میرے خواب مت چھینو

59
جمال خان (واشنگٹن )
معین اکبر سے میری  ملاقات کا دورانیہ صرف پنتالیس منٹ کا تھا اور وہ بھی اس کے اپارٹمنٹ کمپلیکس کی پارکنگ میں۔ اس ملاقات کا زریعہ بنا  تھا میرا دوست جبران جس نے ایک دن مجھے  کالج سے واپسی پر اپنے ساتھ گاڑی میں یہ کہہ کر بیٹھا لیا کہ اسے اپنے کزن(معین) کی ایک کتاب واپس کرنی ھے ۔راستے میں جبران نے مجھےمعین کے بارے میں صرف اتنا ھی بتایا کہ وہ مجھے مستقبل کے بل گیٹس سے ملانے جا رھا تو ھے تو میرا تجسس مزید بڑہ گیا۔
قصہ مختصر جب ھم باتیں کرتے کرتے ارسلان کے اپارٹمنٹ کے سامنے پہنچے تو اسے پارکنگ لاٹ میں اپنا منتظر پایا۔رسمی تعارف کے بعد جب معین سے اس کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کا سلسلہ شروع ھوا تو  انیس سالہ اس نوجوان کے بلند ارادوں، سنہرے مستقبل کی خوبصورت باتوں، اس کے جنرل نالج کی گہرائی اور کمپیوٹر فیلڈ میں اتنی سی عمر میں عظیم کامیابیوں کی تفصیلات سن کرھی یہ سوچ کر میرا سر فخر سے بلند ھوگیا کہ جب انشالله بہت  جلد پورے امریکہ میں اس نوجوان کا ھر طرف چرچا ھوگا اور ایک اور ” پاکستانی امریکن ” کا نام نیوز چینلوں اور اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنے گا۔
بدقسمتی سے معین کے ساتھ میری یہ واحد ملاقات تھی کہ اس کے بعد میں بھی امریکہ کی تیزرفتار اور نفسانفسی سے بھرپور زندگی کی نظر ھوگیا ۔
قارئین یقیناََ آگے پڑھتے ہوئے انتظار کررھے ھوں گے کہ کب آپ معین کی بھرپور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں، مگر یہاں سے معین کی اس کہانی کا دوسرا رخ شروع ھوتا ھے ۔
معین سے ملاقات کے کوئی ایک برس کے بعد ایک رات جب میں سونے کی تیاری کر ھی رھا تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی۔کال موصول کرتے ھی دوسری طرف سےایک انتہائی پریشان اور گھبرائی ھوئی آواز میں کہا گیا کہ میں معین اکبر کا چچا بات کر رھا ھوں اور میں نے جبران سے آپکا نمبر لیا ھے ۔کیا آپ کا ان دنوں معین سے کسی قسم کا کوئی رابطہ ھوا ہے کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سےگھر سے لاپتہ ھے۔
اگرچہ میری معین سے ملاقات ھوئے ایک عرصہ بیت گیا تھا مگر اس کے چچا کی بات سن کر معین سے پہلی ملاقات کا سارا منظر ذہن کے گوشے میں تازہ ھوگیا۔
میں نے چچا سے افسوس بھی کیا اور انھیں جب یہ بتایا کہ مجھے معین کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں کہ میں اس سے صرف ایک بار ھی مل پایا تھا انھوں نے مزید بات کئے بغیر شکریہ بول کر فون  تو بند کردیا مگر میری نیند اس دوران رخصت ھو چکی تھی اور میں بےچینی سے رات کے خاتمے کا انتظار کرنے لگا کہ اگلے دن جبران سے رابطہ کرکے  اس واقعہ کے بارے میں جان سکوں ۔
دوسرے دن شام کو جبران سے مل پایا اور ملتے ھی فوراً معین کے بارے میں سب کچھ پوچھ ڈالا ۔جبران سے معین کے خوبصورت خوابوں کی تعبیر کے متعلق پوچھا اور اسے رات کو چچا کے فون کے بارے میں بتایا ۔
اس کے بعد جبران نے مجھے وہ کہانی سنائی جسے سن کر میں ایک لمحے کے لئے سکتے میں چلا گیا ۔
جبران نے بتایا کہ معین ایک دن  شام کو انتہائی خوش وخرم گھر واپس آیا اور آتے ھی اپنے والدین کو خوشخبری سنائی کہ اسے آج بل گیٹس کی کمپنی مائیکروسافٹ نے جاب آفر کا لیٹر بھیجا ھے اور معین سے کہا گیا کہ آپ اگلے ھفتے مائیکروسافٹ کے ریجنل آفس میں صبح دس بجے آجاہیں جہاں ایک سنہرا مستقبل آپ کا انتظار کررھا ھے ۔اس دن معین اور اس کے والدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا اور انہیں اپنے ہونہار بیٹے پر فخر تھا اور ماں باپ اس کی نظر اُتارتےاور پیار کرتے تھکتےنہ تھے۔
مگر معین ور اس کے والدین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کے ائندہ آنے والے چند دنوں میں ایک سیاہ دن طلوع ھونے والا ھے جو اس کے سارے خوبصورت خوابوں کو اپنی سیاہی سے ملیامیٹ کردے گا ۔
معین کے والدین کوئی زیادہ مذہبی لوگ نہیں تھے مگر رمضان اور نماز جمعہ کے لئے اس کے والد مسجد باقاعدگی سے جاتے تھے ۔بقول جبران کے ایک دن معین کا ایک دوست اسے اپنے ساتھ جمعہ کی نماز میں ساتھ لے گیا اور معین نے کھبی زندگی میں یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ آج کے بعد اس کے خوبصورت خواب ریزہ ریزہ ھونے جا رھے ھیں ۔
مسجد میں نماز سے فارغ ھونے کے بعد جب معین اور اسکا دوست گھر واپس جانے کی تیاری کر  ھی رھے تھے تو ایک شخص جس کی عمر لگ بھگ 35 سال ھوگی معین کی طرف آیا اور چہرے پر بھرپور مسکراہٹ لئےپیار بھرےلہجے میں کہا کہ اس نے معین کو پہلی دفعہ مسجد میں دیکھا ھے اور معین کو تلقین کی وہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے مسجد آیا کرے۔اس نے معین سےدوبارہ جلد ملنے کے لئے بھی درخواست کی۔
اگلی ملاقات میں اس باریش شخص نے معین سے اسکے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں اور اسکی تعلیمی قابلیت سے متاثر بھی ھوا۔
مگر اس کے بعد یہ شخص جس نے خدا کے خوبصورت کلام اور اس کے نبی کریم صلی الله عليه کے اسوہ حسنہ کو سمجھنے کے بجائے ”  شاہد موت کا منظر مرنے کے بعد کیا ھوگا ” اور “قبر کے عذاب” جیسی کتابوں کو حفظ کیا ھوگا اس معصوم کو اگلے دو گھنٹے میں اپنی خوفناک باتوں سے اسقدر خوفزدہ کردیا کہ بےچارہ معین جب رات کو سونے لگا تو اس کے کانوں میں اس شخص کی آواز کوڑے بن کر برستی رھی جس میں وہ اسے اتنا عرصہ نماز نہ پڑھنے سکول کالج میں لڑکیوں کے ساتھ دوستی اور باھر سے غیر ذبیعہ گوشت کھانے ہر گناہ اور اس کی سزا کے بارے میں بتارھا ھے ۔
معین اسقدر خوفزدہ ھوا کی بقول اس کے والدین کے وہ آدھی رات کو خوف ناک چیخیں مارتا ھوا نیند سے بیدار ھوجاتا اور زور زور سے کہتا امی امی ابو مجھے بچالیں مجھے اہنے چاروں طرف آگ ھی آگ دکھائی دے رہی ھے مجھے بڑے بڑے خوفناک آژدھے ڈس رھے ھیں امی مجھے بچاؤ. مجھے بچاؤ پلیز۔
پھر یہ ھر رات کا معمول بن گیا اور والدین کے بار بار پوچھنے پر بھی معین اس شخص کے خوف کی وجہ سے اپنے والدین کو  اصل حقیقت نہیں بتا سکا کہ اس کی ساری زندگی کو ایک ایسے شخص نے برباد کردیا جو دنیا کی اس زندگی پر لعنت بھیجتا ھے اور صرف آخرت کی تیاری اور جنت کے حصول کو ھی مسلمان کی زندگی سمجھ بیٹھا ھے۔
معین نے اس کے بعد اپنی ساری کتابوں کو ردی کی ٹوکری کی نظر کیا، مائیکروسافٹ والوں کے ساتھ انٹرویو میں مقررہ تاریخ کو پیش نہیں ھوا اور اس کے خوبصورت سنہرے خواب ایک مذھبی جنونی کی وحشت کی نظر ھوئے اور  ایک ھونہار نوجوان  بطور آمتی اپنے اس نبی کو خوشخبری نہ دے سکا کہ جس کے کانوں نے خدا کی طرف سے پہلا لفظ ھی”اقراہ” سنا تھا اور جس نے علم کوھر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا ھے اور جس کا فرمان تھا علم حاصل کرو چاہئے چین جانا پڑے۔
معین کچھ عرصے کے بعد گھر تو واپس آگیا مگر یہ وہ معین تھا ھی نہیں بلکہ ایک ویران آنکھوں، منتشر خیالات ،ناامیدی اور مایوسی سے مرجائے ہوئے چہرے والا ایک پریشان حال اور ایک زندگی سے تھکا ھوا معین تھا ۔
قارئین اس واقعہ کو ایک طویل عرصہ گزر گیا اور نہیں معلوم معین کے والدین اس کے بعد اپنے اس ہونہار بیٹے کو  علاج کے لئے کہاں لے کر چلے گئے .
یہ صرف ایک واقعہ کا ذکر تھا۔ میں نے اب تک اپنے اردگرد اپنے دوستوں اور خاندان میں سینکڑوں ایسے افراد دیکھے ہیں جو ذھانت میں اپنی مثال آپ تھے جو اپنی اپنی فیلڈ کے ماسٹر تھے اور یہ لوگ معاشرے اور اپنی قوم کا سرمایہ تھے مگر بدقسمتی سے زندگی کے اس مرحلے پہ ان لوگوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا اور اپنے آپ کو صرف جنت کے حصول اور نادان مذھبی علماء کی پرفریب باتوں میں آکر نہ صرف اپنے خاندان اپنے معاشرے اپنی قوم کے ساتھ سخت زیادتی کی بلکہ نبی کریم کے امتی ھونے کا حق بھی ادا نہیں کیا۔ آپ لوگوں کے اردگرد بھی یقیناََ ایسے لوگ موجود ھوں گے جنھوں نے اپنے بہتر ین دماغوں کو جو کے خدا کی ایک بہت بڑی نعمت ھے اس کا استعمال  چھوڑ کر اپنے لئے آسانیاں پیدا کر لیں ۔میں نے امریکہ میں سینکڑوں ایسے لوگوں کو بہترین نوکریاں چھوڑتے ہوئے ٹیکسی چلانے کے شعبے کو اختیار کرتےھوئے دیکھا ھے۔ اور وجہ یہ بتائی گئی کہ ھماری نمازوں اور دوسری عبادات میں ھرج ھوتا تھا۔
 اب ذرا اپنے اپنے دل پر ھاتھ رک کر بتائیے کہ اس سوچ کے مالک لوگوں کے گھروں میں کتنے معین اکبر پرورش پا رھے ھوں گے؟ 
میں آپ سب لوگوں کے سامنے ایک اور سوال رکھتا ھوں کہ جب آپ اپنے بچوں کے لئے سکول میں داخلے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پوری چھان بین اور تسلی کرتے ہیں کہ سکول کی ریٹنگ کیا ھے، ڈرگ فری زون ھے یا نہیں، اردگرد کا ماحول کیسا ھے سکول میں کرائم کے کتنے واقعات ھوئے ھیں ۔اس کے بعد آپ اپنے بچوں کے حق میں بہترین فیصلہ کرتے ہوئے سب سے اچھے سکول کا انتخاب کرتے ھیں ۔لیکن کھبی آپ نے یہی اصول اپنے بچوں کے لئے دینی تعلیم دینے اور قران اور نبی کریم کی باتیں بتانے والے صاحب کے لئے بھی اپنایا ؟ کیا آپ نے اپنے معصوموں کو ان  کے حوالے کرنے سے پہلے اس دینی تعلیم دینے والے کے بارے میں بھی چھان بین کرلی ھے کی موصوف کے اپنے خیالات کیسے ھیں ۔وہ کس طرح کی سوچ کے مالک ہیں؟ کون کون سے کتابیں پڑھ چکے ھیں یا ان کا پسندیدہ لکھاری کون ھے؟  کیا فلسفہ، منطق، فقہ، عالمی ادب سےبھی کھبی شغل فرمایا؟  عالمی حالات سے کتنے باخبر ہیں؟  چلیں مغربی مفکرین اور دانشور ان کی نظر میں ” کافر لکھاری ” ہیں مگر کیا کھبی رومی، سعدی،اقبال، امام غزالی، ابن عربی، ابن رشد، ابن خلدون جیسوں کی کسی کتاب پر خالی نظر بھی پڑھی ھے؟ کیا وہ غور وفکر اور  اس وسیع کائنات کے بارے میں سوچنے کے لئے بھی کچھ وقت نکالتے ھیں؟ 
ھم لوگ یوم آخرت میں صرف خدا کے آگے سرخرو ھونے کے لئے اپنے بچوں کو ان حضرات کے حوالے کردیتے ھیں جو بچوں کے لئے آغاز ھی آخری تین سپارے جن میں روز قیامت اور گنہگاروں کی سزاؤں کاتفصیل سے ذکر ھے اس سے کریں گے۔ان میں سے کتنے ھیں جو خدا کی اعلی صفات غفور ورحیم، رحمان، کریم سے آغاز کرتے ھیں ۔
خدارا اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے بچوں کو اپنے مذھب اپنے دین کے بارے میں اس انداز سے سمجھائیں کہ وہ یہ سوچ کر دنیا میں نام پیدا کریں کے اس سے ان کے خوبصورت مذھب ،ان کے خاندان،  ان کی قوم اور ملک کا نام تو روشن ھوگا ھی مگر ان سب سے بڑھ کر نبی کریم کو فخر ھوگا کہ ان کے امتی نے دنیا میں میرا نام روشن کیاھے۔
ان دینی اور مذھبی لوگوں سے بچوں کو دور رکھیں جو معین اکبر جیسوں کے خواب چھین لیتے ہیں ۔اپنے بچوں کے روزمرہ کے معاملات سے باخبر رہیں اور اپنے اندھے عقیدوں اور اندھی تقلید  کا پرچار ان کی عمروِں کے حساب سے کرٰیں۔انھیں خدا کے رحمان اور رحیم والی صفات کے بارے میں بتائیں ۔رسول اکرم صلی علیہ کے بچپن کے واقعات سے آغاز کرٰیں اور ان کا شعور جب اس مقام پر پہنچے جہاں انھیں اچھے برے کی تمیز کرنا آجائے تو پھر ان کے سامنے ایک شفیق اور مہربان کی طرح جزا و سزا کا صفحہ کھولیں ۔ ھم تو چھ سال کے بچے کو بھی عذاب قبر کے قصے سنانے بیٹھ جاتے ھیں ۔ذرا غور کرٰیں کے اپنے بچے کےساتھ کیا اس  سے بڑی زیادتی ھوسکتی ھے۔ اس کے کچے ذہن میں یہ باتٰیں ڈالنے سے آپ پوری عمر کے لئے اسے ایک خوفزدہ شخص بنادیں گے۔
اسلام ہی وہ مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے جس نے اس دنیا سے باھر کی دنیا،  اور ذرہ سے لیکر انسان اور تمام کائنات کی معلومات دی۔اس تحریر کا مقصد کسی بھی مذھبی علماء یا مولوی حضرات کی تذلیل نہیں ھے یا خدانخواستہ میں  بچوں کو دینی تعلیم دینے کے خلاف کچھ کہنا چا رھا ھوں بلکہ میں ان تمام حضرات کو تو قصوروار  سمجھتا ھی نہیں کہ ان لوگوں کو بھی تو ان کے اساتذہ اور ان کے بڑوں نے اتنی ھی تعلیم دی اور ان کو بھی وہ مواقع ملے ھی نہیں کی وہ اپنے علم کو وسعت دیتے ۔بس اتنی سی گزارش ھے کہ بچوں کو دین اور قرانی تعلیم ان کی عمر اور سمجھ بوجھ کے مطابق دلوائیں تاکہ وہ دنیا میں بھی اعلی تعلیم حاصل کرکے بطور امتی اپنے نبی کریم کےسر کو فخر سے بلند کریں اور اپنے دین و مذھب کا چرچا پھر سے اس طرح کردیں جیسے ابتدائے اسلام کے وقت تھا ۔خدا ھم سب کو سچی ھدایت دے آمین!