پاکستانی معیشت: اسحاق ڈار سے اسد عمر تک   

39

تحریر: حمزہ میر

پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں جس کی  بھی حکومت قیام میں آئی چاہے جمہوری دور ہو یا آمریت کا دور، ہر کسی کے دور میں آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا اور جب قرضہ لینا ہوتا، حکومتیں ایک ہی بات طوطے کی طرح کرتیں کہ لٹ گۓ برباد ہو گئے، پچھلی حکومت نے کچھ نہیں چھوڑا، معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے، اس لیے قرضہ لیا جا رہا ہے، پھر آئی ایم یف کی ہر بات مانی جاتی ہے اور اگر غور خاص کریں تو معلوم ہو سکے گا ہمارے ملک کا سالانہ بجٹ وہ ہی ہوتا ہے جو آئی ایم ایف کی تجاویز اور مطالبات ہوتے ہیں، ہمارے وزرائے خزانہ صرف اسمبلی میں بولتے ہیں، بجٹ ڈرافٹ آئی ایم ایف والے ہی کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ بیرونی قرضہ سن 1958 میں لیا گیا اور تب سے لے کر اب 2018 آ گیا ہے قرضہ چل رہا ہے جب پہلا قرضہ لیا گیا تو وہ دور سابق صدرایوب خان کا دورحکومت تھا اورپھرہرآنے والی حکومت قرضہ شریف لیتی اور واپس کرنے کی بجاے لمبی تان کر دور کشمیر کی پر فضا وادی میں سو جاتے یا کرپشن کے جھنڈے گاڑ لیتے تھے، بہت دور نہیں ماضی قریب کی ایک حکومت جس نے 2008-2013 تک پاکستان پر حکومت کی پیپلز پارٹی اور جی ڈی پی ریٹ تکریباً 11% كم حو گیا اور ڈالر جس کا ریٹ 60 روپے تھا 2008 میں لیكن 2013 میں ریٹ 100 روپے ہو گیا، اور ریلوے کا خسارہ 16 بلین سے بڑھ کر 80 بلین ہو گیا، اور پانچ سال ایک ہی بات کی جاتی تھی پچھلی حکومت نے کچھ نہیں کیا اور بھی ادارے تباہ ہو گئے سٹیل مل کا تو پوچھے ہی نا جائے بیڑا ہی غرق ہو گیا ہے اور سالانہ 400 بلین کا خسارہ ہو رہا تھا ان پانچ سال میں اور زرداری كمیشن شاپ نے معصومانہ انداز میں کہا، پچھلی حکومت کی وجہ سے ایسا ہوا اور ہم کام نہیں کر سکے، اور پھر شریف اینڈ کمپنی کا دور آیا جو دور ملا جلا تھا جی پی جی ریٹ بڑھ گیا اور 5.70 تک پہنچ گیا اور ریلوے کا خسارہ 38 بلین رہ گیا جو 2013 میں 82 بیلن تھا، پی آئی اے کا مکمل بیڑا غرق کر دیا گیا، ڈالر بھی اسحاق ڈار کو مات دے گیا اور مفتاح اسماعیل کے سامنے بھی ڈالر اونچی اڑان بھرتا رہا اور اسحاق ڈار کے دور میں ڈالر 98 روپے تک رہا لیكن حکومت کے آخری دور میں ڈالر نے حکومت کو لیلا کی طرح نچایا  البتہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور اب یا بجلی جاتی نہیں اگر جاتی ہے تو صرف دو یا تین گھنٹے لیكن اس پانچ سال میں نواز اینڈ سنز کا بستر پاناما کرپشن سکینڈل میں سپریم کورٹ نے نواز اینڈ سنز کو سیاست سے کلین بولڈ کر دیا اسحاق ڈار نے بھی پتا نہیں کیا کیا ہماری معشیت کے ساتھ تباہ کر دی لیكن اپنے اثاثے بھرپور بناے اور اب مجوده وزیر خزانہ اسد عمر اسحاق ڈار سے فون کر کے مشورے لے رہے ہیں جناب اسد عمر صاحب آپ کا اپنا پلان کہاں گیا وہ کہیں بنی گالا کی وادی میں گم تو نہیں ہو گیا۔ ایک طرف اسدعمراور کپتان خان کہتے ہیں اسحاق ڈار لوٹ کے لے گیا سب کچھ اب اس سے مشاورت کررہے ہیں وزیر موصوف اسدعمر ڈار کے نقشے پر چل رہے ہیں اور جوكمیٹی بنای گی اس میں بڑھے کاروباری لوگ رکھنے کی جگہ پورانے وزیر اور لوگ رکھے جن پر معشیت کو خراب کرنے کا الزام ہے اور شاید یہ لوگ ہی معشیت کا بیڑا غرق کرنے میں پیش پیش ہیں اگر میری بات غلط ثابت ہو تو جو چور کی سزا وہ مری سزا کیا اسد عمر نے فون نہیں کیا اور دوسری طرف اسٹاک مارکیٹ ایک دم کریش کر گی اور ڈالر بھی ایک گیم کہ تحت بڑھایا گیا ہے چوںکہ حکومت آئ یم ف کے پاس جا رہی ہے اور ان کی پہلی شرط ہی ڈالر مہنگا کرو یہ ہے اور دوسری شرط بجلی گیس مہنگی کرو اس لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس لیے وزیراعظم کو چاہیے قوم کو عتماد میں لیں ورنہ ڈاراوراسد عمرمیں کوی فرق نہیں ہو گا پھر اسد عمر کو اسحاق ڈار سائیکل ہاؤس پارٹ ٹو سمجھا جائے گا۔