کچھ یادیں 12 اکتوبر 1999 کی

    20

    شام کے وقت میں جیسے ہی دفتر سے گھر پہنچا فون کی گھنٹی بجی اور مجھے فوری طور پر واپس آفس آنے کا کہا گیا، پتہ چلا کے ائرپورٹ پہنچنا ہے جنرل پرویز مشرف اور آرمی کو کی نیوز ہے، بس پھر کیا تھا ہم نے کیمرہ اٹھایا اور چل پڑے، ائرپورٹ پر جنرل مشرف تو نہ ملے لیکن فوجیوں کے قبضوں کی فوٹیج بناتے پوری رات گزر گئی،

    صبح سویرے ہمارے ہاتھ میں اسلام آباد کا ٹکٹ تھما دیا گیا اور ہم پہلی فلائٹ سے اسلام آباد پہنچ گئے،
    آفس پہنچتے ہی نواب کیفی صاحب جو ہمارے استاد بھی ہیں اور باس تھے، کہا مجھے صرف فوجیوں کے شاٹس چاہییں ،
    ہم نے کیمرہ پکڑا اور چل پڑے،
    “لاتوں، گھونسوں اور مکوں سے ہمارا استقبال ہوا” کیوں کے اس وقت فلمنگ حرام ہوتی تھی اور خاص طور پر فوجی تو بلکل پسند نہیں کرتے تھے لیکن میں بھی بہت ڈھیٹ تھا پتا چلا کے جنرل مشرف نے PTV خطاب کے لئے آنا ہے ، میں وہاں گھات لگا کر بیٹھ گیا، اتنی دیر میں مشرف کا قافلہ آیا تو ہم نے جھٹ سے کیمرہ آن کیا اور ریکارڈنگ شروع کر دی، اس ساری ویڈیو میں زیادہ تر ہماری پٹائی کی ویڈیو تھی، پھر پتا چلا اس موٹر کیڈ میں مشرف تھے ہی نہیں بلکہ صرف سکیورٹی تھی لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی پوزیشن بلکل PTV کے اندر والے گیٹ کے سامنے فینس کی جالی سے سنبھال لی تھی
    پھر ایک قافلہ اور آیا اور جنرل مشرف گاڑی سے باہر آئے اور ہمارے بہترین ایکسکلوزیو شاٹس بن گئے،

    میں نے اپنی Honda 125 بھگائی اور فورا باس کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا “کچھ ملا؟” میں نے کہا “جنرل مشرف” وہ بہت حیران ہوئے ، اس وقت تھوڑی دیر بعد ہماری نیوز فیڈ کا ٹائم تھا، Shahid Nadeem ایڈٹ کر رہے تھے فورا مجھ سے ٹیپ لی اور ایڈٹ شروع کر دی، جب کیفی صاحب نے فوٹیج دیکھی تو اسی وقت دس ہزار روپے مجھے انعام میں دیئے کیوں کے وہ مشرف کا آرمی کو کے بعد پہلا شاٹ تھا،
    اس طرح سفر کرنا ہماری عادت بن چکی تھی ہم صرف ائرپورٹ سے فون ہی کر پاتے تھے کے جا رہے ہیں کپڑے وہاں جاکر نئے خرید لیں گے اور انعام سارا ایسے ہی خرچ کیا،
    تقریباً 3 ماہ بعد ہماری واپسی عمل میں آئی

    یہ پوسٹ ٓاکتوبر بارہ کو فیس بک پے بھی شیئر کی تھی