کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے: وزیراعظم

8
وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ چوری، کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں پتا ہے ان کی کرپشن کی معلومات حکومت کو مل رہی ہیں اس لیے انہیں حکومت گرانے کی جلدی ہے، اسی لیے یہ سب لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا مجھ سے کہا جاتا ہے کہ آگے کی سوچیں، یہ بات نہ کریں کہ کس نے کرپشن کی، یہ مجھ سے صرف تین لفظ سننا چاہتے ہیں، وہ الفاظ ہیں این آر او لیکن میں کسی صورت این آر او نہیں دوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان لوگوں کا احتساب نہیں کیا تو یہ ملک کو کبھی آگے بڑھنے نہیں دیں گے، ان کی کرپشن کی وجہ سے آج مشکل حالات ہیں اور عوام مشکل میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا گھر میں اگر کوئی لوٹ مار کرتا ہے تو سزا ملتی ہے تاکہ پھر کوئی اور آکر لوٹ مار نہ کرے، 10 سے 12 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، جب تک کرپٹ عناصر کو سزا نہیں ہوگی کرپشن ختم نہیں ہو گی۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر قوم سے ٹیکس دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا ذہن بدلیں اور ٹیکس ادا کریں، ہم کم از کم 8 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کر سکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا تمام لوگوں کو ایک پیغام ہے کہ سب مل کر ٹیکس نہیں دیں گے تو پھر صرف کچھ لوگوں پر بوجھ پڑ جائے گا، اگر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو پھر حکومت کو نوٹ چھاپنے پڑیں گے جس سے مہنگائی بڑھے گی، اس لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ لوگ ٹیکس دیں۔

وزیراعظم نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی اور پہلے دن ہی یہ اکٹھے ہو گئے، دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کیسز بنائے، کیسز بنا کر رکھ دیئے کہ نہ تم ہمیں پکڑنا نہ ہم تمہیں پکڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا لوگ جانتے ہیں کہ میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لیے لوگ ساتھ کھڑے ہیں جب کہ یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ان کو پتا کہ ہر روز ہمیں ان کے خلاف نئی چیزیں مل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر 30 ہزار ارب روپے قرضہ ایسے نہیں چڑھا، زرداری نے دبئی کے 40 دورے کئے، لیڈر شپ کرپشن پر لگی ہوئی تھی۔

وزیراعظم نے اپنے دورہ امریکا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا جا رہا ہوں، کوشش ہو گی کہ ہوٹل کے بجائے سفارتخانے میں قیام کروں۔

قبل وزیراعظم عمران خان اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے، ان کے ہمراہ وفاقی وزراء علی زیدی، حماد اظہر، فیصل واوڈا سمیت مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بھی موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان سے گورنر ہاؤس میں تاجروں اور آٹو سیکٹر کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں حکومتی اور تاجر برادری کے وفود نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مہنگائی پر کنٹرول، اسمگلنگ کی روک تھام، کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری میں فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور محصولات میں اضافے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

اس موقع پر تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے آنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ کے مسائل حل کروں، میری پوری معاشی ٹیم یہاں موجود ہے تاکہ مسائل کا فوری حل نکالا جائے، ہماری اولین ترجیح غربت کا خاتمہ اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے جس میں آپ کی مدد چاہیے، کاروباری برادری پارٹنر بن کر حکومت کے ساتھ کام کرے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، معاشی عمل کو تیز کرنے کے لیئے تاجر اور صنعتکار حکومت کی مدد کریں۔