آنکھوں دیکھا – خطاب

12

اقوام متحدہ کی تاریخ میں پاکستانی سربراہان مملکت کے دو خطے جن کی دھوم مچی ان میں سے ایک پندرہ دسمبر 1971 میں وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کا سلامتی کونسل میں خطاب جس میں انہوں نے اینگری ینگ مین کا رول ادا کرتے ہوئے قرارداد کے پرزے کرکے واک آوٹ کیا اور اگلے دن سولہ دسمبر 1971 کو ڈھاکہ فال ہو گیا دوسرا انہیں کو پھانسی پر چڑھانے والے جنرل ضیاء الحق کا اکتوبر فرسٹ 1980 والاخطاب کہ جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ تلاوت قرآن پاک کے بعد اسلام کے زریں اصولوں انصاف ریاست مدینہ میں قائم ہونے والے اسلامی بھائی چارے کے بارے میں مفصل بیان فرمایا اور پھر انہیں کے دور حکومت میں اپریل 1988 میں اوجڑی کیمپ اور پھر اگست 1988 میں پاکستان میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کے ساتھ بہاولپور میں بقول غلام اسحاق خان ان کا طیارہ پھٹ گیااور اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے سالانہ اجتماع میں خطاب ہونے سے پہلے ہی اس خطاب کی دھوم مچی ہے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب ستائیس ستمبر 2019 کو خطاب کریں گے

لیکن اس خطاب سے پیشتر انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی بھی جو کہ اسی دن اقوام متحدہ کو ایڈریس کریں گے وہ کشمیر میں کرفیو اور کشمیر کی قانونی حثیت کی تبدیلی بارے کچھ قانونی جواز مہیا کرنے کی کوشش کریں گےآتنک واد کا رونا روئیں گے اور ہو سکتا ہے پاکستان کو اس کا زمہ دار ٹھہرا کر انہیں سبق سکھانے کی بات کے ساتھ ایٹمی جنگ کی دھمکی بھی دے ڈالیں

امریکہ میں پاکستانی کشمیری فلطینیو ترکش بطور خاص اور پوری دنیا کےامریکن مسلمان بالعموم اکھٹے ہو کر مودی کے خلاف احتجاج کرنے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں امید ہے ایک بڑی تعداداکٹھی ہو گی اس خطاب کے دوران اقوام متحدہ کی بلڈنگ کے سامنے ہزاروں کا مجمع اپنااحتجاج رکارڈ کروائے گا

اس سے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کی اہمیت کا اندازہ کر یں کتنا اہم خطاب ہو گا پوری امہ اور دنیا کی نظریں اور کان فوکس ہوں گے خان کشمیر کے سفیر کا رول ادا کریں گے ریاست مدینہ پر مبنی انصاف اور انسانیت کے زریں اصولوں کی بات ہوگی کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات پر لب کشائی کریں گے انڈیا سے دوستی کی بار بار کوششوں کے باوجود انڈین ہٹ دھرمی بارے اقوام عالم کو اگاہ کریں گےآر ایس ایس کا نظریہ اور نظریہ پاکستان بارے بات ہوگی اس کے علاوہ ملکی حالات میں دہشت گردی کے خلاف کی گئی پاکستان کی عملی کاششوں بارے بریف کریں گے ملک میں کرپٹ عناصر کی گوشمالی اوراکانومی کی حالت بارے آگاہی دیں گے اور دنیا کو وہاں کاروبار اورانویسٹمنٹ کی طرف رغبت دلوائیں گے

امید ہے اس دفعہ وہ کمپوز ہو کر اپنا خطاب کریں گے ایسا خطاب جس میں کشمیر کی مظلومیت کی عکاسی ہو دھونس اور دھمکی نہ ہو ایٹمی دھمکی تو بلکل نہ ہو دنیا جانتی ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہیں جنگ سے پرہیز کی دعوت دیں افہام وتفہیم سے ٹیبل ٹاک کے زریعے سے کامیاب سفارت کاری یہ یاد رہے کشمیر ایک سلگتا ایشو ہے اسے مزید نہیں سلگانا اور یہ بھی کہ اکہتر میں اینگری ینگ مین نے ٹیبل پہ بازی ہار دی تھی لیکن اس دفعہ کشمیر کا سفیر کامیاب سفارت کاری کا مظاہرہ کرے گااپنا ایک امپیکٹ چھوڑے گا ۔ انشااللہ۔ عامر بیگ