موجوده حکومت کےلیے مزید مشکلات ۔۔۔۔۔۔۔۔  ذرا سوچیں

20

  تحریر: حمزہ میر

  عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا پھل ان کو عام انتخابات 2018 کے الیکشن میں ملا ،چند چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک انصاف نے حکومت بنائی اور عمران خان وزیراعظم پاکستان بن گۓ، لیكن ابھی صرف 60 دن ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے لیے مشکلات کا آغاز ہوگیا ہے۔ سب سے پہلے جو مشکل سامنے آئی وہ معیشت کی تباہی ہے، اسد عمر کی پالیسیاں بھی سامنے نہیں آ رہیں اور پہلے کہا جا رہا تھا کہ ہم قرضہ نہیں لیں گے لیكن بعد میں رات کے پچھلے پہر ایک اہم ملاقات ہوئی اور قرضہ لینے کا فیصلہ ہوا، تحریک انصاف کے اپنے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑی ہے، مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آ گیا اور ایک اور بات جو اسد عمر نے خود کر کے اپنی پارٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے لیے مشکلات کا پہاڑ بنا دیا، خزانے کے بابو اسد عمر نےارشادعالیہ فرمایا اور اپنی باتوں کوخود ہی غلط ثابت کردیا کہ اسحاق ڈار کا قصورنہیں ہے، قرضہ لینا مجبوری تھی اس کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اتحادی جماعتیں جو حکومت میں ہیں، انہوں نے بھی اپنے مطالبات پورے کرنے کا پیغام آگے پہنچا دیا ہے۔ اختر مینگل کے 5 ووٹ ہیں اور اہم ووٹ ہیں، متحدہ قومی موومنٹ نے بھی ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ اگریہ الگ ہوجائیں گے تو حکومت گھرجا سکتی ہے۔ ایک تازہ واقعہ ضمنی انتخابات جس میں تحریک انصاف اپنی چھوڑی ہوئی سیٹیں ہار گئی، آٹک کی سیٹ وہ سیٹ ہے جو تحریک انصاف نے عام انتخاب میں 66000 کی لیڈ سے جیتی لیكن اب وہ ہی سیٹ مسلم لیگ نواز نے تقریبا 45000 کی لیڈ سے جیت لی اورعمران خان اپنی چھوڑی ہوئی سیٹ لاہور اور بنوں سے ہار گئے جبکہ کراچی اور اسلام آباد سے تحریک انصاف جیت گئی۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے لاہور سے بدترین شکست کا سخت نوٹس لیا ہے اورلاہور سے وفاقی وزیر حماد اظہر،شفقت محمود اور صوبائی وزرا علیم خان، ہاؤسنگ کے وزیرمحمود الررشید، ہیلتھ منسٹرڈاکٹر یاسمین راشد، تعلیم کے وزیرڈاکٹرمراد رئیس اور میاں اسلم اقبال کو طلب کرتے ہوئے ضمنی الیکشن کی شکست پر رپورٹ طلب کر لی ہے، اتنی وزارتیں دینے کے باوجود اتنی بری شکست کیسے ہوئی۔ وزیر اعلی پنجاب اپنےعلاقے ڈیرہ غازی خان سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہار گۓ اور اویس لغاری جیت گئے۔ رہی سہی كسراطلاعات کے وزرا نے پوری کردی، فضول بیانات دئیے گئے اور الفاظ کا چناؤ اپوزیشن والا ہے۔ صوبائی وزیراطلات کچھ کہتے ہیں اور وفاقی وزیر کچھ اور کہتے ہیں عمران خان کو ان کو روکنا پڑے گا اور تعلیم و صحت کے محکموں میں کام کرنا پڑے گا، وزیروں  کو بیان دینے سے روکنا اس لئے ضروری ہے تاکه حالات قابو میں رہیں اور تنقید میں کمی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ذرا سوچیں۔