امن۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ

    12

     

    کشمیرکے ضلع پلوامہ میں خودکش حملہ کے بعد پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان جھڑپ نے پاکستان اوربھارت کو جنگ کے دہانے پرلاکھڑا کیاتھا۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور ہی بڑا ہولناک ہے کیونکہ ترقی اورآگے بڑھنے کا واحد راستہ دونوں ملکوں کیلئے جنگ کی بجائے امن ہی ہوسکتاہے۔

    اسی راستہ کی نشاندہی معروف صحافی تارن باسو نے گذشتہ ماہ سائوتھ ایشیا مانیٹر میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں کی ہےاوردونوں ملکوں پر زوردیاہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب نوے کروڑ انسانوں کیلئے سوچیں لیکن زمینی حقائق جاننے والوں کیلئے ایسا کرنا ایسا سوچنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔

    قوم پرستی کی لہر نے منطقی اورتعاون کی راہوں کومسدود کرکے رکھ دیاہے اوریہی تارن باسو کا بھی کہنا ہے جو لکھتے ہیں کہ جذبہ قومیت عموما ً منطق اور باہمی بات چیت کی نفی کرتا ہے ۔ غیر منطقی بیان بازی اور منافقت کے علاوہ فروری کے واقعات میں جو چیز دونوں جانب کی میڈیا رپورٹنگ سے ثابت ہوئی ہے وہ پاکستانی میڈیا کا سچائی سے منہ پھیرنا اور انڈین میڈیا کی تنگ نظری ہے جو ہوائی حملوں کے دوران پیدا ہونے والے جنگی جنون کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ سکتا۔

    فروری کے اس واقعہ کے بعد دونوں ممالک اب خوش قسمتی سے ایسی صورتحال سے بچائو کےلئے اقدامات کررہے ہیں۔ یوم پاکستان کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو خطہ میں امن و آشتی کیلئے ساتھ مل کر چلنے کے عزم کا اظہارکیاہے۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے یہ خط موصول ہونے کے بعد اس کے مندرجات سوشل میڈیا پر شیئرکیے ہیں۔اس خیرسگالی کے باوجود بھارت نے سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کرتارپورکوریڈور، جہاں بھارتی سکھوں کو ویزہ فری انٹری کی سہولت دینے کیلئے پاکستان راضی ہے، پر مذاکرات ملتوی کردیئے ہیں۔

    یہ التواء ظاہر کرتاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برف ابھی پگھلنا شروع نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک میں برف پگھلنے کی ہزارہا وجوہات بھی موجود ہیں جن میں سب سے اہم دونوں ممالک کی دو ارب کے لگ بھگ آبادی کو تباہی سے محفوظ رکھناہے۔ دیگر وجوہات میں پرامن بقائے باہمی کے اصول کو اپنا کر دونوں ممالک اپنے عوام کی خوشحالی پر بہترانداز میں توجہ دے سکتے ہیں۔ 

    امن برقرار رکھ کر بھارت اپنی ہائی گروتھ ریٹ برقرار رکھ سکتاہے جس کے ذریعہ وہ دنیا کی بڑی معاشی اورسیاسی قوت بننے کی منزل حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتاہے۔

     

    مزید یہ کہ بھارت کیلئے موقع ہوگا کہ وہ ملک میں امیر اورغریب کے علاوہ اورشہری ودیہی آبادی کے درمیان پائی جانے والی خلیج کے خاتمہ کیلئے موثراقدامات کرسکے۔بھارت میں ہرسال لاکھوں نوجوانوں کو روزگارکی فراہمی کا چیلنج بھی بھارتی حکومت کو درپیش ہےجسے وہ پرامن رہ کرہی پورا کرسکتی ہے۔

     

    دوسری طرف پاکستان پرامن برصغیر میں اپنے دفاعی اخراجات میں کمی لاسکتاہے اوراس کے ساتھ ساتھ اپنی افرادی قوت کی تعلیم وتربیت اورہنرمندی کیلئے وسائل بروئے کارلاسکتاہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی آبادی کا بڑاحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

     

    ان بنیادی وجوہات کے باوجود اب تک دونوں ملکوں کے درمیان امن کے محاذ پر خاطرخواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ بھارت پاکستان کے ساتھ کئی عشروں سے جاری کمپوزٹ ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے سے ہچکچارہاہے جو2008 ء میں ممبئی حملوں کے بعد سے تعطل کا شکارہیں۔دوسری طرف پاکستان بھارت کو دہشت گردی سمیت تمام حل طلب مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کرچکاہے۔ اس کے علاوہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف اے ٹی ایف) کے اہداف بھی پورے کرنے کی یقین دہانی کراچکا ہےجن میں اپنی سرزمین پر مسلح تنظیموں ، جودونوں ملکوں کے درمیان امن کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں، کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے ۔

    یہ تمام عوامل اس وقت وقوع پذیر ہورہے ہیں جب بھارت میں عام انتخابات میں اگلی حکومت کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں اوراب تک کے عوامی رائے عامہ کے جائزوں  کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اوران کی بی جے پی کو دوسری جماعتوں پرمعمولی برتری حاصل ہے۔ جیت کسی کی بھی ہو مگراہم بات یہ ہوگی کہ ان الیکشن کا فاتح امن کو جنگ پر فوقیت دے۔ تارن باسو کے مطابق بی جے پی ہو یا کانگریس ،نئی بھارتی حکومت کو دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی سنگدلانہ دشمنی اورسفارتی   تعطل کو دورکرنے کیلئے ازسرنو اقدامات کرناہونگےجس نے خطہ کی سلامتی کو یرغمال بنارکھاہے اوردونوں ممالک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

    اسی طرح پاکستان وزیراعظم عمران خان اورانکی ٹیم کو بھی امن کو موقع دینا ہوگا۔ پلوامہ کے سانحہ کے موقع پر خوش قسمتی سے امریکہ اورچین کی قیادت نے بیجنگ اورویتنام میں ہوتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے قابل قدر اقدامات کئے تھے مگر اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آئندہ بھی ایسی کسی صورتحال میں یہ عالمی طاقتیں دوبارہ یہ کردارنبھانے کی پوزیشن میں ہوں۔اب یہ پاکستان اوربھارت کی لیڈرشپ کی برابر کی ذمہ داری ہے کہ وہ نازک صورتحال کا خود ادراک کریں۔ جنگ کوئی آپشن ہرگز نہیں ہے اورانہیں امن کو ایک موقع دینا چاہئے۔ پاکستان اوربھارت کے عوام ،جنوبی ایشیا کی قومیں اورپوری دنیا کی خواہش ہے کہ برصغیر میں امن قائم ہواوریہ خطہ بھی خوشحال ہوسکے۔