آنکھوں دیکھا: نیو یارک میں خسرے کی وبا

9

نیو یارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے امسال گیارہ دسمبر کوہسپتالوں، صحت کی سہولیات پہنچانے والے اور ان سے وابستہ تمام اداروں کو ایک ہیلتھ ایڈوائیزری ارسال کی کہ روک لینڈ کاؤنٹی اور نیویارک سٹی میں خسرے کی وبا پھیل چکی ہے ابھی تک روک لینڈ کاؤنٹی میں 91کیسز رپورٹ ہوۓ ہیں جن میں 71مریض اٹھارہ سال سے کم عمر کے ہیں اس کے علاوہ نیو یارک سٹی میں خسرے کے 39 کیسز کا اندراج بھی ہوچکا ہےتشویس کی بات یہ کہ بروکلن بھی وبا کی زد میں ہے جہاں پاکستانی کافی تعداد میں آباد ہیں ۔ اورنج کاؤنٹی میں پانچ ایسے کیسز بھی سامنے آۓ ہیں جنہوں نے خسرے کی ویکسین نہیں لی ہوئی تھی اور ان میں سے دو کیسز ایسے ہیں جوحال ہی میں وبا زدہ علاقے روک لینڈ کاؤنٹی کو وزٹ کر کے آۓ ہیں۔

چودہ سو سال پہلے رسولؐ خدا نے فرمایا تھاکہ اگر دوسرے شہر جاؤ تو پیاز کھاؤ اور وبا کی صورت میں کوئی اپنی جگہ سے کہیں دوسری جگہ نہ جاؤ آج تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پیاز میں ایسی ٹاکسنز ہیں جو فوڈپوائیزننگ سے بچاتی ہیں اور وبا کو روکنے کے لیے کوارینٹین میژرز بچاؤ کا بہترین زریعہ ہیں۔ خسرہ یا میزلز تیزی سے پھیلنے والی خطرناک وائیرل انفیکشن ہے جو نوے فیصد ایسے لوگوں کو لاحک ہو جاتی ہے جنہوں نے کسی مریض یا ایسی جگہ کووزٹ کیا ہوجہاں اس بیماری کا مریض رہا ہو یا وبا پھیلی ہوئی ہو یہ سانس سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس کا وائیرس دو گھنٹے تک اس جگہ زندہ رہتا ہے جہاں کسی خسرے والے مریض نے کھانسا یا چھینکا ہو۔

ایکسپوژرز سے چودہ دن بعد خسرے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔خسرہ یا میزلز میں سو سے ایک سو پانچ ڈگری فارن ہائیٹ تک بخار ہوجاتاہے جس میں کھانسی ناک کا بہنا آنکھوں کا لال ہونا اس کے بعددو سے چار دن میں جسم پر پانی بھرے دانوں کا ظاہر ہونا جو کہ پانچ سے چھ دن تک رہتے ہیں جن جگہوں پر یہ دانے نکلتے ہیں وہاں شدید قسم کی خارش بھی ہوتی ہے یہ دانےچہرے سے شروع ہو کر تمام جسم پر پھیل جاتے ہیں یہ ایک خطر ناک بیماری ہے جس میں خسرے کا وائیرس آنکھ ناک پھپھڑے سے خون کے زریعےپیٹ انتڑیوں میں سے ہوتا ہوا دماغ تک میں چلاجاتا ہے اور انفیکشن کا باعث بنتا ہے مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

خسرے سے بچاؤ کے لیےانتہائی ضروری ہےکہ مریض کو فورا” اعلیحدہ سے رکھا جاۓ چونکہ یہ بیماری سانس کے زریعے پھیلتی ہے لحازہ خود بھی ماسک پہنا جاۓ اور مریض کو بھی پہنا دیا جاۓ۔ یہ ایک وائیرل انفیکشن ہے اس لیے اسکا کوئی مخصوص علاج تو ہے نہیں لیکن اگرکسی پر شک ہو تو اس کو بہتر گھنٹے میں ویکسین دینے سے افاقہ ہوجاتا ہے ویسے روٹین میں بچوں کوایم ایم آر( میزلز ممپس اور روبیلا) ویکسین کی پہلی ڈوزبارہ سے پندرہ ماہ کی عمر میں دی جاتی ہے دوسری اور آخری چار سے چھ سال کی عمر میں لگائی جاتی ہے بچوں میں اسکے سائیڈ ایفیکٹ نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن بہت ہی ضروری بات یہاں عرض کر دوں کہ وہ جوڑے جوشادی کے بعد اپنی فیملی مکمل کرنے کے چکر میں ہیں اور وہ امیگریشن یا جاب کی وجہ سے ایم ایم آر کی ویکسین لینے کو ہیں توانکو حمل سے پرہیز کر نا چاہیے کیونکہ اس دوران حمل ہونے کی صورت میں ماں کے اندر نشوونما پانے والے بچے کے دل پر اثر پڑسکتا ہے جس میں بچے کے دل کی جھلیوں کا نہ بننا بھی شامل ہوسکتا ہے اس کے علاوہ مکمل احتیاط یہ ہے کہ ہر کوئی خسرےکی ویکسین لے لے۔