پاکستان میں بلا تفریق احتساب

19

تحریر: حمزہ میر

کائنات کا کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک میں مکمل طور پر کرپشن کا خاتمہ نہ ہو اور کرپٹ،چور اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ ٹولے کا احتساب نا ہو- اگر احتساب کا عمل بلا تفریق ہو گا اور خاص طبقے کا احتساب نہیں ہو گا بلکے جس جس نے ملک خداد کو بےرحم طریقے سے لوٹا اس کا احتساب ہو گا تو ملک ترقی کرے گا اور ملک ترکی اور ملائیشیا بن جائے گا- ترکی اور ملائیشیا  کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے صرف کرپشن کے خاتمہ اور بلا تفریق احتساب کے ذریعے ترقی کی اور آج وہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں- اگر پاکستان نے بھی ترقی کرنی ہے تو احتساب کی گولی کرپشن کے مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے جیسے شوگر کے مریضوں کے لیے وقت پر دوائی ضروری ہے اسی طرح کرپشن کے مریضوں کے لیے احتساب کی گولی ضروری ہے- خدا خدا کر کے 70 سال انتظار کے بعد اب دل امید سی جاگی ہے کہ اب چوروں اور ملک کو بے دردی کے ساتھ لوٹنے والوں کا احتساب ضرور ہو گا کیونکہ 2018 کے الیکشن میں عوام نے کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے والی جماعت تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران خان کو الیکشن میں ووٹ دیا اور ملک چلانے کی کمان تحریک انصاف کو دی عمران خان کو ملک کا وزیراعظم بنایا کیونکہ لوگ اب احتساب کی گولی کا اثر دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ 70 سال ایک عرصہ ہوتا ہے پہلے بھی سیف الرحمان احتساب کمیشن بنا لیکن صرف اپوزیشن پر کیس بنے اور “سیاسی انتقام” لیا گیا اور پھر مشرف صاحب نے نیب کا ادارہ بنایا لیکن اس کا بھی ڈھرم تختہ ہو گیا کیونکہ سب کرپٹ ان کے ساتھ شامل ہو گے- لیکن اب کا احتساب مختلف ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے بڑھے بڑھے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ وزیردفاعی پیداور زبیدہ جلال پر بلوچستان میں تعلیمی منصوبے میں 7 ارب کا کرپشن کیس ہے اور کیس آخری مراحل میں ہے یہ محترمہ مشرف کی کابینہ میں بھی تھے اور پھر یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں بھی شامل تھیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک پر پشاور میٹرو اور مالم جبہ میں سرکاری اراضی سستے داموں لیز کی اور نوشہرہ میں سڑک بنائی اس کے کیس خٹک صاحب پر چل رہے ہیں، علی امین گنڈاپور پر معدنیات کا کیس کھل رہا ہے ان پر خرد برد کا الزام ہے جب وہ 2013-2018 تک پختونخوا کے وزیر رہے۔ ڈاکٹر فروغ نسیم پر منی لانڈرنگ کا کیس ہے اور اس کیس میں وہ پیش بھی ہوئے ہیں پنجاب کے سینیر وزیرعبدالعیم کے خلاف بھی کیس آخری مراحل میں ہے اور مستند خبرکہ نیب نے جو خط لکھا تھا برطانیہ کو علیم خان کے بارے میں اس کا جواب اگلے چند روز میں جواب موصول ہونے والا ہے اور جیسے ہی خط موصول ہو گا علیم خان کو گرفتار کر لیا جائے گا اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہی پر بھی پنجاب بینک کا کیس ہے جہاں سے انہوں نے قرضے معاف کرواے- شہباز شریف پر آشیانہ کا کیس تھا اور اب تو رمضان شوگر مل سڑک کا کیس بھی بن رہا ہے اور 56 کمپنی کا کیس بھی کھل رہا ہے یعنی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور رانا مشہود پر 50 کروڑ کا کیس ہے جب وہ پنجاب سپورٹس بورڈ کے چیرمین تھے کیس نیب میں کھل گیا۔ میاں مجتباح شجاالرحمان پر بھی لیپ ٹاپ کا کیس کھل گیا ہے اور شاید کرفتاری بھی عمل میں آ جاے- دوسری طرف سندھ میں سابق وزیراعلئ سندھ قائم علی شاہ کو نیب نے ریلوے اراضی کے کیس میں طلب کر لیا اور شاید وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں اور موجودہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے لیے معملات خراب ہیں کیونکہ فواد حسن فواد کے مراد علی شاہ کے ساتھ تانے بانے مل رہے ہیں اور سابق وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال پر بھی غیرقانونی بھرتیوں کا کیس نیب سندھ نے کھول دیا ہے اور ناصر حسین شاہ پر بھی برتیوں کا کیس کھل گیا ہے اور آصف زرداری کے قریبی نواب یوسف تالپور پر بھی بے نظیر دور میں ٹریکٹر سکیم میں کی گئی خرد برد کا کیس کھل گیا ہے اور خود آصف زرداری کو بھی منی لانڈرنگ کے کیس میں جیل یاترا کرنی ہے کیونکہ انور مجید ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں- بیوروکریسی کا تاریخ میں پہلی بار احتساب ہو رہا ہے پہلے مشتاق رئیسانی کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر گوندل صاحب کو بھی گرفتار کر لیا ہے پھر احد چیمہ پھر فواد حسن فواد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے کروڑوں کے اثاثے بھی سامنے آ گئے ہیں اور دیگر بیوروکریٹس پر بھی کیس کھل رہے ہیں موجودہ گورنرسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو بھئ نیب نے 3 مرتبہ بلایا اور چیرمین اف- بی- ار جہانگیر خان کو بھی نیب نے پنجاب انرجی کمیشن میں خورد برد کے الزام میں بلایا ہے ایسے کرپٹ لوگوں کو کیوں لگاتے ہیں عمران خان حالانکہ بہت سے افسر موجود ہیں جن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں- بہر حال اچھی بات یہ ہے کہ خدا خدا کر کے قوم کی امید پوری ہونے جا رہی ہے اور بڑھے بڑھے سورماوں پر ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں اور صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ احتساب سب کا ہو گا اوراحتساب بلا تفریق ہو گا کیوںکہ اقبال کا یہ شعر ہی قوم کو آگے لے کر جائے گا

     سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

        لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا