میک گرلز

54

(بینا گوئندی – (واشنگٹن

زندگی میں انسان انسانوں کی تلاش میں رہتا ہے ، مگر جب مل جایئں تو چھوڑنا مقدر ہے۔حالات بناۓ نہیں تھے بن گئے تھے ، بنا دیۓ گئے تھے۔ میں تو انسے ملنا چاہتی تھی ۔مگر ادھر تو ؛ ان کو تو فرصت کا لمحہ بھر نہیں ملا۔خیر جن کو ملنا ہوتا ہے وہ مل جاتے ہیں ۔واشنگٹن ڈیلس ایرپورٹ سے اللصبح میری فلائٹ تھی۔ کراچی، لاہور ، ساہیوال اور کہاں کہاں سے بلاوے آگۓ تھے ۔ کانفرنسیں، لیکچرز اور مشاعرے تو نبھانے تھے مگر اصل وجہ تسمیہ تو اس کو معلوم تھی ۔ وہ کہاں کہاں سے لوگ ملا دیتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کا تعلق انڈیا سے ہے مگر جنگ ہماری زبان کو زندہ رکھنے کی کرتے ہیں۔ ہم بولنا پسند نہیں کرتے اور وہ اس کو پیٹ کروڑی کی طرح سینے سے لگا کر دنیا میں اس کے جشن سجا کر اپنائیت کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ تب ہی تو وہ اور ان کے ساتھی گزشتہ44 برسوں سے امریکہ کے شہر شہر میں علی گڑھ ایلومینائ کے تحت مشاعروں کا سلسلہ منعقد کرتے ہیں ۔ میری لینڈ ، ورجینیا اور واشنگٹن یعنی DMV میں ہونے والے ان کے دو مشاعرے تو ضرور ہوتے ہیں ایک قیام پاک و بھارت کے یوم کے حوالے سے اگست کے وسط میں قوی سمیلن مشاعرہ اور دوسرا موسم سرما کے آغاز میں جب  چیری بلاسم کے درختوں کے خوب صورت رنگوں کے
اندر چھپے جذبے ان کے پتوں کے بدلتے رنگوں میں اظہار کرتے ہیں ۔ مختلف شہروں میں مشاعروں کا یہ سلسلہ چل رہا تھا ۔میرے علاوہ پاکستان سے سعود عثمانی اور رحمان فارس نے شرکت کی ۔ امریکہ سے صبیحہ صبااور قانے ادا، رضی الدین راضی، حشمت سہیل اور سلمان اختر اور لندن سے بہت پیاری اور موہنی ڈاکٹر نکہت افتخار نے اس یادگار مشاعرے میں شرکت کی ۔
اب ذکر ان کا جو صدر محفل کے ساتھ ساتھ محفل جاں بھی بنے اور مشاعرہ لوٹ کر لے گئے “ خوشبیر سنگھ شاد”بھارت سے تشریف لائے اور اپنی حساس اور انسان دوست طبیعت کی وجہ سے چند گھنٹوں میں ہی لوگ ان کے گن گانےلگے۔کراچی میں اس ہی سال عالمی مشاعرے کے دوران ان سے میری پہلی ملاقات ہوئ۔ بس پھر تو وہ جس جس نگری گھومے ہمیں یاد کرتے رہے۔
مشاعرے کا پہلا حصہ اولال ذکر ہے ،وہ اس لیۓ وہ شخص ہے جو چند برس پہلے تک اردو زبان کو پہچانتا ، پڑھتا ، سمجھتا یا بولتا بھی نہیں تھا وہ اس کی خوشبو کو دنیا بھر کے خطوں سے سمیٹ کر ریختہ کے پلیٹ فارم سے گھر گھر میں بانٹ رہا ہے۔ انسان اس دنیا دست خالی آتا ہے ۔ خزانے یہیں سے سمیٹ کر دنیا کو بانٹ دے یا پھر تجوریاں کو بھر دے ، مال دنیا کا ہی ہے ۔ ناگ پور میں پیدا ہونے والے سنجیو صراف کو اردو زبان سے اسی طرح محبت ہے جیسے منشی نول کشور کو ؛ جنھوں نے تقریباً دو صدیوں قبل دوسرے علوم و فنون کے علاوہ اردو کی ناؤ کو سنبھالا دیا۔اور اہل علم ودانش کو ایک باوقار طور پر معاشرے میں مقام دلوایا۔شہر لکھنؤ میں اس کشور پریس سے وہ کونسا موضوع تھا جو چھپنے سے محروم رھا۔آج جب عالمگیریت کی فضا میں اردو زبان سے متعلق جو معاشرے ، تہذیبیں اور علوم ڈوبتے نظر آرہے تھے، سنجیو صراف ان کو ریختہ کی چادر میں ڈال کر اس گلوبل ولیج میں پہنچا رہے ہیں ۔
آج کی اس بدلتی دنیا میں اپنی ثقافت ، تہذیب اور زبان کو ایک عالمی منظر نامے پر لانے کے لئے ویب اور نیٹ کی مدد سے داغ دہلوی کے انُ الفاظ “سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے”کو سنجیو صراف نے سچ کر دکھایا۔ای کتابیں ،جشن ریختہ اور اردو کے حوالے سے فن اور فنکار کا نام زندہ رکھنے کا بہت بڑا بیڑا اس نرم لحجے اور مضبوط ارادوں سے طرز کہن کی مانند اردو زبان جس کا سفر ہندی، ہندوی،دکنی،ریختہ،اور ہندوستانی سے ہوتا ہوا آگے بڑھ کر اردو بنا!بھرپور تالیوں میں ہمارے ساتھ بیٹھے سنجیو جب اسٹیج پر آئے تو ان کی آنکھیں تشکر سے بھر آئیں اورمُہ سے صرف چند لفظ محبت کے ہی نکلے۔مزے کی بات یہ تھی کہ انہوں نے اکثر ریختہ کی فیملی کے ممبرز کو پہچان لیا۔ تب ہی تو مجھے بھی ملتے بولے “بینا جی آپ ہمارے لیۓ بھیجتی رہا کریں۔ “بوستان خیال اور فسانہء آزاد سے لے کر آج تک کے ادب کے فن پاروں کو دنیا کے سامنے لانے والے کو سب لوگوں نے ہال میں کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کیا۔ان کی بیٹی جو نیو یارک میں زیرتعلیم ہے وہ بھی ان کا اس میں بھر پور ساتھ دے رہی ہیں ۔
تقریب کےاختتام کے بعد ڈنر اور رات کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے مگر میں نے تو وہیں سے پاکستان کی پرواز کے لیۓ وہیں سےایرپورٹ جانا تھا ۔تقریباً چودہ گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد دبئی انٹرنیشنل ائرپورٹ پر جہازلینڈ ہو گیا مگر میں تو محب اردو کے حصار میں تھی۔بارہ گھنٹے کے لیۓ ائرپورٹ پر ہی ائرلائن نے ہوٹل دیا۔چند گھنٹے آرام کے بعد سوچا کہ اب ایرپورٹ پر گھوما جاۓ،اب تو ساری دنیا ایک ہی جیسی دکھنے لگی ہے،وہی ڈیزانرز شاپس بس شکلیں انسانوں کی کچھ بدلی بدلی لگتی ہیں ۔ابھی کہیں آگے بڑھتی تو بیچ بازار میں لگی دوکان جو “میک” میک اپ برانڈ ہے میں موجود نوجوان دو حسیناؤں نے مجھے گھیر لیا اور فری میک آپ ٹرائ کرنے کی آفر کرنے لگیں ۔ان ہی میں ایک جاپانی شکل و صورت والی لڑکی کی بار بار مسکراہٹ نے تو مجھے اس قدر اپنے دائرہ محبت میں لے لیا کہ آفر کو رد نہ کر پائ۔ بس اب تو میں نے اپنے آپ کو اس جاپانی لڑکی کے سپرد کر دیا۔اس سے پہلے وہ کوئ پروڈکٹ بیچتی میں نے اس سے بات چیت شروع کر دی ۔

سیاہ ٹاپ اور منی سرکٹ والی اس لڑکی نے جب بات شروع کی تو حیران رہ گئی وہ تو فر فر اردو /ہندی بول رہی تھی۔ارے یہ کیا”وہ جھٹ سے بولی” میڈم میں کلپنا ہوں اور میرا تعلق نیپال سے ہے”دراصل میں اور میرا شوہر پچھلے آزٹھ برسوں سے ادھر رہتے ہیں وہ کمپیوٹر انجینیر ہے،ہمارا ایک بچہ بھی ہے بس فلیٹ کا کرایہ اتنا زیادہ ہے کہ مجھے اپنا پانچ سالہ بچہ چھوڑ کر چھہ دن کام کرنا پڑتا ہے”

اب وہ میرے چہرے پر کیا رنگوروغن کرتی اس نے تو میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا کہ آج کی ترقی یافتہ عورت کس طرح اپنی آزادی کی بولی لگا کر کام کر رہی ہے۔اس سوال کا جواب آج کی عورت کے پاس نہیں ؛
اب وقت سیکورٹی کلیئرنس کا آن پڑا اور پاکستان جانے والے تمام مسافر ایکُ لاوئج میں اکھٹے ہو چکے تھے۔ایک بہت بڑا ٹولہ جس میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے وہ شوروغلُ کرتا ہوا آن دھمکا۔یہ سب لوگ عمرہ کی سعادت کر کے واپس آۓ تھے ۔گاوں کے اس قافلے میں بچے بڑے ،لڑکی اور لڑکیاں تو شامل تھیں مگر ایک خاتون جن کی عمر اسی برس کے لگ بھگ تھی وہ سر پر ایک بھاری بھرکم گٹھڑی اٹھا کر ادھر سے ادھر گھوم رہیں تھیں ۔میں نے سوچا دیکھو یہ ان کی نانی یا دادی ہیں اور ان نوجوانوں میں سےکوئ بھی ان کی مدد نہیں کر رہا ۔ میں نے بڑھ کر کہا” اماں جی تسی اے سر توں لا دو تے ایتھے آکے بےجاؤ”وہ بیٹھنے پر راضی ہو گیں مگر سر کی گٹھلی کو اتارنے کو راضی نہ تھیں۔وہ بولیں “پت اے سارے کپڑے لتے آب زم زم وچ پاک کر کے لے کہ آندے نیں، اے سچے سودے نوں اوچا ہی رکھنا اے”۔میرا ذہن سنجیو سے کلپنا اور پھر اس اماں جی کے سچے سودوں کا بھاؤ کیا لگاتا!بس بورڈنگ شروع ہو چکی تھی اور میرے آگے تیقن سے سرشار “میک گرل”سر پر گھٹھڑی اٹھاۓ جہاز میں داخل ہو رہی تھی۔