تبدیلی کیسے آئے گی

18

تحریر: حمزہ میر

مسلمان کسی نہ کسی دور میں کبھی سیاستدانوں تو کبھی اپنے ائدر موجود غدار لوگوں تو کبھی چالاک اور مکار لوگوں کی تیز و تنز باتوں میں آ جاتے ہیں۔ ماضی میں مغل بادشاہ اکبر بھی اپنے ہندو وزرا اور مشیروں کی باتوں میں آے اور اپنے مسلمان بہن اور بھای پر مظالم ڈھاے لیکن جب ان کے سامنے حقیقت آئ تو ان کے مزاج میں تبدیلی آئی اور اپنے دور اقتدار کے آخری دور میں اقتدار کی اہم کرسیوں پر اپنے مسلمان لوگ لگائے اور مسلمان لگانے کا مقصد ان تمام مظالم کا ازالہ کرنا تھا جو وہ اپنے مشیروں کی جھوٹ اور فریب پر مبنی باتوں میں آ کر اپنے مسلمان لوگوں پر کرتے تھے۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ مسلمان کبھی لڑنے سے گبھرایا نہیں کرتے اور کوئ بھی مسلمانوں کو جنگ کے میدان میں آج تک مات نہیں دے سکا چاہے بدر کا میدان ہو یا 1965 کی پاک بھارت جنگ مسلمان تعداد میں کم ضرور ہوتے تھے لیکن جب نعرہ لگتا تھا نعرہ تکبیر”  اَللّٰهُ أَكْبَر” تو جذبہ اور جنون خود آ جاتا تھا مسلمانوں کے اندر اور مسلمان اپنے مخالفوں کو شکست دے دیتے لیکن ایسے بھی ہوا کہ مسلمانوں کے جنگجو سپہ سالار اپنے لوگوں کی غداری کی وجہ سے ہار گے اور جب بھی غدار کا لفظ آتا ہے تو یزید، میر جافر، اور میر صادق جیسے بدبخت لوگوں کا نام خودساختہ زبان پر آ جاتا ہے۔ پاکستان کی اگر تاریخ کو غور سے دیکھا تو بہت سے میر جعفر اور میر صادق ملتے ہیں وہ چاہے حسین حقانی کی شکل میں ہوں یا شیخ مجیب کی صورت میں ہوں یا ملالہ یوسف جیسے ایجنٹ ہوں یا منظور پشتین جیسے ایجنٹ ہوں یا ایک مخصوص افٖغانی ٹولہ جو رہتا تو پاکستان میں ہے لیکن کام تو پاکستان کے مخالفوں کا کرتے ہیں ان جیسے لوگوں کو لگام ڈالنی ہو گئ تا کہ ملک کی داخلی صورت حال بہتر ہو اور کوئی ملک کی رٹ کو چیلنج نا کر سکے۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ کو چاہیے کہ ان جیسے لوگوں کو پکڑیں تا کہ ملکی حالات قابو میں رہیں، کپتان صاحب کرپٹوں کا احتساب بھی کریں لیکن ساتھ ان لوگوں کو بھی پکڑیں جب غداروں کو ملک سے باہر نکالیں گے کیونکہ غیرملکی انویسٹمنٹ ملک کی داخلہ صورت حال سے مشروت ہے اگر منظور پشتین اور ان جیسے دیگر لوگ جو ملک کے قانون کو چیلنج کر رہے ہیں اور ساتھ میں ملک کے حالات بھی خراب کر رہے ہیں وہ چاہے معروف مذبہی سکالر مولانہ سمیع الحق کا قتل ہو حاضر سروس  ایس پی طاہر داوڑ کا قتل ہو اور اس میں غدار اقغانیوں کا ملوث ہونا ہو اور دیگر واقعات ہوں سب واقعات ملکی سیکورٹی کو چیلنج کرنے کے متعرادف ہے ان لوگوں کی مدد کرنے والے کچھ لوگ ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ان کا بھی محاسبہ کریں اور ان کو اٹھا کے ملک سے باہر پھینکیں تا کہ ان جیسے غدار لوگوں سے ملک صاف ہو اور لوگ پاکستان کو ایک محفوظ ملک تصور کریں اگر ملک کے حالات قابو میں رہیں گے تو ملک کے معاشی حلات بھی بہتر ہوں گے دوسرے ممالک سے پاکستان میں سرمایا آے گا اور اس طریقے سے پاکستان کا جی ڈی پی ریٹ بڑھے  گا اور بے روزگاری میں بھی کمی آے گی کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر اور ترقی میں ملک کی سیکورٹی اہم ہوتی ہے اس لیے ہمارے ملک کی سیکورٹی اہم ہے اور وزیراعظم کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔۔