لیڈر اور سیاستدان میں فرق

17

تحریر: حمزہ میر

دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جو جب دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے تو ان کی حالت بہت خراب تھی لیکن انہوں نے محنت کی اور دنیا کے سامنے اپنا لوہا منوایا، ان میں جاپان اور چین سرفہرست ہیں۔ دونوں ممالک پاکستان کے بعد آزاد ہوئے لیکن اب دونوں ممالک دنیا پر راج کر رہے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان اوپر جانے کی بجائے نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ پاکستان کی اس حالت کے ذمہ دار حکمران ہیں کیونکہ ہمارے ملک مملکت خداداد پاکستان میں لیڈر پیدا نہیں ہوئے البتہ سیاستدان درجنوں کے حساب سے آئے اور چلے گۓ ، ہمارے طنزوتیز زبان رکھنے والے اور اپنے سیاسی مخالفوں کو اپنا جانی دشمن بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر چشم فلک نے سیاستدانوں کو اپنے مخالفوں کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھا، سیاستدانوں کی بےحسی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک خداداد پاکستان دولخت ہوا اور جنہوں نے یہاں ہم وہاں تم کا نعرہ بلند کیا اور ملک کو دو لخت کیا ان کو بعد میں چشم فلک نے عضیم لیڈر بنتے دیکھا اور وہ شخص کچھ لوگوں کے دل میں آج تک زندہ ہے میری مراد سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو ہیں جن کو کافی نادان لوگ عظیم لیڈر سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک ایسا نعرہ لگایا جو غریب اور لاچار لوگوں کے کمزور دلوں پر سیدھا لگا اور وہ نعرہ تھا “روٹی کپڑا اور مکان” جو اس پارٹی کا نعرہ اج تک ہے اور 4 مرتبہ یہ پارٹی اقتدار میں آئی اور ہر بار لوگوں کو اؑمیدوں کے بلند پہاڑوں پر کھڑا کیا جاتا اور پھر ایسی ضرب لگائی جاتی کہ لوگ سنبھل نہ پاتے اور امیدوں کے پہاڑ روئی کی طرح اؑڑ جاتے ہیں، قصور لوگوں کا نہیں جو ان لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اصل میں قصور ڈکٹیٹروں کا یے جو ان خود ساختہ لیڈروں کو سیاسی شہید کرتے ہیں اور ایک اور بات جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیاستدان ہیں جن لوگوں کہ ہم ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجھتے ہیں یہ لوگ چند پیسے لے کر اپنا ضمیر اور ہمارا ووٹ بیچ دیتے ہیں اور یہ روایت آج کی نہیں بہت پرانی ہے اور اس کا اغاز میر جعفر، میر صادق سے پہلے کا ہے۔ جب جنرل ایوب نے غیرجماعتی الیکشن کروائے تو تب بھی بہت سے بڑے ناموں نے چند پیسوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچا اور مادرملت کو بدقسمتی سے شکست ہوئی، اس کے بعد سقوط ڈھاکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے سیاسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے ہوا اور اس کے بعد سیاسی مخالفوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کا آغاز ہوا چاہے بھٹو کا دور ہو یا شریف بلڈرز ہوں، سب نے کارروائی کی اور تعجب کی بات یہ ہے کہ سب لیڈر بنتے ہیں حالانکہ لیڈر اپنے مخالفوں کو ساتھ لے کرچلتا ہے اور وہ اپنے مخالف لوگوں پر انتقامی کارروائی نہیں کرتے اور نہ اپنے ناقدین پر جھوٹے مقدمے بنواتے ہیں بلکہ ناقدین کو تحمل اور سکون سے سنتے ہیں اور اپنے آپ کو درست کرتے ہیں، دور حاضر کے ایک اہم لیڈر مہاتیرمحمد  جنہوں نے ملک کو معاشی طور پر اور ہر لحاظ سے بہتر بنایا، وہ اپنے ناقدین کو غور سے سنتے اور ان کی باتوں پر عمل کرتے اور خاص طور پر بڑے اور منجھے ہوئے صحافیوں کے ساتھ ہفتہ میں ایک دن ان کے ساتھ ملاقات کرتے اور ان سے مشورے لیتے اور ان کے طنزوتیز جملوں کا برا نہ مناتے بلکہ خوش اخلاقی کے ساتھ بات کرتے اور ناقد صحافیوں کو ضرور بلاتے۔ ایک ہمارے خود  ساختہ لیڈر ہیں جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تب ان کے لیے پہلے وہ صحافی آنکھوں کا تارہ ہوتے ہیں جو حکومت کی کرپشن کی کہانیاں سامنے لاتے ہیں اور ان افسروں کی کرپشن بھی بےنقاب کرتے ہیں جو لوٹ مار کرتے ہیں لیکن جب یہ لیڈر حکومت میں آتے ہیں تو جب پہلی میٹنگ صحافیوں کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کو ایسے افسروں کے بارے میں اگاہ کرتے ہیں تو ہمارے یہ خوبرو لیڈر جب ان افسروں کے بارے میں جب سنتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور وہ ہی صحافی ان کے لیے سب سے برے بن جاتے ہیں چاہے بےنظیر بھٹو ہوں، جب مجیب الرحمان شامی  ، حسن نثار ،حامد میر ، ڈاکٹر اجمل نیازی ،مجید نظامی اور دوسرے لوگ جب یہ جنرل ضیا کے مظالم کے خلاف لکھتے تھے تب وہ بےنظیر کو بہت اچھے لگتے تھے لیکن جب محترمہ حکومت میں آئیں تو یہ ہی صحافی ان کے بقول ان کے بدترین مخالف بن گۓ اور یہ ہی صحافی جن میں نجم سیٹھی اور جگنو محسن بھی شامل تھے یہ صحافی پہلے نواز شریف کی آنکھوں کا تارہ تھے لیکن جب میاں صاحب اقتدار کے ایوان میں آے تو ان صحافیوں پر مظالم ڈھائے اور دفاتر بھی جلائے گئے اور زبان بندی کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ کیا یہ سب اقدامات لیڈر کرتے ہیں؟اور اب وہ بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں جو تبدیلی کے دعوے دار تھے خان صاحب اب رؤف کلاسرا اور ارشد شریف اب آپ کو برے لگنے لگ گئے ہیں کیونکہ یہ لوگ آپ کو بتا رہے ہیں کہ چہرے وہ ہی ہیں جو اصل ناسور ہیں یعنی بابو آفسر اور اب وہ ہی آپ کے ساتھ ہیں۔ طارق باجوہ، جہانگیر خان جیسے لوگ پھر عہدوں پر بیٹھ گۓ ہیں۔ ماضی میں تبدیلی کے دعوے دار ہمارے ذہن میں یہ بات ڈال چکے ہیں کہ کرپٹ اور چوروں کو فارغ کروں گا اگر اب آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ ہیں وہ ناسور جو ذمہ دار ہیں لیکن  اب آپ غصہ کر رہے ہیں اور صحافیوں سے اب ملاقات بھی موخر کر دی ہے۔ ہمیں تو لگا تھا کہ اب شاید اس قوم کو لیڈر مل گیا ہے لیکن شاید قوم سے ایک بار پھر غلطی ہو گئی ہے۔