہیں ۔
صبح کے سات بجے تمام بچوں کے سامنے جو ناشتہ رکھا گیا وہ صرف چائے جوکہ بازار کے غیر معیاری ڈبے کے دودھ سے بنائی گئی تھی اور سادہ سی روٹی جس ہر ھلکا سے گھی لگا ھوا تھا۔۔اور بس۔ تمام بچوں نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا اور سکول کی طرف دوڑ لگادی۔

تمام بچوں کے زرد چہرے، کمزور اور لاغر جسموں کو دیکھ کرہی مجھے یہ جاننے میں ایک لمحہ دیر نہیں لگی کہ ان بچوں نے اپنی پوری زندگی میں ناشتے کی میز پر یا گھر میں مھکن دودہ انڈے اور پھلوں کی شکل تک نہ دیکھی ھوگی ۔اور مجھے یہ جاننے میں بھی زیادہ وقت صرف نہیں کرنا پڑا کہ غذائی قلت کے شکار ان جیسے کروڑوں بچوں نے آنے والے وقت میں کس طرح کا شہری بننا ھے ۔

اب یہاں پر میں نہ امریکی اور نہ یورپ کے ” کفار” اور جہنمی ” حکومتوں کے ان اقدامات کا ذکر کروں گا جس میں تمام سکولوں میں بچوں کو وٹامنز اور پروٹیینز سے بھرپور ناشتہ اور لنچ فراہم کیا جاتا ھے (باوجود اس کے کہ ان بچوں کو اپنے گھروں میں بھی غذائیت سے بھرپور غذائیں میسر ہیں) بلکہ یہاں پر ایک دفعہ پھر عمر فاروق کے دور کا واقعہ بیان کرکے ذہنی دیوالیہ پن کے شکار حکمرانوں کو شرم دلائی جاتی ھے۔

ایک رات مدینہ منورہ میں ایک قافلہ نے عید گاہ کے قریب پڑاؤ ڈالا، آپ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا چلیۓ! آج رات قافلہ والوں کی خبر گيری کرتے ھیں، یہ دونوں حضرات فافلہ کے قریب پہنچے اور وھی نماز پڑھنے میں مشغول ھوگۓ، ابھی کچھ ھی وقت گذرا تھا کہ ایک خیمہ سے چھوٹے بچہ کے رونے کی آواز آنے لگی، حضرت عمر رض اللہ عنہ کے قدم اس طرف بڑھنے لگے، خيمہ کے قریب پہنچے آور بچہ کی ماں سے کہا ” اللہ سے ڈرو اور اپنے بچہ کا خيال رکھو”، یعنی اگر یہ بھوکا ہے تو دودھ پلادو، پھر آپ اپنی جگہ تشریف لاۓ اور نماز میں مشغول ھوگۓ، تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر اسی بچہ نے رونا شروع کردیا آپ پھر تشریف لے گۓ اور وھی جملہ ارشاد فرمایا اور واپس آکر نماز میں مشغول ھوگۓ، رات کا آخری پہر تھا کہ بچہ کے رونے کی آواز نے آپ کو بے تاپ کردیا، تیزی سے قدم اٹھاتے ھوۓ خيمہ کے قریب پہنچے اور سختی سے ارشاد فرمایا: کہ تو کیسی بری ماں ھے کہ اپنے بچہ کا خيال نھیں رکھتی ! اندر سے آواز آئ کہ میں اسے کھلانے کی کوشش کر رھى ھوں اور یہ دودہ پینے کی ضد کر رہا ہے، آپ نے فرمایا کہ دودہ کیوں نھیں پلاتی ؟ جواب آیا، کیا تو نھیں جانتا کہ عمر کی خلافت میں اسى بچہ کو وظیفہ دیا جاتا ہے جو دودھ چھوڑ کر کھانے لگا ہو، یہ سن کر آپ کو بہت قلق ہوا اور پوچھا کہ اس کی عمر کتنی ہے؟ خاتون نےکہا کہ ابہی چند ماہ کا ہے، آپ نے اس خاتون سے ارشاد فرمایا کہ تو بے فکر ھوکر اسے دودھ پلاتی رہ…….

حضرت عمر رضي الله عنه بوجھل قدموں کے ساتھ وھاں سے مسجد کی طرف روانہ ھوۓ، نماز فجر کی امامت شروع کی اور پوری نماز میں زار و قطار روتے رھے، صحابہ کرام تشویش میں مبتلا ہوگۓ کہ کوئ پریشانی تو لاحق نھیں ھوئ ؟ نماز کے بعد ارشاد فرمایا: برا ہو عمر کا، جس کی حکومت میں نہ جانے کتنے بچے بلکتے بلکتے مرجائیں گے، پھر آپ نے منادی کرادى کہ چھوٹے بچوں سے دودھ نہ چھڑایا جاۓ، آج سے ھر بچہ کو پیدائش کے دن سے وظیفہ child benefit دیا جائیگا۔

عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بڑے زور و شور سے تصویروں کے ذریعے غذائ قلت کے شکار بچوں کے بارے میں جذباتی انداز میں تقریر کرکے ھم جیسے ” خوش فہمی ” کے شکار افراد کی ہمدردیاں تو سمیٹ لیں مگر اس کے بعد خان صاحب بھی ” والٹیرز” والے ھزار گدھوں کی حکمت کا شکار ھوکر میگا پراجیکٹس کی طرف بھاگ کھڑے ھوئے ۔

کیا اتنی سی بات بتانے کے لئے آسمان سے فرشتے اتر کر آئیں گے آج سکولوں میں جانے والے بچے آپ کےآنے والے کل کا روشن مستقبل ہیں اور غربت اور مہنگائی کی وجہ سے والدین ان کو سوائے رات کے پانی ملے سالن اور ایک روٹی کے علاوہ اور کچھ نہیں دے سکتے۔اور کیا حکومت فوری طور پر کچھ اچھی ساکھ والی فوڈ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرکے سکولوں میں لنچ بکس فراہم نہیں کرسکتی اور اگر ان باکسز میں کچھ موسمی پھلوں کے ٹکڑے، خالص دودھ کا چھوٹا پیک، چکن پیس اور ساتھ بادام یا کجھور کے دانے اور کچھ دوسری صحت مند غذا شامل کردی جائیں تو ان بچوں کی نہ صرف نشوونما بہتر ھوگی بلکہ پڑھائی میں بھی بہت بہتر رزلٹ دیں گے۔
کیا پچاس لاکھ گھر بنانا زیادہ ضروری ھے اور کیا اگلے ستر سالوں میں ھم نے پھر وھی کچھ دیکھنا ھے جو آج دیکھنے کو مل رھا ھے ۔خدارہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اگر مدد مانگنی ھی ھے تو پہلے اس طرح کے اھم مسائل کے حل کے لئے مانگیں ۔