“پاک چین دوستی ونگ سوئے ونگ سوئے “

20

تحریر: حمزہ میر

جب عوامی جموریہ چین دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا اور دنیا کو بتایا کہ وہ ایک نیا ملک ہے تب دنیا کے بڑے ممالک نے اس کے وجود سے انکار کردیا تو اس وقت پاکستان وہ دنیا کا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا اور نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اقوام متحدہ میں جب چین کو ایک ووٹ چاہیے تھا تب بھی پاکستان نے چین کو ووٹ دیا اور اس طرح پاک چین دوستی کا آغاز ہوا، جب دوستی کا پہلا امتحان آیا یعنی 1965 کی پاک بھارت جنگ تب چین نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور مدد بھی کی۔ اسی طرح چین پاکستان کی کشمیر کے معاملے پر حمایت کرتا ہے اور پاکستان کے موقف کی تائید بھی کرتا ہے، پاکستان بھی چین کی ویت نام کے معاملے پرحمایت کرتا ہے۔ دونوں ممالک پر جب بھی کوئی مشکل آتی ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اب جب کہ پاکستان کی معیشت کا برا حال ہے اور ملک ڈیفالٹر ہونے کے قریب ہے تو چین پاکستان کی مدد کو پھر میدان میں آ گیا ہے اور ایک اچھا پیکج دے دیا ہے تقریبا 6 ارب کا ریلیف پیکیج ، جس سے مملکت خداداد پاکستان کو کافی فائدہ ہوگا اور موجودہ تبدیلی سرکار جو کہ آئی ایم ایف سے سخت شراط پر قرضےکا سوچ رہی تھی اب سکون اور تحمل کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے جائے گی اور پہلے تو قرضہ لینے کے لیے بلیک میلر آئی ایم ایف کی تمام شراط ماننی پڑنی تھیں لیکن اب نہ عزت مآب حضرت ڈالر صاحب کا ریٹ بڑھانا پڑے گا نہ مہنگائی میں اضافہ کرنا پڑے گا اور اسطرح غریب کی کمر نہیں ٹوٹے گی اور اب حکومت کو چند شراط ماننی پڑیں  گی اور یہ شراط اتنی سخت نہیں ہوں گی اور یہ سب چین اور سعودیہ کا کمال ہے اصل میں ہمارے سیاستدان ایسے معصوم بن کر جاتے ہیں کہ اگلا ملک رحم کھا لیتا ہے اور یہ ایسا فن ہے جسے کوئی اور ملک کا سربراہ حاصل نہیں کرسکا لیکن جو بھی حکمران پاکستان کا بنتا ہے اسے یہ فن ہمارے بابو آفیسر سکھاتے ہیں۔ چین پہلے بھی مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کر چکا ہے۔ ویسے تو جب بھی ہمارے ملک پر مشکل وقت آتا ہے ہمارے دوست ممالک مدد کو سامنے آ جاتے ہیں۔ جب بھی پاکستان میں نئی حکومت سامنے آتی ہے اس کا پہلا دورہ سعودیہ اور دوسرا دورہ چین کا ہوتا ہے۔ عمرانی حکومت نے بھی پہلا دورہ سعودیہ کا کیا اور دوسرا دورہ چین کا کیا اور چین نے عمران کو بہت اہمیت دی اور ان کے ساتھ 15 معاہدوں کی یاداشت پر دستخط کیے اور چین کے صدر اور وزیراعظم نے بھرپور مذاکرات کیے اور سی پیک کو بھرپور طریقے سے مکمل کرنے کا ارادہ کیا۔ عمران خان جب بیجنگ سے شنگھائی روانہ ہوئے تو راستے میں ایک پل تھا جو دو شہروں کو آپس میں ملاتا تھا وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ یہ کتنے عرصے میں بنا ہے، بتایا گیا10مہینے کا وقت تھا مگر7 مہینے میں بنا عمران خان نے حیران کن انداز سے پوچھا اتنی جلدی، تو چین کے وزیر ٹرانسپوٹ نے کہا یہ ہے “پنجاب سپیڈ”۔ عمران خان نے بہت کامیابی حاصل کی ہے اور عمران خان نے جس طریقے کے ساتھ چین میں کہا کہ پاکستان کو کرپشن نے تباہ کیا اور صاف طریقے سے کہا کہ پاکستان چین کی طرح کرپشن کو ختم کرے گا اور جب وزیراعظم عمران خان سے پوچھا گیا کہ آپ چین سے کیا لے کر جا رہے ہیں تو خان کے تاریخی الفاظ تھے “کرپشن کا علاج کرنے کا طریقہ”۔ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ موجود رہا ہے اس لیے میں کہوں گا “پاک چین دوستی ونگ سوئے ونگ سوئے “۔