منٹو، منٹوئیت اور عصر حاضر

69

تحریر: جان شیر خان

ادب جہاں کسی زبان سے شناسائی کا ذریعہ ہے وہیں اس کے محتلف پہلو اس زبان کے گلزار میں رنگ بھرتے ہیں۔ اردو زبان کا جنم برصغیر میں ہوا جہاں محتلف ادیبوں، شاعروں، ناول و ڈرامہ نگاروں اور نثر نگاروں نے اسکا ادبی دامن کو وسیع کیا۔ اردو زیادہ پرانی زبان تو نہیں لیکن اسکی مقبولیت زبان زدِ عام ہے۔ اردو زبان میں جدت تو شروع سے ہی تھی لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں اردو ادب میں نے ایک جدید اور نیا رُخ لیا جسی عرف عام میں منٹوئیت کہتے ہیں۔  

یوں تو منٹو صاحب اپنی زندگی اور موت کے بعد سے اب تک اپنے امتیازی ادب کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ جہاں ایک طبقہ منٹو کو فحش، عیاش ادب کا تخلیق کار سمجھتے ہے وہیں دوسری طرف منٹو کی صاف گوئی اور معاشرے کی منافقت کے متعلق ادب کے بھی معترف موجود ہیں۔ منٹو کے تحریریں سمجھنے کے لیے شائد انسان کو طوائف کو پہلے ایک عورت تصور کرنا پڑے گا کیوں ہمارے معاشرے میں عورت جی حضوری کا پتلا ہے اور بقول منٹو:

” ہم نے طوائف سے زیادہ خودمختار عورت نہیں دیکھی شائد اسی لیے ہم ہر خودمختار عورت کو طوائف  سمجھتے ہیں”

منٹو عورت اور مرد کے درمیان تعلق کو تحریر جوں کہ توں تحریر کرتا تھا اور مرد و عورت کہ تعلق کو بیان کرنے کے لیے اس نے لفظوں کو لباس نہیں پہنائے بلکہ جو معاشرتی یا روایتی الفاظ تھے وہی بیان کیے جیسا کہ منٹو کی مشہور تحریر “ٹھنڈا گوشت” ہے جس میں نہایت ہی بےدرد ، بے پردہ الفاظ میں نہ صرف آزادی کے دنگوں کا ذکر تھا بلکہ مرد اور طوائف کے درمیاں جنسی تعلقات کو بیان کیا گیا تھا۔

اگر ہم منٹوئیت کی بات کریں تو رنڈی کے لیے رنڈی اور کنجر کے لیے کنجر لفظ کہنا ہی منٹوئںیت ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ الفاظوں کو کپڑے پہنانے کا قائل ہے شائد ہمارے معاشرے کا سچ ہی فخش ہے اور اگر سچ فخش محسوس ہورہا ہے تو اسکا مطلب صرف یہی ہے کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا ہم ایک فخش معاشرے کی پیداوار ہیں۔

دور حاضر میں تو منٹو کی تحریروں کو خوب کیش کیا جارہا ہے۔ لوگ منٹو کی صاف گوئی کو محتلف فلموں میں دکھا کر جہاں مشہور ہونا چاہ رہے ہیں وہیں منٹو کے گن گاتے نہیں تھکتے لیکن کیا واقعی یہ منٹوئیت کے قائل ہیں خیر اسکا فیصلہ منٹو والے ہی کریں گے۔ منٹو بےغیرت نہیں بے شرم تھا۔ ان دو الفاظ کا فرق جو سمجھ لیتا ہے وہ منٹوئیںٹ کے نظریے کو سمجھ جاتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی ہدایتکار نندیتا داس نے “منٹو” پر فلم بنائی جس میں نوازالدیں صدیقی نے نے منٹو کا کردار ادا کیا۔ اس فلم پر ہمارے ملک میں پابندی لگا دی گئی جو منٹو کی جملہ “یہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے” کی عین مطابق ہے.

 ناجائز تعلقات بنانا،مجرے،زیادتیاں، جسم فروشی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو دھڑلے سے انجام ہوتی آئیں ہیں لیکن انکے بارےمیں لکھنا فحاشی سمجھا جاتا ہے اور انکو معاشرتی روایت کے خلاف سمجھا جاتا ہے جبکہ یہی ہماری حقیقت ہے۔ بقول منٹو:

 ” میں اس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے ہی سے ننگی ہو”