جعلی اکاوئنٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ

11

تحریر : حمزہ میر

سپریم کورٹ نے جعلی اکاوئنٹ کیس کا فیصلہ سنا دیا، بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا نام ایی-سی-ال سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی منی لانڈرنگ کا کین نیب کو بھیج دیا اور صرف دو مہینے کا وقت دیا اور ساتھ کہا کہاں سے آئے پیسے؟ کیا من سلوہ آیا کہیں سے؟ اومنی گروپ کیسے دنوں میں عربوں پتی بن گیا ایک شوگر مل سے 10 کیسے بن گئیں اور ان 32 اکاوئنٹ میں جو پیسے ٹرانسفر ہوئے ہو کہاں سے آئے اور اس کا بھی پتا چلایا جائے کہ کیسے سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے مخصوص پالیسیاں بنائیں اور کیسے آصف زرداری کے ملٹری سیکرٹری نے جعلی اکاوئنٹ کا پیسا آصف زرداری کے اکاوئنٹ میں ٹرانسفر کیا اور کیسے اسی پیسے سے آیان علی کے بیرون سفر کے آخراجات بھی برداشت کیے جاتے رہے،اومنی گروپ کے مالک کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس تھے ابھی بھی اکڑ کم نہیں ہوئی اس عبدالغنی مجید کی- بلاول بھٹو کے بارے میں جو ریمارکس تھے وہ اہمیت کے حامل تھے عزت ماب چیف جسٹس ثاقب نثار نے فرمایا بلاول تو بچہ ہے اور وہ تو صرف پاکستان میں اپنی والدہ کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے آئے تھے اور رپوٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ بلاول کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ جے-آئی-ٹی رپوٹ حرف آخر نہیں اور ساتھ ہی کہا کہ اگر نیب چاہیے تو وہ بلاول کو بلا سکتا ہے- ملک ریاض کے متعلق بھی فرمایا کہ حیرت ہے کہ اگراتنے ثبوت ہیں تو ملک ریاض کو گرفتار کیوں نہیں کیا ان کے خلاف بھی نیب کو ریفرنس بھیج رہے ہیں اور بتایا جائے کہ ملک ریاض جس چیز کو پکڑتے ہیں وہ سونا کیسے بن جاتا ہے اور جو زمین ملک ریاض کو دی گئی ہے سندھ حکومت کی اس کی بھی تحقیقات کی جاہیں اور بتایا جائے کہ اتنی مہربانی کیوں؟ جو لوگ اس فیصلے کو پانامہ فیصلہ سے منصوب کر رہے ہیں وہ غلط سائید پرہیں کیونکہ جب پانامہ کیس میں جے-آئی-ٹی بنی تو مسلم لیگ نواز نے جشن منایا لیکن جعلی اکاوئنٹ میں بننے والی جے-آئی-ٹی کو پیپلزپارٹی نے مسترد کیا تھا- پیپلزپارٹی کے جو لوگ اس فیصلے کو اپنی جیت کہ رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جے-آئی-ٹی کی حثیت ختم کر دی ہے ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول اور آصف زرداری کے وکلا لطیف کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک کے جو 4 مرکزی پوائنٹ رکھے جج صاحبان نے تمام پوائنٹ مسترد کر دیے 1- انہوں نے کہا کہ نام نکال دیں جج صاحبان نے ان کا یہ پوائنٹ مسترد کر دیا اور کہا کہ جن کا نام نکالنے کا کہ رہے ہیں ان پر ملک کے پیسے کو بردردی سے لوٹنے کا الزام ہی نہیں نلکے ثبوت نھی ملے ہیں تحقیقی اداروں کو 2- جے-آئی-ٹی رپوٹ کو مسترد کرنے کا کہا لیکن وہ بھی نہیں ہوئی 3- کیس ختم کرنے کا کہا اس کے جواب میں جج صاحبان نے کیس نیب کو بھیج دیا اور کہا 2 مہینے ہیں فیصلہ کریں اور کیس کو ترجیح بنیادوں پر رکھیں اور جلد سے جلد کیس میں پیشروت کر کے فیصلہ کریں جو لوگ کہ رہے ہیں کہ زرداری صاحب بچ جاہیں گے وہ لوگ ایک بار پھرغلط سائیڈ پر ہیں- ان لوگوں کے لیے ہی شاعر نے فرمایا ہے “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے