کیا27 اکتوبر کے بعد حکومت گھر کی راہ لے گی؟؟؟ رہبر کمیٹی کے 4نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ میں اہم اعلان

3
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے اور فوج کی مداخلت کے بغیر نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کردیا رہبر کمیٹی کا اجلاس اکرم درانی کی صدارت میں ہوا جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رہبر کمیٹی میں شریک تمام اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کریں گی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین آزادی مارچ سے خطاب بھی کریں گے۔ کمیٹی نے 4نکات پر مشتمل پر چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان کردیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں اور حکومت ختم کی جائے، نئے صاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے اور فوج کا ان انتخابات میں کسی مرحلے پر عمل دخل نہ ہو، اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ کیا جائے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر آزادی مارچ کی تفصیلات کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے، ساری اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک پر متفق ہیں، سب نے آزادی مارچ کی حمایت کی ہے، حکومت کی طرف سے اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، مولانا فضل الرحمن کو مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، آئین میں اسلامی دفعات اور اسلامی قوانین موجود ہیں اور ہمارے قائد آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر بات کررہے ہیں، اسلامی دفعات کا مکمل تحفظ کیا جائیگا۔

آزادی مارچ آئین و قانون کے دائرہ کار میں ہوگا اور ہماری جدوجہد بھی آئینی ہے اور مطالبات بھی جائز ہیں۔ ساری اپوزیشن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیںدینا اس کو گرانا ہے، حکومت کو مزید وقت دینا پاکستان میں مزید تباہی لانے کے مترادف ہوگا، آزاد اور منصفانہ انتخابات کا اعلان کیاجائے جو فوج کے عمل دخل کے بغیر ہوں، پولنگ سٹیشنوں کے باہر اور اندر کہیں فوج کی مداخلت نہ ہو۔

انھوں نے کہاکہ حکومت نے معیشت تباہ کر کے ملک کو بھکاری بنا دیا ہے، کارخانے بند ہیں، مزدور طبقے کو روزگار نہیں مل رہا۔ میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔ اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کا کہہ رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ کشمیر کے بعد ملک کو بھی بیچ دینگے۔

احتجاج ہمارا آئینی حق ہے پہلے بھی بہت احتجاج کیے۔ جتنے مارچ جے یو آئی نے کئے اس میں کوئی شیشہ نہ ٹوٹا۔ ماضی میں پی ٹی وی، پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا، پولیس افسران اور اہلکاروں کی پٹائی کی گئی، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ کا راستہ روکا گیا تھا،ایک جمہوری حکومت نے پی ٹی آئی احتجاج میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کی، ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، یہاں پر وفاقی وزراء کہتے ہیں اس طرح بٹھائیں گے کہ کوئی اٹھ نہیں سکے گا۔

یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے، کے پی کے وزیراعلیٰ کو بات کرنا نہیں آتی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ مولانا کو نہیں جانے دینگے، ہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو گھر میں بند بھی کرسکتے ہیں، ہم بارہا کہہ رہے ہیں ہم کسی سے تصادم نہیں چاہتے، ہم پرامن مارچ کیلئے آرہے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک کو حتمی شکل دیدیں، یقین دلاتا ہوں تمام اپوزیشن حکومت مخالف تحریک پر متفق ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ پر سب متفق ہیں۔ ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا سب جماعتوں نے آزادی مارچ کا خیرمقدم اور حمایت کی ہے۔ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے، حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے ۔

سی پیک پارلیمانی کمیٹی میں یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا، اسے پارلیمان میں لانے کی بجائے آرڈیننس کے ذریعے اتھارٹی بنا کر سی پیک جیسے منصوبے کو متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوجائیگی، سی پیک کو اتھارٹی نہیں فنڈز کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت سب آپ کے سامنے بیٹھے ہیں کہ ہم سب متحد ہیں اور رہیں گے۔ اے این پی کے میاں افتخار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لا لگادیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں،27اکتوبر کو آپ سب ہمیں اکٹھا دیکھیں گے، ہم متحد ہیں۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں احسن اقبال نے کہامسلم لیگ (ن) کے اندر دو نہیں بلکہ ایک ہی سوچ موجود ہے اور وہ نواز شریف کی سوچ ہے، جو بھی حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے مسلم لیگ (ن) اس پرپہرہ دیگی۔