دھرنے کا اصل مقصد کیا؟

68

ہر جانب ایک ہی غون غاں جاری ہے، ریاست ناکام ہے، اس حکومت کو ختم ہو جانا چاہیے ،، کیا تماشہ لگا ہے ایک دھرنا نا سنبھلا،، ناکام وزیر داخلہ، ناکام وزیر اعظم، ناکام پارلمینٹیرین، ہاں ٹھیک ہی کہا۔۔۔۔۔۔ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت کے سامنے ریاست نے گھٹنے ٹیک دئیے تین ہفتے جڑواں شہروں کے باسی چند سو لوگوں کے سامنے بے بس نظر آئے، اس پر بس نہیں ہوا تو پورا ملک دو دن کے لیے بند کر دیا گیا۔ کراچی کا رابطہ پورے ملک سے کٹ گیا سارے کام ٹھپ ہوگئے۔۔۔۔ ایسے میں لگا کہ ہم اس ریاست کا حصہ ہیں ہی نہیں۔

20 روز کے دھرنے کے دوران سوچتی رہی کے 20روز سے ڈنڈا اٹھائے پیارے نبی کی محبت کا دم بھرتے دلیر عاشیقان، راستہ روکے اس نبی کے لیے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنائے بیٹھے ہیں جس نے راستے سے پتھر ہٹانے کو ثواب کا درجہ دیا اور یہ محب رسول اس نبی کی تعلیمات بھلائے مریضوں کا راستہ بند کیے کچرا پھیلاتے جلاو گھیراو کرتے املاک کو نقصان پہنچاتے آخر کس کو فائدہ پہنچا رہیے ہیں؟؟؟؟؟
پھر یہ بھی سوال اٹھا کہ آخر ریاست کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم بھی شہری ہیں ؟؟؟

ریاست کی تعریف تو کہتی ہے کہ عملا لوگوں کا وہ گروہ جو رعایا( عوام) کے لیے قانون سازی کرے معاشی انتظامی امور کا انتظام کرے اور ان کے حقوق کی انجام دہی یقینی بنائے اسے ہی یاست کہا جاتا ہے لیکن کیا ایسا ہے؟؟؟؟ کچھ کہتے ہیں کہ ریاست کا کام آئین سازی کرنا، انصاف کرنا، معاشی نظام قائم کرناااور امن کا قیام یقینی بنانا ہے ساتھ ہی کہتے ہیں ریاست گروہ کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے چند لوگوں کو تحفظ دینے یا فائد پہہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی،،، اور بس اس کے ساتھ ہی یقین ہو گیا کہ یہ رہاست ہم جیسے ٹیکس دھندگان کے لیے نہیں بنی یہ ناکام ہے۔۔۔ کیونکہ یہ ریاست ڈنڈے والوں کی سب مان لیتی ہے۔ ریاست ہر شہری کے بنیادی حقوق کی بھی ضامن نہیں جب تک کے ہاتھ میں ڈنڈا نا ہو یہ بس کچھ لوگو ں کے مفاد کی محافظ ہے۔۔۔۔۔۔

کوئی پوچھے یہ عظیم انقلابی جب ریلی کی صورت میں لاہور سے فیض آباد پر دو روز کے دھرنے کا اجازت نامہ لیے روانہ ہوئے تو کیوں ان کو نہیں روکا گیا کس نے فیض آباد پر دھرنے کی اجازت دی یا دلوائی؟؟؟یا کسی نے گارنٹی لی تھی کے دو دن دے دو یہ اٹھ جائیں گے؟؟؟ حکومت تو ناکام صحیح،، نکموں سے بھری پڑی ہے، لیکن دوسری طرف یہ عاشقان جب دھرنا دے کر بیٹھے تو ان کا مطالبہ تھا کہ بلیسفیمی قانون کی ایف آئی آر درج ہونے سے 295 سی کو نکال دیا جائے، لاوڈ اسپیکر ایکٹ کو ختم کر دیا جائے، تمام کارکنان و رہنماوں پر درج مقدمات ختم کر دئیے جائیں،،، نصاب میں قرآن کا ترجمہ اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و اکابرین امت کے اسباق شامل کیے جائیں ( جو پہلے ہی نصاب کا حصہ ہیں) اور وفاقی وزیر مستعفی ہو جائیں،،،، اور جب دھرنا ختم کروایا گیا تو اس معاہدےمیں درج ہے کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی ہے ان کو فوری اپنے عہدے سے برطرف (مستعفی) کیا جائے۔ وہ ہو چکے سو جان چھوٹٰی یہ کام حکومت پہلے ہی کر لیتی۔

راجہ ظفر الحق صاحب کی انکوائری رپورٹ تیس دن میں منظر عام پر لائی جائے اور جو اشخاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ہیں ان پر ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائی گی ، اتنی بدنامی و لاک ڈاون کے بعد حکومت نے مانا پہلے ہی مان جانا تھا، دھرنے کے شروع ہونے سے اس کے اختتام پزیر ہونے تک تحریک لبیک کے جتنے بھی افراد ملک بھر میں گرفتار کیے گئے ہیں، ایک سے تین دن تک ضابطے کی کاروائی کے مطابق رہا کر دیے جائیں گے اور ان پر درج مقدمات اور نظر بندیاں ختم کر دی جائیں گی ، لگتا ہے دھرنے والے ملک کے داماد ہین جس کی فرمائش بارات والے دن غریب باپ نے ماننی ہی ماننی ہے بہر کیف کیا خادم حسین رضوی اس 8 ماہ کے بچے کے قاتل کا تعئین کر سکے گے؟؟؟ کون ہے وہ گنہگار جس کی وجہ سے ننھے بچے کی جان گئی؟ خاتم النبی ﷺ ان پر میری جان قربان وہ تو کسی جان دار کی تکلیف کا سبب بننے والے پتھر ، کانٹے اپنے ہاتھ سے ہٹا دیا کرتے تھے کیا خادم حسین رضوی اور پریشر گروپ نے حکومت کے تو گھٹنے ٹیکوا دئیے کیا روز محشر اس نبی کو جواب دئیے سکیے گے جس کے نام پر جلاو گھراو کیا اور مزے سے چھ نومبر سے دھرنے کے اختتام تک جو سرکاری و غیر سرکاری املاک کا نقصان ہوا اس کی بھر پائی وفاقی و صوبائی حکومت کے ذمے ڈال چل دئیے اور اگر صوبائی حکومت نے وعدے کے مطابق لاوڈ اسپیکر ایکٹ ختم کرتے ہوئے ان عظیم انقلابیوں کولاوڈ اسپیکر کے زریعے فتنا و فساد کی اجازت نا دی تو پھر یہ کس سڑک پر نکل آیئں گے؟؟؟

وعدے کے مطابق نصاب بورڈ میں تحریک لبیک کے کے 2 نمائندے شامل ہوں گے جو نصاب میں قرآن کا ترجمہ اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و اکابرین امت کے اسباق شامل کریں گے ۔کیا حکومت نے سوچا ہے دیگر مسالک کے اکابرین کو اگر شامل نا کیا گیا ان کی فرمائش شامل نا ہوئی تو کیا ہوگا بہتر ہو گا سب ہی کا ایک ایک نمائندہ شامل کر کے اس نقطہ اعتراض کو اک ساتھ ہی ختم کر دیا جائے،یوم اقبال کی چھٹی کی بحالی کا وعدہ صرف پنجاب حکومت سے کیوں کیا اقبال سندھوں کے نہیں، سندھ حکومت سے نصاب میں ترمیم اور یوم اقبال کی چھٹی کی فرمائش کیوں نہین کی؟؟ اور کیا ہی کہنے کہ 25 نومبر کوہونے والے حکومتی ایکشن کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ کو اعتماد میں لے کر ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو تمام معاملات کی چھان بین کر کے حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا تعین کرے اور 30 روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ اس نقطے سے بہتر تھا کے حکومت خادم حسین رضوی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دیتی جو ذمےداران کا تعین کر کے بتا دیتی پھر یا حکومت ذمےداران کو ان لوگوں کے سپرد کر دیتی یا پھر ان کی مرضی کے مطابق سزا دے دیتی اور یوں اس معاملے کا خلاصہ ہو جاتا۔

اسلام آباد سمیت پنجاب میں لاک ڈاون اپنی جگہ حیران کن امر تو یہ ہے کہ وہ رینجرز جو کراچی میں دعوے کرتی رہی کہ کراچی لندن والے کے آسیب سے نجات پا گیا ہے اس نے نئے نامعلوموں کے ہاتھ ہفتے کے روز کراچی سونپ کر ڈیڑھ سال بعد مزے کی نیند لی، اور شام کو 7 بجے کے بعد جب آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ کچھ ڈنڈے والے شہر بند کروائے بٹھے ہیں خیر کیا کرتے یہ بیچارے جب ان سے کچھ نا ہو پایا جنھوں نے ملکی دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،،، مگر اس بار ان فسادیوں کے لیے ردالفساد کارگر نا ہوا جس کا جواب خود اسلام آباد ہائی کورٹ نے طلب کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گیا ان کا ’رد الفساد‘ یہاں ان کو فساد نظر نہیں آیا؟ یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پیچھے یہی تھے۔سیکشن 4 کے تحت انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال میں فوج بلانے کا اختیار حاصل ہے جبکہ سیکشن 5 کے تحت فوج انتظامیہ کا حکم ماننے کی پابند ہے۔انہوں براہِ راست فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے کیونکہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں ہیں اور جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ حکومت کی دی ہوئی بندوق واپس کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں اور سیاست کا شوق پورا کرلیں۔

خیر کوئی شوق پورا کرے نا کرے اپنی جگہ ان 21 دنوں نے ایک اور نئی سیاسی جماعت کی بنیاد ضرور رکھ دی گئی ہے۔ مجھے امید ہے 2018 کے لیے تحریک انصاف اور پی ایس پی کی ناکام لاونچنگ کے بعد یہ ایک کامیاب سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی گئی ہے جو پنجاب میں ن لیگ کی عددی برتری ختم کر کے اسے نکیل ڈالے گی وہی حسب ضرورت عمران خان کو کمک فراہم کرے گی، سندھ میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا گٹھ جوڑ کمزور کرے گی ۔ ورنا ختم نبوت کا معاملہ تھا تو پورے پاکستان میں لاک ڈاون کا سامنا اور انتشار صرف پنجاب و سندھ میں رہا کیا عاشقان رسول صرف پنجاب و سندھ میں بستے ہیں بلوچستان ، کے پی کے گلگت بلتستان میں نبی پر جان دینے والے نہین ہیں؟؟؟ اور کیا خادم حسین رضوی ضمانت دیں گے اس ماہ ربی الااول میں شہر بھر میں چراغاں چوری کی بجلی سے نہیں ہو گی؟ کیا کوئی معاہدہ کیا گیا کوئی ضمانت دی کہ موٹر سائیکل بائیک ریلی کے نام پر شہر میں شور وغل بپا نہیں ہوگا،

پیارے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مریضوں کا خیال کرتے ہوئے اسپتالوں کے باہر آواز اونچی نہیں ہوگی، ایمبولینس کا راستہ روکا نہیں جائے گا۔ کیا احسن اقبال اس معاہدے کے بعد گارنٹی دے گے کے اب دوبارہ کوئی دارالحکومت کو یرغمال نہیں بنائے گا؟ ویسے احسن اقبال کو سبق تو یاد رہے گا بڑے کروفر سے 2 اکتوبر کو کہا تھا رینجرز میرے ماتحت ہے لیکن اب ماتحتوں سے کام نا لے سکے پہلےمستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی اب ناکام آپریشن کے بعد استعفے کے پیچھے منہ چھپانے کی ضرورت ضرور ہے لیکن جاتے جاتے یہ ضرور بتا جائیں کے اب اگر کوئی اور اپنا مطالبہ لے کر آیا تو اسے بھی گھر کے داماد والا پروٹوکول ملے گا ؟؟ اور ہاں کورال تھانے میں درج 8 ماہ کے معصوم بچے کے قتل کا مقدمہ ابھی شروع نہین ہوا دونوں پارٹیز میں سے اس ماں کو جواب کون دے گا اس کا قاتل کون ہے یا یہ بھی ثالث طے کرے گا؟؟؟؟؟ خیر مجھے کیا کم از کم ملک میں جاری فساد سے نجات تو ملی اورملک کو ایک نئی سیاسی جماعت بھی جلد ملے گی سو انت بھلا تو سب بھلا۔