احتساب | شور برپا ھے

48

پاکستان 1947 ء میں دنیا کے نقشے پر نمودار ھوا۔ 70 برس ملکوں کے حوالے سے کوئ بڑی عمر تصور نہیں کی جاتی۔ قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد ایک جدید فلاحی ریاست کا جو تصور پیش کیا تھا اس کی تکمیل کے لئے یہ بات زور دیکر کہی تھی کہ ہمیں اس ٹصور کو حقیقت میں بدلنے کےُلئے جلد از جلد آئین مرتب کرنا ھوگا۔ مگر بد قسمتی سے کوئ مکمل آئین ہم بروقت بنانے میں ناکام رھے اس کی کئ ایک اجوھات ھونگی۔ ایک تو تقسیم ھند ک ساتھ ہی قائد اعظم کو دو اہم داخلی شوزشوں سے سابقہ پڑا ایک بلوچستان میں ریاست قلات اور دوسری مقبوضہ جموں کشمیر جو بعد ازاں پاک بھارت جنگ کا باعث بنی۔ لہذا اس صورت حال سے غیر آئینی قوتوں کو تقویت ملی ۔

یہ بات بھی اہم ھے کہ پاکستان میں 1973ء کے متفقہ آئیں سے پہلے جتنے بھی آئین بنائے گے وہ کسی بھی طور سیاسی اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ہن تھے بلکہ وقت کے آمروں نے انہیں اپنی حکومتی ادوار کو طوالت دینے اور سیاسی مخالفین کو زد کرنے کیلئے بنایا۔۔۔

یہ بات طے ھے کہ اگر آئین و قانون کی بالادستی میں حکومت اور عوام پروان چڑھیں تو نتیجے کے طور پر ملکی ترقی جزو اوّل اور انفرادی عوامی خوشحالی ثمر ثانی ابھر کر سامنے آتے ھیں۔ اور ھر دو ان ثمرات کو قدرو اہمیت پہچانتے ھوے ملکی وقار کو مقدم جاننے لگتے ھیں۔

قائد نے جہاں آئین کی اہمیت پہ زور دیا وھاں کرپشن اور بد عنوانی کو بھی زہر قاتل کہا۔ اور اس کا بر وقت صد باب کرنے کو نصیحت کی۔
پاکستان میں آج تک احتساب کے نام سے کئ قوانین اور محکمے بنائے گے۔ کئ آمر حکمرانوں نے اپنی حکومتوں کو طوالت دینے کی خاطر عوام کو کڑے احتساب کی نوید سنائ۔ مگر وہ کبھی جدہ معاہدہ بنی کبھی NRO. اور کبھی صرف کڑا آحتساب کا نعرہ مستانہ۔

اگر ایمانی بات کریں تو کرپشن اور بدعنوانی کے اس حمام میں کون ننگا نہیں۔ کیا سیاستدان کیا افسر شاہی کیا قانون دان اور کیا فوجی افسران۔۔ اور یہ سب کوئ ڈھکے چھپے بھی نہیں بلکہ سینہ تان کر ملک میں قابل عزت ہونے کے حوالے رکھتے ہیں۔ کئ ایک کی چاندی اجڑی کیمپ کے اجڑنے سے ہوئ کسی کو کِک بیکسس نے کو NLC میں کامیاب ہوا کو مسٹر % 10بنا کچھ نے کوٹے لئے اور کوٹے بیچے۔ اور کچھ نے تو حساب کتاب ہی کو پیچھے پھینک کر اپنے منشی رکھ کر مہاجنوں کی طرح پوری عوام کے انگوٹھے ہی چھاپ لئے۔ مگر ان سب کی اہمیت کم نہ ھوئ بلکہ مزید بڑھ گئ۔ بدعنوان سیاست دان حکومتی ناگزیر بن گے قانون دان قانون کے رکھوالے اور فوجی افسران فوج سے نکلے تو افسر شاہی کے مزے لینے لگے یا پھر سیدھا سیاست میں آکر خدائ خدمتگار بن بہٹھے۔ کس کس کو دیکھو گے بھائ۔۔ ایسے میں کڑا احتساب لوں اور کیسے کریگا۔

حال ہی میں ایک نئے احتساب کو روش ابھری ھے جو سیاسی میدانوں اور دھرنوں کی پیداوار ھے۔ جس نے الزام لگانے والے اور الزام کی زد میں آنے والے ہر دو ہی کو جکڑ تو نہیں ھاں پکڑ ضرور لیا ھے۔ امر واقعہ یہ ھے کہ ھر دو نے صحت جرم سے انکار کیا ھے اور ھر دو ہی کوئ قابل اعتماد ٹھوس ثبوت عدالت میں فراہم کرنے میں ناکام نظر آئے ہیں۔ معزز عدلیہ کے فیصلے سے پہلے عدلیہ کے گُن گانے والے اب فیصلہ آنے کے بعد اسی عدلیہ کو بر سرعام گالیاں دے رھے ہیں اور مظلومیت کے آنسو بہا رھے ہیں۔ دوسری سائڈ کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ھے اور وہ بھی پہلووں کی طرح عدلیہ کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرنے کا دعوہ تو کر رھی ھے دیکھیں کیا ھوتا ھے۔

معزول سابق وزیراعظم میاں نواز شریف یہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام بہت ہی سادہ بھولے اور جذباتی ہیں لہذا وہ مقدمات کی صحت پر توجہ دینے کی بجائے عوامی جذبات سے کھیلنے کی طرف زیادہ مائل ھیں اور خوب عوامی جذبات کو بھڑکا رھے ہیں ۔ قرینِ قیاس یہی ھے کہ ان کے پاس عدالت میں اپنا دفاع کرنے کےُلئے کچھ نہیں ھے لہذا عوام کو ہی اس آگ میں جھونک دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ اور اگر واقعی عدلیہ کا رویہ میاں صاحب آپ سے جانبدارانہ ھے تو آپ میڈیا میں post court appearance خرافاتی خطاب کی بجائے اپنے دفاعی ثبوت میڈیا میں دیکر سرخرو ھو جائیں۔ مگر ایسا معلوم ھوتا ھے کہ تین تین جگہ موقع ملنے کے باوجود آپ میاں صاحب عدالت میں کچھ بھی نہ دے پائے جیسا کہ عدالتی فیصلوں میں لکھا گیا ھے اور ایسا درست ھے کیونکہ آپ نے جو انتشار کا راستہ اختیار کیا ھے وہ تو کچھ ایسا ھی بتا رھا ھے۔
اب میڈیا کا بھی عجیب رویہ ھے پہلے احتساب کا شور اور اہمیت اور اب جب یہ

سلسلہ چل نکلا ھے تو case analysis اور prime time rating. بھائ میڈیا مالکان۔ اگر احتساب کا اونٹ چل نکلا ھے تو پھر اسے کسی کروٹ بیٹھ جانے دیں اور اپنی توجہ صرف رپورٹنگ کی حد تک محدود رکھیں ھر پیشی کے بعد ملزمان کی لغو گالی گلوچ سے بھرپور بے معنی بیان براہ راست نشر کرنا قانون کے راستے میں حائل ھونے کے مترادف ھے اس سے انصاف اور قانون کے تقاضوں روگردانی ھوتی ھے اور عوام کی رہنمائ نہیں ھوتی بلکہ مجرمان کو تقویت ملتی ھے۔۔۔ خوداحتسابی ھی حقیقی احتساب ھے