الوادع اور شکریہ چیف جسٹس ثاقب نثار

17

کالم نگار: حمزہ میر

  سن دو ہزار سات کے بعد پاکستان کے عدالتی نظام میں تبدیلی آئی جب اس وقت کے صدرپاکستان پرویزمشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخارچودھری کو گھر بھیج دیا، وجہ تھی جب پرویزمشرف نے آئین توڑا تو انہوں نے اقتخار چودھری کو خلاف قانون پی-سی-او کے تحت حلف اٹھانے کا کہا لیکن اس مرد قلندر نے حلف اتھانے سے صاف انکار کر دیا تو ان کو گھر بھیج دیا اور ان کی جگہ ایک ڈمی حمید ڈوگر کو چیف جسٹس بنایا لیکن پھروکیل اور جج اکھٹے ہوئے اور انہوں نے عدلیہ بحالی کی تحریک چلائی اور قوم اور سیاسی جماعتیں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیں اور مسلم لیگ نواز نے تو اس تحریک کو اپنا سیاسی نعرہ بنایا-جب 2008 میں پیپلزپارٹی اقتدارمیں آئی اور مرشد یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے، وزیراعظم منتخب ہوئے تو اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے عدلیہ کو آزاد کرنے اور اقتخارچودھری کو بحثیت چیف جسٹس بحال کر دیا لیکن یہ علان صرف علان ثابت ہوا،بعد میں لانگ مارچ  کے ذریعے عدلیہ بحال ہوئی اور ثاقب نثار بھی ان تمام جج صاحبان میں شامل تھے جو مرد میدان جج صاحبان میں شامل تھے جنہوں نے مشرف سے حلف نہیں لیا تھا-اقتخار چودھری،ناصرالملک،تصدق حسین جیلانی،جسٹس جواد خواجہ سے شروع ہونے والا سفر ابھی بھی جاری ہے جسٹس ثاقب نثار موجودہ چیف جسٹس ہیں اور بہت ہی دبنگ جج ہیں ملک ریاض جیسے شخص جس پر کوئی سرکاری ادارہ ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اس کو کورٹ میں بلایا اور اس کو کٹھہرے میں بھی کھڑا کیا اور پوچھا جواب دو کہاں سے آیا تمھارے پاس پیسا-جعلی اکاوئنٹ کے خلاف بھی کیس چلانے کا حکم دیا اور اس میں بھی سندھ کے وڈیرے اور جاگیرداروں پر بھی ہاتھ ڈالنے کا حکم دیا اور آصف ذرداری کے خلاف کیس چلانے کا آغاز کیا یہ وہ لوگ تھے جن کے خلاف کوئی محکمہ کیس بنانے کا سوچ بھی نہیں تھا لیکن اس مرد قلندر ثاقب نثار نے ان کے خلاف کیس بنانے کا حکم دیا- پھرلاہور کے بڑھے قبضے مافیہ ملک افضل کھوکھر کے خلاف بھی کاروائی کا حکم دیا- اس کے علاوہ مختلف پرائیوٹ سکولز جنہوں نے طالبعلموں کے والدین کا جینا مشکل کر دیا فیصوں میں فضول اضافہ کیا جس کا چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور فیس میں کمی کا علان کیا اور حکم دیا کہ اضافی فیس آئیندہ فیس میں ڈال دی جائے اور موبائل کارڈ پر بھی لگایا گیا ٹیکس بھی ختم کر دیا- جو انہوں نے ڈیم کے حوالے سے کام شروع کیا وہ بہت بڑا کام ہے اور یہ کام تا قیامت یاد رکھا جائے گا- ثاقب نثار صاحب نے بہت سے ایسے کام کیے جو دیر تک یاد رکھے جائیں گے ثاقب نثار نے بہت سے حکم دیے جس کی وجہ سے لوگ ان کو یاد رکھا جائے گا اور شاعر نے ایسے ہی شخص کے لیے شعر لکھا ہے جب ہم نا ہوں گے تو دنیا یاد رکھے گی ہمیں