پاکستان کیوں دشمن کے نشانے پر

17

کالم نگار : حمزہ میر

جب سے پاکستان دنیا کے نقشے پر آیا ہے اسی دن سے ملک پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہیں کبھی ملک میں دہشتگردی کے واقعات کروا کر تو کبھی دین کے معملے پرپاکستان کے لوگوں کو آپس میں لڑوایا گیا تو کبھی صوبائیت کے معملے پر ملک پاکستان کے معصوم لوگوں کو آپس میں گتھم گتھا کروایا گیا اور ہماری بھولی قوم ان ظالموں کی باتوں میں آتی رہی اور ان کا آلہ کار بنے رہے اور ابھی بھی ہمارے ملک کے چند لوگ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں-پہلے ان کے ہاتھوں میں چند لوگ کھیلے اور سقوط ڈھاکہ جیسا قیامت سوز واقعہ رونما ہوا اورایک مکلمل پلانگ کے تحت ملک توڑا گیا 1970 کے آخر میں ہمارے پاکستان میں الیکشن ہوئے اور عوامی لیگ نے پاکستان کے ٪56 علاقے میں کلین سوئیپ کیا اور وہ حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں آ گئے لیکن بنا نا سکے اور یوں جو احساس محرومی مشرقی پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو رہا تھا اس نے طول پکڑ لی ویسے تو اس احساس محرومی 1965 کی جنگ کے بعد ہی آغاز ہو گیا تھا جب مشرقی پاکستان کی سرحد پر افواج نا ہونے کے برابر تھیں اور ساری افواج جنوبی پاکستان میں تعینات تھیں اس بات کو مشرقی پاکستان(بنگلادیش) کے لوگوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا اور اس کے بعد جب جنرل ایوب خان نے دارلحکومت کراچی سے اسلامآباد منتقل کر دیا جو کہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ان لوگوں کو بہت وقت لگ جاتا تھا ڈھاکہ سے اسلام آباد آنے تک جس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو پاکستان سے متنفر کیا گیا اور ان کے دلوں میں پاکستان سے نفرت کے ٹیکے لگائے گئے لیکن انتخابات کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے جب اقتدار شیخ مجیب کو دینے کی بجائے اقتدار کی ہوس کے شکار زولفقار علی بھٹو کے حوالے کے دیا گیا یہ سب جنرل یحیحئ نے اپنے دور صدارت کو بڑھانے کے لیے کیا صرف اقتدار کی ہوس نے پاکستان دو لخت کر دیا یہ یاد رہے پاکستان کا پرچم لہرانے والا پہلا شخص ایک بنگلا دیشی تھا لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اقتدار کی ہوس نے دشمن کے ارادوں کو مکلمل کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور لوگ دشمن کی باتوں میں آ گئے اور دشمن کی چال پوری ہوئی- مشرف کے دور حکومت میں بھی بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کی گئی غلطی مشرف صاحب کی تھی جب اکبر بگٹی کو قتل کیا تو بلوچی بھائیوں کے دلوں میں دشمن نے بات ڈالی کہ اپنا الگ ملک بناو یہ یمھیں مار دیں گے لیکن بلوچ لوگوں نے ڈھاکہ والوں کی طرح جذبات کی بجائے دماغ سے کام لیا اور ہمت سے کام لیا لیکن بہت سے لوگ دشمن کی باتوں میں آ گئے اور ان کا ہتھیار بن گئے اور اپنے ملک کے خلاف ہی کام کرنے لگ پڑھے ہیں اس لیے ارباب اختیار سے اپیل ہے بلوچستان کو بچا لیں اور پوری منصوبہ بندی کے تحت وہاں کے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا کیونکہ اگر تولیم مل جاے تو ان کا پتا لگ جائے گا کہ ان کو بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے حکومت اور افواج پاکستان کو چاہیے کہ وہاں کے لوگوں کو تعلیم دی جائے اور لوگوں کو دشمن کے ایجنٹ سے دور رکھا جائے ہر بلوچ براہمداد بگٹی نہیں ہوتا بلوچ دھرتی میں میر سرفراز بگٹی جیسے لوگ موجود ہیں سردارعطا مینگل جیسے محب وطن لوگ موجود ہیں- جب دشمن کو سمجھ لگ گئی کہ بلوچستان میں ان کی دال نہیں پک سکی تو انہوں نے پختوں بلوچ لڑائی شروع کروا دی یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان صرف کرسی کے پیچھے بھاگتے ہیں ان کو قوم کی فکر نہیں ہوتی وہ صرف ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں اور کبھی کبھی تو وہ لسانی بنیادوں پر ووٹ بھی لیتے ہیں اب اس کام کو بند ہونا چاہیے ورنہ روز قیامت اقبال اور جناح کی روح ہم سے سوال کرے گی