ہیروشیما ۔جلتا کشمیر ،عمران خان اور ریاست مدینہ

22

6 اگست 1945 جاپان کے شہر ہیروشیما میں ایک معمول کی روشن صبح کا آغاز ھوا ھے ۔گھر کے بڑے اپنے اپنے دفاتر اور کام کاج کی جگہ وقت مقررہ پر پہنچنے کے لئے کوئ نہانے کوئی اپنے کپڑے استری کرنے کوئی شیو بنانے اور کوئی گھڑی کی سوئیوں پر مسلسل نظریں گاڑے ناشتہ کر رھا ھےتا کہ وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے۔ دوسری طرف چھوٹے بڑے بچے سکول جانے کی تیاریوں میں مصروف اور مائیں کچن میں سب کے لئے ناشتہ بنانے میں مگن اور ساتھ ساتھ دن کی دوسری مصروفیات کو ذہن میں رکھتے ھوئے اس کی پلاننگ بھی کر رھی ہیں۔ اور پھر جیسے ھی گھڑیوں پر 8:15 کا ہندسہ نمودار ھوتا ھے ایک قیامت برپا ھو جاتی ھے۔
ان سب لوگوں کے وھم وگمان میں بھی نہیں ھوتا کہ اگلے 17 سیکنڈز میں ظلم وبربریت سفاکی٫حیوانیت اور انسانی بربادی کی ایک نئی تاریخ رقم ھوگئ ھے۔ نہتے معصوم شہریوں پر امریکا نے ایٹم بم گرا دیا تھا چند لمحوں میں پورا شہر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ھوگیا۔خوبصورت انسانی جسموں کے ٹکڑے فضا میں بکھر گئے ۔ھر طرف جلے ھوئے انسانی گوشت کی بدبو اور زخمیوں کی چیخ وپکار معصوم بچوں کہ دلخراش چیخیں ۔۔چشم زدن میں لاکھوں لوگ موت کی وادی میں اتر گئے۔جو زخمی تھے ان کی جسموں سے الگ ھوتا ھوا گوشت اور ان کا جلد ازجلد اس خوفناک حالت سے نجات کے لئے موت موت موت کی تمنا کرنا۔۔۔۔۔۔۔وہ تڑپ تڑپ کر مرتے رھے.
یہ تھا وہ خوفناک منظر جو ہیروشیما اور اور اس کے بعد ناگاساکی پر امریکا کا ایٹم بم پھینکنے کے بعد باقی دنیا نے دیکھا۔
جب سے ھندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کرتے ھوئے نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ گرا دیئے ہیں پاکستان مسلسل عالمی برادری سے اپیل کررھا ھےکہ وہ مقبوضہ کشمیر کی گھمبیر صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لے اور اس سے پہلے کی بہت دیر ھو جائے عالمی برادری اس بات کا ادراک کرلے کہ دونوں ممالک جوھری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ھندوستان میں مذہبی جنونیوں پر مشتمل مودی حکومت اشتعال میں آکر پاکستان کے ساتھ ایک ایسی اٹیمی جنگ کا آغاز کرسکتی ھے جو پھر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ھے ۔

میں یہاں ھندوستان کے ان جنونیوں کی بات نہیں کروں گا جو وحشت و پاگل پن کا شکار ہوکر آگ سے کھیلنے کے خوفناک کھیل کا آغاز کر چکے ہیں بلکہ بات کروں گا پاکستانی ریاست اور اس کے اقدامات کی۔ 

پاکستان میں خوش قسمتی سے ایک ایسا حکمران اقتدار میں موجود ھے جو مسلسل اپنے حکومتی ماڈل کو ریاست مدینہ ماڈل کی طرز پر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق چلانے کی مخلصانہ کوششیں کر رھا ھے ۔
موجودہ حکومت مسلسل اپنی سفارتی کوششوں سے اس بات کو یقینی بںارھی ھے کہ دونوں ممالک کسی بھی موقع پر کسی ایسے مقام پر نہ آجائیں کہ پھرخدا نہ کرے کہ تاریخ نویس ایک مرتبہ پھر ایک ایسی دردناک داستان لکھنے بیٹھ جائیں کہ جسے اس سے پہلے دنیا میں پہلے کسی نے نہ پڑھا ھو اور نہ سنا ۔ائیں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ھمارے آج کے اس سنگین بحران میں ھمارا دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے کیا احکامات اور عملی طریقے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ھے ۔
جو اس دنیا میں رھنے والے تمام انسانوں کو روز قیامت تک زندگی گزارنے کے تمام سنہری اصولوں سے نہ صرف مکمل آگاہی دیتا ھے بلکہ اس نے اپنے آخری پیغمبرِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس کا عملی مظاہرہ بھی رھتی دنیا تک کے حکمرانوں کو دکھا بھی دیا کہ حکمرانی کے دوران جب قوموں پر سنگین آزمائشیں آتی ہیں تو وقت کے حکمران کیسے ان بحرانوں اور آزمائشوں سے نبردآزما ھوتے ہیں ۔
دنیا کے تمام بڑے بڑے دانشور ،فلسفی سائنسدان ریاضی دان اور سارے بڑے دماغوں والے عظیم لوگوں کا سارا فلسفہ سارا علم انسان دوستی کا پرچار کرنے والوں کے تمام خوبصورت الفاظ اس وقت دھرے کےدھرے رہ جاتے ہیں جب اس کرہ عرض پر دو عالمگیر جنگوں ،عراق افغانستان ،مشرق وسطئ فلسطین سے لیکر بوسنیا روہنگیا اور کشمیرکے لاکھوں نہتے لوگوں کو اس بے دردی سے مار ڈالا گیا کہ فرشتے بھی کانپ اٹھے۔
اسلام امن اور سلامتی کا دین ھے اور قرآن حکیم کی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور حکمران دور اج بھی دنیا کے تمام حکمرانوں کو دعوت دیتا ھے کہ آؤ اور اس نظام جیسا کوئی اورنظام لا کر دکھا دو۔ 
اسلام کے نظام کی بنیاد لسانی جغرافیائی وحدت،علاقائی یا نسلی عصیبت نہیں بلکہ صرف ایک عقیدہ اور نظریہ پر ھے یہی کائنات کی بڑی اولین حقیقت ھے جس کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام مرتب کیا جاسکتا ھے۔اسلام نے بلا تفریق رنگ ونسل کی بنیاد پہ انسانیت کو اکھٹا کیا ھے اور اس لئے اسلام میں رنگ ونسل کی بنیاد پر کوئی کسی سے بالاتر نہیں ھے۔
موجودہ حکومت کو اس وقت کشمیر کی موجودہ نازک صورتحال کا انتہائی سنگین چیلنچ درپیش ھے اور عمران خان کی پوری کوشش ھے کہ کشمیر کی موجودہ نازک صورتحال کا چائے وقتی طور پر ھی کوئی ایسا حل نکال لیا جائے جو کم ازکم دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کا آمنا سامنے آنے سے روک سکے
عمران خان ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی بار دنیا کو یہ بات ذہن نشین کروا چکے کہ خدارا اس آنے والی ھولناکیوں سے دنیا کو بچایا جائے جس کی ایک جھلک آج سے 74 سال پہلے دنیا دیکھ چکی ھے ۔
آیئے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ اس طرح کے حالات میں ھم کیسے قرآن کے آفاقی اصولوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز حکمرانی اور آپ کی خارجی پالیسیوں کے حوالوں سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں ۔
یاد رھے کہ حکمت ،دانش مندی صبر وتحمل غور وفکر اور مثبت انداز فکر اور خدا پر مکمل بھروسہ وہ رہنما اصول ہیں جن کا عملی مظاہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے پورے دور حکمرانی میں ھمیں نظر آتا ھے۔
سفارتکاری سائنس وٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک مکمل آرٹ کا درجہ رکھتی ھے ریاست نبوی کے اس دور میں بھی اس میدان میں آپ نے خاص طور پر اپنے ارد گرد ایسے قابل اور ذہین لوگوں کو اس کی زمہ داری دی جنھوں نے اپنی اعلی مہارت اور شب وروز کی محنت سے اس میدان میں ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ اس دور کی بڑی طاقتوں کے حکمرانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ کون ھےوہ ھستی جس نے عرب کے ان بدوؤں کو اس مقام تک پہنچا دیا ۔
موجودہ حکومت کو اس بات کا مکمل شعور ھے کہ ابھی پاکستان کے پاس سوائے اس آپشن کے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ھے کہ وہ صرف ایک جامح اور مضبوط سفاٹکاری کے علاؤہ کشمیریوں کو موجودہ صورتحال سے نکال سکے 
عمران خان کو فوری طور پر پاکستان اور پاکستان سے باہر رھنے والے ذہین اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو ایوان وزیراعظم بلوا کر مختلف وفود کی شکل میں انہیں دنیا کے ان تمام اھم ممالک میں بھیجنا ھوگا ت جہاں وہ اپنی سفارتکاری کے جوھر دکھا کر دنیا کو ایک واضح پیغام دے سکیں کہ اگر دنیا کو جوھری جنگ سے بچانا ھے تو انہیں ھماری بات سننا ھوگی۔
اپنے نبی کے انداز حکمرانی پر قربان کے دیکھئے آج سے چودہ سو سال سےبھی پہلے آپ نے غیر ملکی زبانیں جاننے اور انہیں سیکھنے کی نہ صرف ترغیب دی بلکہ بعض اوقات حکم بھی دیا ۔
حضرت زید بن ثابت رض نے تو صرف سترہ دنوں میں بعض غیر ملکی زبانوں کو سیکھ لیا تھا 
یہ کام اتنی جلدی اور خوش اسلوبی سے کیا گیا کہ جب حضور نے اپنے مختلف سفراہ کو بیرون عرب مختلف ممالک میں بھیجا تو تمام سفراہ ان زبانوں میں گفتگو کر سکتے تھے جن ممالک میں انھیں بھیجا گیا تھا ۔
کیا ھی اچھا ھو کہ ملک بھرسے ایسے افراد کو ان وفود میں شامل کیا جائے جو مختلف زبانوں پر عبور رکھتے ھوں ۔

عمران خان اگر بار بار ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو انھیں اس بات کا علم ھونا چاھئے کہ رسولِ اکرم نے منصب سفارت پر صرف ان ہی لوگوں کا تقرر فرمایا تھاجو اس کا حق ادا کر سکتے تھے

یہاں ایک اور بات کا ذکر بھی ضروری ھے کہ رسول اللہ کے تمام سفراہ آداب سفارت سے کماحقہ واقف اور صورت حال کے عین مطابق کاروائی کرنے میں ماھر تھے 
محترم وزیراعظم صاحب آپ کے علم میں یہ بات لانا ضروری ھے کہ رسول اللہ نے معاہدات کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے نہیں جانے دیا اور ان معاہدات کے ذریعے ایک سے ایک کامیابی حاصل کرتے گئے۔تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ھے کہ کوئی بڑی سے بڑی سلطنت بھی جو سخت اندرونی انتشار میں مبتلا ھو اکثر حقیر اور کمزور دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔
اب اگر بات کی جائے ایک ریاست کا دوسری ریاست سے رویے کا تو حضرت عمر کے دور میں یہ طہ کیا گیا تھا کہ جو رویہ و معاملہ کوئی ریاست ھمارے ساتھ رکھے گی ویسا ھی رویہ ھم اس کے ساتھ رکھیں گے ۔اس اصول کی بنیاد پر پروٹوکول تجارت سفارت سفر کی سہولتوں اور دیگر معاملات طہ کیے جاسکتے ہیں ۔
اور ابھی تک حکومت پاکستان کے تمام اقدامات ان اصولوں کے عین مطابق ہیں ۔
اس وقت ھندوستان طاقت کے نشے میں اندھا ھاتھی بنا ھوا ھے اور اگر پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے ھندوستان بے شک کیوں نہ ایک لمحے کے لئے ھی صحیح اگر صلح یا مذاکرات کی طرف مائل ھو تو قرآن کا واضح پیغام ھے کہ 
اگر دشمن اس طرف مائل ھو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ھو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو یقیناً وھی سننے اور جاننے والا ھے۔
آج کی دنیا میں کمیونیکیشن ایک سائنس ھے اور میڈیا ایک ایسا ہتھیار ھے جو بغیر جنگ کئے ھی اپکو اپنے مطلوبہ نتائج دے دیتا ھے۔
عمران خان اگر اس شعبے میں بھی پاکستان اور پاکستان سے باھر موجود صحافیوں کو یہ ٹاسک دیں کے وہ دوسرے ممالک کے صحافیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے بڑے بڑے اداروں کے ساتھ فوری طور پر اپنے روابط کو بڑھانیں اور اس بڑے مقصد کےحصول کے لئے ایک بڑی رقم مختص کی جائے اور اگر ان مللکوں کے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر آئر ٹائم خریدنا بھی پڑے تو ھمیں یہ بھی کر گزرنا چاہئے۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جو وفود ان ممالک میں بھیجے جائیں وہ پچھلی حکومتوں کی طرح گاجے ماموں پر مشتمل نہ ھو جن کے ذہن میں سوائے تصویریں بنوانے اور سیر سپاٹے کے علاؤہ اور کچھ نہیں ھوتا تھا اور جنہیں انگریزی میں بات کرنا تو دور کی بات اپنی مادری زبان پر ہی باقاعدہ عبور نہیں ھوتا تھا اور نہ ھی انہیں ڈائیلاگ کا مطلب تک کا پتا یا سمجھ بوجھ ھوتی ۔
اس میدان میں ہمیں اپنے بہترین سپاہی چاہئیں ۔
جو نہ صرف اپنے موقف کو بہترین انداز سے پیش کر سکیں بلکہ اگر وہ دوسری زبانوں پر مکمل عبور رکھتے ھوں تو یہ ایک پلس پوائنٹ ھوگا ۔
آخر میں اس کالم کا اختتام ان جملوں سے کروں گا کہ جنگ صرف اور صرف تبائی اور بربادی لیکر آتی ھے اور ھم جنگی مناظر کا اپنے آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہیں اور جنگ کے بعد سسکتی انسانیت کے مناظر آج بھی عراق افغانستان شام فلسطین اور دوسرے ممالک میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ھم ہیروشیما اور ناگاساکی کے وہ خوفناک مناظر اج بھی یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں ۔ائیں سب مل کر اپنی حکومت کے ھاتھ مضبوط کریں کہ اس وقت صرف حکمت دانشمندی اور بہترین سفارت کاری کے ذریعےھی ھندوستان کو مجبور کردیا جائے کہ وہ اس خوفناک کھیل کا جلد از جلد خاتمہ کرے اور اس خوفناک آگ سے مت کھیلے کہ جو کہ اس خطے کے اربوں انسانوں کو چشم زدن میں راکھ کا ڈھیر بنادے ۔عمران خان آپ اہنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں اور پوری دنیا کو بتادیں کہ پاکستان ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ملک ھے اور ھم لوگ جنگ کی تباہکاریوں سے ھر ممکن طریقے سے بچنا چاھتے ہیں لیکن اگر ھندوستان کی طرف سے کوئی جارحیت ھوتی ھے تو پھر تاریخ نویسوں کو یہ بھی لکھنا ھوگا کہ مسلمان ریاست پر اگر کوئ دوسرا ملک جارحیت کا مظاہرہ کرتاھے تو ھم اپنے خدا کے حکم اور رسول کے احکامات کے مطابق پھر جنگ ضرور کرتے ہیں اور اس کا مظاھرہ ھم ریاست مدینہ میں دیکھ چکے ہیں ۔اے رب ھمارے پیارے پاکستان کی مدد فرما! آمین