گوجرانوالہ کے بڑے سورما، خطرے میں

34

  تحریر: حمزہ میر

   پورے پاکستان کی طرح وسطی پنجاب کے اہم شہر گوجرانوالہ میں بھی سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والے لوگوں کے خلاف كارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں قائم غیرقانونی فیکٹریوں،غیرقانونی پٹرول پمپس اورغیرقانونی پلازے مسمار کرنے شروع کر دیے گئے ہیں۔ یہ آپریشن یکم اکتوبر سے چل رہا ہے جس کی قیادت ڈپٹی كمشنر ڈاکٹر شعیب طارق وڑائچ کررہے ہیں، اور كمشنر اسداللہ فیض بھی رپورٹ لے رہے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے دال بازار میں قائم غیرقانونی دوکانیں مسمارکردی گئیں اوربازار کا راستہ بھی صاف اور کشادہ ہو گیا اور مختلف عمارتیں بھی مسمار کر دی گئیں۔ آپریشن تو چل رہا تھا لیكن حالات اس وقت دلچسپ ہو گئے جب شیخوپورہ موڑ  اور میئر گوجرانوالہ شیخ ثروت اکرام کے دفتر کے نزدیک قائم سابق وفاقی وزیر خارجہ اور دفاع خرّم دستگیر اور ان کے والد سابق وفاقی وزیر، گوجرانوالہ کے سینئر سیاستدان غلام دستگیر کا ہائی وے پر قائم غیرقانونی پٹرول پمپ اور گیس سٹیشن مسمارکرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو لوگوں کے اندر کھلبلی مچ گئی، دوپہر تین بجے کے وقت پمپ مسمار کرنے کی كارروائی شروع کردی گئی اور شام سات بجے کے قریب كارروائی مکمل کرلی گئی۔ پھرچھ بجے کے قریب خرّم دستگیر خان نے ایک بیان دیا اور اس کو انتقامی کارروائی قرار دیا، لیكن اب میں بتانے جا رہا ہوں اصل کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پمپ غلام دستگیر خان کو ایک تحفہ ملا جب انہوں نے 1965 کے صدارتی انتخابات میں سابق آمر اور صدر پاکستان ایوب خان کی حمایت اور مادر ملت فاطمہ جناح کی مخالفت کی، ایوب خان نے اپنی حمایت کرنے اور گوجرانوالہ سے کامیاب کروانے پران کو یہ پٹرول پمپ والی جگہ اور گلستان سینما والی جگہ تحفے میں لیز پر الاٹ کی۔ یہ جگہ اصل میں محكممہ ریلوے اور ہائی وے کی ملکیتی تھی، فرنٹ حصّہ ہائی وے کا تھا اور پچھلا حصّہ ریلوے کی زمین کا تھا اور آخری مرتبہ لیز 1984 میں ختم ہوئی اور اس کے بعد کبھی لیز کے لیے درخواست نہیں دی گئی۔ ڈپٹی كمشنر نے انكشاف کیا کہ جب سابق وزیر خرم دستگیر خان اور ان کے والد غلام دستگیر خان سے ریکارڈ اور لیز لیٹر مانگا گیا تو ہمیں کچھ بھی مہیا نہیں کیا گیا، اس طرح ثابت ہوگیا کہ اس زمین پر قبضہ ناجائز تھا اور اس لیے اس کو مسمار کر دیا گیا۔ اب اگلی باری سابق صوبائی وزیر و موجودہ ایم پی اے چودھری اقبال گجّر اور خاتون اول بشریٰ عمران کی قریبی دوست کے خاوند احسن جمیل گجّر کا ٹھیری سانسی کے قریب قائم پیٹرول پمپ ہے جسے بھی مسمار کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کپتان نے اپنا وعدہ پورا کرنا شروع کر دیا ہے، پہلی بار بڑے اور اہم شخص پر ہاتھ ڈالا گیا ہے اور ان کے خلاف كارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے والے اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر سچ اور قوم کے پیسے بچانے کے دعوے کرنے والے سیاستدان خود سرکار کی زمینوں پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں، کچھ شرم کریں، کچھ حیا کریں۔ خان صاحب ذرا منشا بم کو پکڑنےکا حکم صادر فرما دیں میری درخواست علیم خان صاحب سے ہے، لیكن پھر یاد آیا صاحب خود ہی قبضے کے کافی پرچوں میں مطلوب ہیں، یہ کیسے کریں گے، ایسے ہی کام کرتے رہیں اور عوام کو بتادیں کہ کون کون ہیں جنہوں نے قبضے کئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں آٹھ ہزار کنال جگہ پر قبضہ ہے اور اگر سارا قبضہ چھڑوا لیا جائے اور اس تمام قبضے کی جگہ پرنیا پاکستان ہاؤسنگ   پروگرام بنا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کیا خیال ہے، کیا یہ تجویزبری تو نہیں؟؟؟