اور وزیراعظم ڈٹ گئے!!!!

16

کالم نگار : حمزہ میر

عمران خان وزیراعظم بن تو گئے ہیں لیکن جس دن سے عمران خان وزارت عظمی کی کرسی پر برجمان ہوئے ہیں تو اپوزیشن میں موجود ایک بڑی گن آصف علی زرداری نے عمران خان کو وزیراعظم ہاوس سے بنی گالا ان کے گھر واپس بھیجنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور اس تیاری میں اس وقت تیزی آئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی بینک اکاوئنٹ کیس میں جے-آئی-ٹی بنانے کا فیصلہ دیا اورعمران خان نے بھی صاف اور واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کسی کو کوئی ڈیل نہیں ملے گی اور احتساب کے معملے پر کسی سے کوئی مفاہمت نہیں ہو گی کیونکہ عمران خان کو مینڈیٹ بھی کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کا ملا ہے اورجب جعلی اکاوئنٹ کیس میں بننے والی جے-آئی-ٹی رپوٹ سامنے آئی اور اس میں خوفناک انکشافات کیے گئے اور جے-آئی-ٹی نے ثبوتوں کے ساتھ بتایا کیسے تمام جعلی اکاوئنٹ کے پیسے کا فائدہ آصف زرداری کو ہوا اور کیسے پیسے آصف زرداری کو بھیجے گئے اور کیسے مختلف بینکوں میں 32 جعلی اکاوئنٹ بنائے گئے اور ملک کا پیسا لوٹ کر باہر بھیجا گیا جے-آئی-ٹی نے صاف طور پر واضح کیا کہ پیسا آصف زرداری کی فرم پارک لین کو بھیجے گئے لیکن پیسا براہ راست نہیں بھیجا گیا بلکہ ایک فرضی کمپنی بنائی گئی اور اس کمپنی کو بھیجے گئے اور تقریبا 535.5 ملین بھیجے گئے اور ملک ریاض کے داماد زین ملک نے بھی 266 ملین بھیجے- جب یہ تمام تفصیلات سامنے آئیں تو مفاہمتی سیاست کے بادشاہ آصف زرداری جو کہ پہلے مسلم لیگ نواز اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو “نو لفٹ” کا پیغام بھیجتے نظر آتے تھیں لیکن جے-آئی-ٹی رپوٹ کا آنا تھا زرداری صاحب نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور “نو لفٹ” سے مفاہمت پر آ گئے اور متحد ہونے کا مشورہ دینے لگے اور پھر یہ شعر میرے زہین میں آیا “بدلتے ہیں آسمان رنگ کیسے کیسے”- مسلم لیگ نوز نے بھی نخرے دیکھانے شروع کر دیے اور پھر ہمارے سب کے محبوب مولانہ فضل الرحمان میدان مفاہمت میں آئے اور پل کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا اورکوٹ لاکھپٹ جیل میں بھی ایک اہم ملاقات ہوئی نوازشریف اور مخدوم احمد محمود کے درمیان اور اس میں مخدوم صاحب نے میاں صاحب کو کہا زرداری صاحب پچھلے تمام واقعات کے لیے معذرت خوا ہیں اور حالات کا تقاضا بھی یہ ہے کہ متحد ہونا چاہیے لیکن میاں صاحب نے اس وقت کوئی جواب نا دیا اور مخدوم صاحب کو کہا کہ اب میرے پاس رہ کیا گیا ہے جیل مجھے ہو گئی اور بیٹی بھی میرے ساتھ جیل میں بھی گئی، حکومت میری گھر بھیج دی گئی اب میرے لیے کیا رہ گیا لیکن اس دوران خواجہ آصف اور رانا تنویر نے میاں صاحب کو منایا اور کہا کہ بات مان لیتے ہیں زرداری صاحب کی لیکن بڑھے بھائیوں کے خلاف بات نہیں کرنی زرداری صاحب کو فرنٹ فٹ پر کھیلنے دیں ہم صرف ان کو بیک فٹ پر سپوٹ کرتے رہیں گئے اس طرح زرداری کے ساتھ بھی معملات ٹھیک رہیں گئے اور ہمارے “رانجھا جی” بھی ہم سے راضی ہو جائیں گے- لیکن اس تمام تر منت سماجت اور کوششوں کے باوجود بڑے بھائی راضی نہیں ہو رہے کیونکہ بڑے بھائی بھی چاہتے ہیں کہ ملک کا لوٹا ہوا پیسا واپس ملک میں آنا چاہیے کیونکہ ملکی خزانہ اس وقت تقریبا خالی ہے-اگرملک خداد پاکستان کو قائم رکھنا ہے تو احتساب ہونا ضروری ہے اور بڑے بھائی اس وقت وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہیں اورعمران خان نے بھی صاف اور واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کسی کو کوئی ڈیل نہیں ملے گی اور احتساب کے معملے پر کسی سے کوئی مفاہمت نہیں ہو گی کیونکہ عمران خان کو مینڈیٹ بھی کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کا ملا ہے ملنے لیکن عمران خان کے ساتھیوں خاص طور پر ان کی کچن کابینہ کے لوگ احتساب کو اپنے بیانات سے مشکوک بنا رہے ہیں اور اپوزیشن کی بات کو مضبوط کر رہے ہیں اور ان وزرا کے بیانات کی وجہ سے اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقع مل رہا ہے اور عمران خان کی کچن کابینہ جن میں فواد چودھری،نعیم الحق، افتخار درانی،مراد سعید،فیصل واوڈا،شیری مزاری شامل ہیں ان کے بیانات کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے انہی واقعات کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے ایک اور میثاق جمہوریت کر لیا اور اس طرح ایک اور میثاق جموریت کی ابتدا ہوئی اور اس میثاق کے ہونے میں پل کا کردار فضل الرحمان نے کیا اور اس اتحاد کا اصل مقصد دراصل زرداری صاحب اور شہبازشریف عمران خان اور تبدیلی سرکار پر پریشر ڈالنا چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز بند کر دیے جایئں لیکن وزیراعظم عمران خان ایک نیازی پٹھان ہیں اور وہ اپنی ضد کے پکے ہیں اور ان کی ضد ہے کہ کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا ہے اور ملک کا پیسا لوٹنے والوں کو بےنقاب کرنا ہے اور ان سے پیسے واپس لینے ہیں کیونکہ اب ملک کو بدلنا ہے-