کرپشن کا خاتمہ اور عمران خان

47

(جمال خان (واشنگٹن
ھر روز کی طرح آج بھی سرکاری دفاتر میں معمول کا کام اور روزمرہ کی چہل پہل جاری تھی اور تمام چھوٹے بڑے افسران ایک دوسرے کے ساتھ دفتری کاموں کے سلسلے میں تبادلہ خیالات کر رہے تھے کہ حکومت کی طرف سے انہیں ایک عجیب وغریب حکمنامہ موصول ہوا ۔

اس حکم نامے میں مختلف سرکاری محکموں کے آعلئ افسران اور حکومتی پارٹی کے رہنماؤں اور ان کی بیگمات کو کہا گیا کہ یہ سب لوگ ایک دن کے لئے شہرکے اندر قائم جیل کی سیر کو جائیں گے اور پورا دن وھا گزاریں گے ۔تمام افراد نے اس حکم نامے پر بلا چووچراں دستخط کرکے جیل کی سیر کی حامی بھر لی ۔

یہاں ایک لمحے کے لئے ھم اس واقعہ کو آگے بڑھنے سے روکنے ہیں اور فرض کرتے ھیں یہ احکامات حکومت پاکستان کے آعلئ افسران اور ان کی بیگمات کوموصول ھوے ھوں تو یقینی طور پر یہ سارے لوگ حکومت کو ھلا کر رکھ دیں گے اور کہیں گے “شرفاء “کے ساتھ یہ سلوک اوراس کے فوراً بعد عدالتوں میں اپنے وکلاء کے ذریعے اپیل دائر کردیں گے کہ حکومت یہ “گھٹیا ” حکم فوری طور پر واپس لے ۔

چلئے واقعے کو ذرہ آگے بڑھاتے ھیں ۔

مقررہ دن اور وقت ان تمام افسران کو جیل کے اندر داخل ھوتے ھی بتایا گیا کہ آج آپ تمام لوگوں کی ملاقات ان آعلئ حکومتی رہنماؤں اور افسران سے کرائ جائے گی جنھوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور رشوت خوری کے مرتکب ہوئے اور وہ ان جرائم میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔

نہ صرف یہ بلکہ ان تمام لوگوں کو دیواروں پر آویزاں ان مجرموں کی وہ خوفناک تصویریں بھی دکھائی گئیں جو دوران تفتیش کیمروں کی آنکھ نے محفوظ کی تھیں ۔

اس ایک دن کی “پکنک ” کے دوران ان آعلئ حکومتی اداروں کے سربراہان اور حکومتی رہنماؤں کو بڑے واضح الفاظ میں پیغام دیا گیا کہ اگر انھوں نے اپنی اصلاح نہیں کی تو اپنا دردناک انجام اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں اور ان کی ” بیگمات کو بھی بتا دیا گیا کہ ان کا انجام بھی کیا ھو سکتا۔

یہ واقعہ ھمارے سب سے قاپل اعتماد دوست ملک چین کے صوبے ہوبائ کا جہاں کمیونسٹ پارٹی نے تھوڑے عرصے میں ھی تمام بڑے مگر مچھوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال کر رشوت اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور احتساب کا ایسا کڑا نظام رائج کیا کہ نہ تو کسی شیر کو چھوڑا اور نہ ہی کسی مکھی کو ۔
پاکستان میں ائندہ چند روز میں پی ٹی آئ کی حکومت اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے جا رھی ھے ۔میں دعوے سے کہنے جارھا ھوں کہ اگر عمران خان اپنے ابتدائی تین ماہ میں چین کے اس ماڈل کو اپنا لیں اور اپنی حکومت کے تمام وزراء،تمام آعلئ افسران، بیوروکریٹس کو مختلف گروپوں کی صورت میں جیلوں میں بند قیدیوں کے ساتھ پورا دن گزارنے کے احکامات دیں بلکہ ان کے ساتھ آئ ھوئ بیگمات کو چند گھنٹے مزید دیں تاکہ وہ اپنے اپنے “مزاجی خداؤں” کو “اپنی تنخواہ “میں گزارہ کرنے کا بھاشن روزانہ کی بنیادوں پر صبح دفتر جاتے ھوے دینا نہ بھولیں ۔

عمران خان کو اس کا آغاز اپنے کیبنٹ منسٹرز اور چاروں وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کو ایک پورا دن اڈیالہ جیل میں قید “وی آئی پی” قیدیوِں سے ملاقات اور دوران تفتیش اختیار کئے گے طریقوں کے بارے میں بتانے سے کرنا چاہئے

 اور آعلئ افسران کو فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے قیدیوں کے ساتھ ایک پورا دن گزرانے کے لئے بھیجا جائے اور حکومت یہ اعلان کردے کی اگر یہ لوگ بدعنوانی رشوت خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پائے گئے تو وہ اپنا انجام اچھی طرح دیکھ لیں ۔نئی حکومت کو ھر صورت میں آھنی ھاتھوں کا استعمال کرنا ھوگا اور یہ یقیناً ایک تکلیف دہ منظر ھوگا کہ 70 سال سے ھم نے ایسے ھوتے دیکھا نہیں مگر قوموں کی زندگی میں اس طرح کے نازک مقام آتےکہ جب زخم کے ناسور بننے پر اس کو جسم کے باقی حصوں سے جدا کرنا پڑتا ھے

خان صاحب اگر آپ نے اس دفعہ مصلحتوں سے کام لیا تو پھر اس ملک کے مظلوم عوام اگلے سو سال تک پھر ایک مسحیا کے انتظار میں صرف یہ دعا کرتے ھوئے جی رھے ھوں گے کہ ” یااللہ اور تو کچھ نہیں، ھمیں صرف عزت کی موت ھی عطا فرما دے!

عمران میرے منہ میں خاک اور خدا نہ کرے ایسا وقت آپہنچے ان بےکسوں، مجبوروں اور مظلوموں کو مایوس مت کرنا کہ ان کے پاس کھونے کو اب کچھ بھی باقی نہیں بچا!