اپوزیشن جماعتوں کی ہلچل اور پارلیمنٹ

17

تحریر: حمزہ میر

پارلیمنٹ یعنی ایوان اقتدار ہر اسی ملک کے لیے اہمیت کا حامل ہے جہاں صدارتی نظام حکومت رائج نہیں اور براہ راست ملک کے سربراہ کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ پہلے لوگ ایوان اقتدار کی سیٹوں پرممبرمنتخب ہوتے ہیں پھر ملک کے سربراہ کا انتخاب ہوتا ہے- ایوان اقتدارکسی بھی ملک کی تقدیر کا تعین کرتی ہے، یہ ایوان ملک کا آئین بناتا ہے اسی ایوان اقتدار میں ہی قانون بنتا ہے، اسی پارلیمنٹ میں ملک کی خارجہ پالیسی،دفاعی پالیسی،داخلہ پالیسی اورمعاشی پالیسی پر بات چیت ہوتی ہے اور مشورے بھی دیے جاتے ہیں،ملک کا سالانہ بچٹ بھی اسی ایوان سے منظور ہوتا ہے اس میں آنے والے لوگ براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں اور یہ منتخب لوگ مل کر ملک کے وزیراعظم کا چناو کرتے ہیں- پاکستان کی پاک دھرتی بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ملک کا سربراہ  براہ راست نہیں منتخب ہوتا بلکہ پہلے اسمبلی کے ممبر بنتے ہیں پھر ملک کے سربراہ بنتے ہیں پاکستان کے ایوان اقتدار کے ممبران کی تعداد 342 ہے لیکن 272 سیٹ پر لوگ براہ راست منتخب ہو کر آتے ہیں- پاکستان کی موجودہ حکومت تحریک انصاف کی ہے اور عمران خان ملک کے سربراہ یعنی وزیراعظم ہیں اور پاکستان کی ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسے ہوا ہے کہ کسی حکومت کو ایوان اقتدار میں اتنی مشکل اپوزیشن ملی ہو- حکومت اور اپوزیشن میں صرف 12 ووٹ کا فرق ہے تحریک انصاف کے پاس 372 میں سے 177 سیٹ ہیں اور اپوزیشن کے پاس 165 سیٹ ہیں اس لیے اپوزیشن حکومت کو تنگ کر رہی ہے لیکن اصل مسلہ یعنی “گل وچ اور اے” اپوزیشن کے بڑھے لوگوں پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیس ہیں زرداری صاحب پراربوں کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے کیس ہیں اور دوسری طرف جاگ پنجاب جاگ کا نعرہ لگانے والے نوازشریف دلدل میں پھنسے ہوے ہیں ان پر العزیزہ اور فلیگ شپ ریفرنس کیسز آخری مراحل میں ہیں اور فیصلہ چند روز کی دوری پر ہے اور میاں صاحب کا وہ گروپ پھر میدان عمل میں آ گیا ہے جو رات کے اندھیروں میں میاں صاحب کے لیے سیاسی طور پر حالات سازگار بناتے ہیں دوسری طرف خود کو مفاہمت کا بادشاہ سمجھنے والے آصف ذرداری بھی کچھ عناصر کے ذریعے پیغام بھیج رہے ہیں کہ معافی دے دو لیکن وزیراعظم عمران خان تو کرپٹ اور چوروں کا احتساب کرنے میدان میں آے ہیں اور لوگوں نے ووٹ بھی اسی کاپ کے لیے دیے ہیں خان کو اور ملک پاکستان میں بےرحم احتساب کا عمل شروع ہو گیا ہے کوئی بھی ہو حکومتی شخصیت ہو یا اپوزیشن کا کوئی فرد بلا تفریق احتساب کا عمل جاری ہے اور اپوزیشن کو بھی اسی چیز کی تکلیف ہے ویسے اپوزیشن میں ایسے لوگ بھی ہیں جن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں جن میں احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا تنویر،شاہد خاقان،اویس لغاری، عبدرالرحمان کانجو،عثمان ابراھیم،پرویز ملک،سید نوید قمر،شہلا رضا،رضا ربانی، قمرالزماں کائرہ، چوہدری منظوراوران جیسے مزید یہ لوگ خود کہتے ہیں اگر کوئی کیس ہے تو ہم حاضر لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جن پر کیسز ہیں جن میں رانا مشہود،میاں مجتباح شجاع الرحمان،خواجہ سعد رفیق،خرم دستگیر،اظہر قیوم ناہرہ،اسحاق ڈار،ناصر حسین شاہ، مراد علی شاہ،آغا سراج درانی اور ان لوگوں کو فکر ہے کہیں ان کی منجی ٹھک نا جائےاس لیے اپوزیشن کی بڑھی جماعتیں ایک اور میثاق جمہوریت کرنی جا رہی ہیں یہ میثاق جمہوریت اپنی کرپشن بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں جب پوچھا جاتا ہے پیسا کہاں سے آیا تو وہاں پر بلاول کہتے ہیں ان کا زرداری گروپ کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں وہاں رے ربا کیا دور آ گیا ہے اور دوسری میاں نواز شریف کہتے ہیں ان کا حسین نواز کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں- عمران خان کسی کرپٹ اور چور کو بخشنے کو طیار نہیں اس لیے اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دے رہی ہے اور اتحاد بھی بن رہے ہیں کسی طرح کوئی ارہ فرار مل جاے اور اسی مقصد کے لیے جو آزاد ممبر اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ان کی بولی لگائی جا رہی ہے اور یہ ممبر اپنی بولی خود لگوا رہے ہیں اور اس سے حکومت کے لیے کچھ مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور بی-این-پی (مینگل) جو حکومتی اتحادی ہے ان کے بھی حکومت سے معملات خراب ہو رہ ہیں اور متحدہ قومی مومنٹ کے بھی حکومت کے ساتھ معملات خراب ہو رہے ہیں اور یہ سب اس لیے ہو رہا کہ بلا تفریق احتساب ہو رہا ہے اور ملک کی دولت لوٹنے والوں سے پیسے واپس لینے کا عمل شروع ہو رہا ہے اور اس لیے تمام جماعتوں میں کرپٹ لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں۔