بچھڑا کچھ اس ادا سے

    63

    آج واشنگٹن اور اس کے گردو نواح میں ایک عجیب سا سناٹا ہے فضا سوگوار ہے اور دل کو یقین نہی آتا کہ پچھلے چالیس سالوں سے پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کرنے والے ہر دل عزیز محترم چوہدری اسلم صاحب ہم سے روٹھ کر ہمیشہ کے لیے اپنے آقا کے پاس چلے گے ہیں میں اکتوبر 1982 کو امریکہ آیا تو والد صاحب کے ہمراہ راجہ صاحب کے گروسری سٹور فایو سٹار میں اسلم صاحب سے ملاقات ہوی میری عمر اس وقت ۱۵ سال تھی اس وقت نہ تو کوی پاکستانی ٹی وی چینل تھا اور نہ ہی کوی اردو کا اخبار تھا ایک اسلم صاحب ہی تھے جو ہر جگہ پاکستان کا پرچم بلند کئے رکھتے تھے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اسلم صاحب نے کہا بیٹا ویک اینڈ پہ ایک ٹکٹ کے دو مزے نہ بھولنا میں نے ان کی طرف دیکھا تو کہنے لگے ہفتہ اور اتوار کے دن آرلنگٹن کے ایک سینیما میں ڈبل فلم کا شو رکھا ہے پہلے پاکستانی فلم ہو گی پھر اسی ٹکٹ میں بعد میں انڈین فلم دیکھ سکو گے یوں اسلم صاحب سے ایک نہ ممٹنے والہ اپنائت کا رشتہ شروع ہو گیا ہر جمعرات کو اسلم صاحب کو فون کر کہ پوچھا جاتا “انکل اس ویک اینڈ پہ کونسی دو فلمیں دیکھنے کو ملیں گی 

    اسلم صاحب اپنی چھوٹی سی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ انڈین کمیونٹی کی بھی ہر دل عزیز شخصیت بن چکے تھے سال میں دو تین مرتبہ پاکستان سے فنکاروں کو بلاتے اور کمیونٹی کے لئے کانسرٹ کرواتے پہلی دفعہ پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کو اسلم صاحب کی وجہ سے دیکھا اور گاتے سنا کیا دور تھا کبھی میڈم نور جہان کی آواز واشنگٹن میں گونجتی تو کبھی نا ہید اختر،اخلاق اخمد، مہناز، ریشماں، اے نیّر، عالمگیر اور مہندی حسن جیسے گلوکار واشنگٹن میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے آتے تھے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ فلمی اداکاروں کو بھی واشنگٹن لاتے رہے سلطان راہی، مصطفے قریشی،ندیم ، شبنم اور محمد علی زیبا کو بھی اپنی کمیونٹی میں لانے والے بھی اسلم صاحب ہی تھے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک دفعہ

    دلدار پرویز بھٹی مرحوم نے واشنگٹن میں سٹیج پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ اسلم صاحب جیسے لوگ صدیوں میں چند ہی پیدا ہوتے ہیں جو مالی طور پر اپنا نقصا ن کر کہ بھی کمیونٹی کو انٹر ٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں 

    نصرت فتح علی خان کی زندگی کا واشنگٹن میں آخری شو اسلم صاحب کا بھی آخری شو تھا اسلم صاحب وہ محب وطن پاکستانی تھے جنہوں نے پہلا پاکستانی انگلش کا اخبار شروع کیا کشمیر کے حق میں وائٹ ہاؤس کے سامنے ریلی ہوتی تو آپ سب سے آگے ہوتے کیپیٹل ہٹل کی سیڑھیوں پر مہدی حسن کا فری کانسرٹ کروا کر تاریخ رقم کی چونکہ ان دنوں واشنگٹن ایریا میں پاکستانیوں کی مساجد نہی تھی اس لیے اسلم صاحب عید کی نماز کا بندوبست کیا کرتے تھے اگر کسی پاکستانی کا انتقال ہو جاتا تو میت بھیجنے کا انتظام بھی اسلم صاحب کے زمہ سمجھا جاتا تھا ورجینیا اور واشنگٹن کے جتنے کانگریس مین یا سینیٹر رہے وہ س اسلم صاح ملتے تھے اسلم صاحب نے مجھے پہلی دفعہ کانگریس مین جم مورین کے ساتھ مجھے کمیونٹی کے ینگ لیڈر کی حیثیت سے ملایا آپ مجھے ہمیشہ کمیونٹی کی خدمت کی ترغیب دیتے ہمیشہ کہتے تھے جو Losersہیں وہ ہمیشہ تمہیں ڈسکرج کریں گے کیوں کہ یہ ناکام لوگ ہوتے ہیں ان کی باتوں پر توجہ مت دو بس فلاحی کام کرتے رہو میں جب بھی پاکستان کے لئے کوی فنڈ ریزر ڈنر رکھتا تو ہمیشہ ان سے مشورہ کرنے جاتا رہا

    اسلم صاحب ہمیشہ ظرورت مند لوگوں کی مدد کیا کرتے رہے کئی غریب بچیوں کی شادی کروای کئ پاکستانیوں کو جیل سے بیل پر نکلے میں مدد کی کئی لوگوں کی مالی امداد کی 

    اسلم صاحب پچھلے چند سالوں سے بلڈ کینسر کے موزی مرض میں مبتلا تھے لوگوں سے کم ملتے تھے کبھی فون پہ بات ہوتی تو کہتے یار کبھی جمعرات کے دن چکر لگانا آفس میں ہوں گا ابھی چند دن پہلے راوی ریسٹورنٹ والے حاجی افضل صاحب کے والد کی قرآن خوانی میں شدید بیماری کے باوجود تشریف لاے مجھ سے بڑی مخبت کے ساتھ گلے ملے میرے ابا جی کا حال احوال پوچھا اور انھیں سلام کہنے کا کہا کیا خبر تھی کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہو گی 
    جمعہ کے دن اسلم صاحب کی نماز جنازہ ہے الللہ پاک سے دعا ہے کہ جس شخس نے اپنی ساری زندگی دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی ایسے پیارے انسان کو جنت آل فردوس میں بلند درجات عطا فرماے آمین 

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

     (جنید بشیر جانی (واشنگٹن